05 September 2010 - 15:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1797
فونت
سید حسن الموسوی :
رسا نیوزایجنسی - جموں وکشمیرانجمن شرعی شیعان کے سربراہ ، سید حسن الموسوی المصطفوی نے پاکستان کے حالیہ خودکش حملے میں پاکستان دشمن قوتوں کو مسلکی تشدد کی ھلاکت خیز اگ بھڑکانے میں سرگرعمل بتایا ۔
سيد حسن الموسوي

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، حریت کانفرنس کے رھنما ، سید حسن الموسوی المصطفوی نے پاکستان میں شیعوں کے اجتماعات پر پے درپے خود کش حملوں اور وسیع پیمانے پرھلاکتوں کو عالم اسلام کے لئے ایک روح فرساء صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا : پاکستان کی سالمیت اور امن کو دربرھم کرنے کے لئے فسطائی طاقتوں نے اس ملک میں اپنے نیٹ ورک کو وسیع اورمضبوط کردیا ہے۔

انہوں نے کہا : ۲۱ رمضان کو جلوس علی (ع) اور جمعت الوداع کو یوم قدس کے جلوس پر حملے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان دشمن قوتیں اس ملک میں مسلکی تشدد کی ھلاکت خیز اگ بھڑکاکر پاکستان کو خانہ جنگی کے دلدل میں پھنسانے کی کوشش میں مصورف ہیں تاکہ یہ نظریاتی ملک دنیا کی محکوم ومظلوم مسلم قوموں کی حمایت میں اواز بلند کرنے کی حیثیت میں نہ رہے۔

انہوں نے ان حملوں میں کثیر تعداد میں شیعوں کے مارے جانے اور زخمی ہونے پہ شدید صدمے کا اظھار کرتے ہوئے کہا : پاکستانی حکمراموں کی ذمہ داری ہے کہ ان دھشت گردوں کو جلد ازجلد گرفتار کرکے انہیں سخت سے سخت سزادیں اور ملک کی امنیتی صورت حال کوبحال کریں ۔

دوسری جانب امروہہ میں اس حادثہ کولیکر شیعہ کافی حد تک برھم ر ہے اور انہوں نے پاکستان کے خلاف صداے احتجاج بلند کیا ۔

امروہہ کی جامع مسجد میں نماز ظھرین کے بعد نمازیوں نے سڑک پر نکل کرجم کر پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی ۔

امام جمعہ سید محمد سادات نے اس افسوس ناک حادثہ کو انسانیت کے خلاف بتاتے ہوئے حکومت پاکستان ان حوادثات کا ذمہ دارٹھرایا اور کہا : مذھبی جلوسوں کی حفاظت کرنا حکومت کا وظیفہ ہے مگرابھی تک پہ درپہ حوادث اس بات پہ شاھد ہیں حکومت پاکستان اس سلسلے میں نااھل وناکام رہی ہے۔

انجمن رضاکاران حسینی نے شھادت حضرت امام علی علیہ السلام کے موقع پر نکلنے والے تابوت کے جلوس پر خود کش حملے کو لیکر غم وغصہ کا اظھار کرتے ہوئے پاکستان سفارت خانے میں خط بھیج کر مطالبہ کیا کہ حادثے کے ملزمین کو جلد ازجلد سخت سے سخت سزا سنائی جائے اور حکومت پاکستان مذھبی جلوسوں کی حفاظت کا مناسب بندوبست کرے۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬