09 September 2010 - 14:27
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1810
فونت
عید فطر کے خاص اعمال واحکام ہیں کہ ان میں سے زکات فطرہ جو ھر با بضاعت بالغ وعاقل مسلمان پرواجب ہے اس تحریر میں فطرے سے مربوط کچھ مسائل کے سلسلے میں گفتگو کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔
عيد فطراورفطره

لفظ فطرہ کے اھل لغت نے متعدد معنی کئےہیں ان میں سے اھم ترین معنی خلقت و اسلام کے ہیں اور اصطلاح میں فطرہ اس زکات کو کہتے جسے ھر مسلمان اپنے اور اھل خانہ کی جانب سےیا جن لوگوں کا خرچ اٹھاتا ہے مستحق کو دیتا ہے ۔

فطرہ چوں کہ انسان کے جسم وروح کی سلامتی کا باعث ہے اسے زکات بدن یا فطرہ کہتے ہیں ۔

دینی اور مذھبی کتابوں میں زکات فطرہ کا فلسفہ و متعدد فوائد بیان کئےگئےہیں جس میں سے روزے کا جزء 1، روزے کی قبولیت کا وسیلہ 2، ایک سال تک انسان کو موت سے نجات دلانے کا ضامن، 3 جسم روح کی سلامتی کا سبب ، برے کرادر سے روح کی طھارت کا باعث 4، اورزکات مال کو مکمل کرنےوالا ہے 5 کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔

ھربا بضاعت مسلمان پر پر واجب ہے کہ وہ غروب شب عید فطر سےپہلے اپنا اور اپنے اھل وعیال کا فطرہ نکال دے اور ھر کوئی اپنی روزمرہ کی کھانے والی غذا کی نوعیت میں سے تین کیلو گندم ، جو ، خرما ، کشمش ، چاول ، ذرت ، مستحق کو ادا کرے ۔

اس سلسلے میں کہ کون لوگ نان خور محسوب کئے جاتے کچھ ابہامات موجود ہیں جس سے افراد وافق نہی کہ ان کا فطرہ دینا ان کی ذمہ داری ہے یا نہی ،ھم یہاں پہ اھم ترین اٹھے والے سوالات کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔

ھاسٹل میں رہنے والے طلباء کا فطرہ :

تمام مراجع کرام نظرمیں : اگر ان طلباء کے مخارج ان کے ماں باپ پورا کرتے ہوں تو یہ اپنے ماں باپ کے نان خور محسوب ہوتے ہیں اور اگر طالب علم مستقل ہو اوراپنے مخارج وہ خود اٹھاتا ہو تو فطرہ کا بھی وہ خود ہی ذمہ دار ہے ۔ 6

اوروہ طالب علم جو ھاسٹل میں مفت میں رہتے ہوں اور یونیورسٹی کی جانب سے انہیں مفت کھانا ملتا ہو تو اس سلسلے میں تمام ایات عظام بجز ایت اللہ صافی گلپائگانی ، ایت اللہ مکارم شیرازی ، ایت اللہ نوری ھمدانی کا کہنا ہے کہ فطرہ خود طالب علم پر واجب ہے ۔

زوجہ اور اولاد کا فطرہ کا :

زوجہ کا نفقہ ھر انسان پر واجب ہے مگربعض حالات میں ابہامات موجود ہیں کہ اگر کسی لڑکی کا عقد کردیا گیا ہواور رخصتی نہ ہوئی ہو اس جگہ تمام مراجع کرام کا نظریہ یہ ہے کہ اسکا فطرہ ماں باپ کےاوپرہی ہے ۔ 7

اور اسی طرح اس عورت کا فطرہ جو مخارج زندگی کے تامین میں اپنے شوھر کی مدد کرتی ہے 8 اور اسی طرح وہ بیوی جو شوھرکو اپنی نزدیک انے سے روکتی ہے 9 اگر کوئی اسکی زندگی کا خرچہ پورا نہ کرتا ہو تو فطرہ خود اس کےشوھرپر ہے ۔

اگرکوئی ادمی فطرہ نہ دیتا ہو تو اس کے بیوی ، بچے پر فطرہ دینا واجب نہی ہے الا آیت اللہ سیستانی اور ایت اللہ ناصر مکارم شیرازی کےبرخلاف کہ یہ حضرات احتیاط واجب کی بنیاد پر فطرہ دینا ضروری جانتےہیں ۔ 10

مہمان کا فطرہ :

شب عید فطرمیں ائے ہوئے مہمان کا فطرہ کس کے اوپر ہے ؟ اس مسئلہ میں مختلف فرضیے ہیں جس میں دقت کی ضرورت ہے ۔


اگر مہمان شب عید فطرمیں اذان مغرب سےپہلے ائے تو مراجع کرام کی نظر میں مہمان کا فطرہ میزبان پر نہی ہے 11 اور اگر مہمان غروب شب عید فطرسے پہلے ائے اور صبح تک رہے تواس کا فطرہ کس کے ذمہ ہے ، اس سلسلے میں فقھاء کے درمیان اختلاف ہے کچھ لوگ میزبان کے ذمہ جانتے ہیں 12 تو کچھ دیگرفرماتے ہیں کہ اگر صبح تک قیام کرے تو میزبان کے اوپرہے 13 اس کے برخلاف کچھ دیگر فقہاء اسے نان خور محسوب نہی کرتے اورفطرہ کا ذمہ دار میزبان کو نہی مانتے۔ 14

زکات فطرہ کا مصرف :

اس سلسلے میں مختلف قسم کے سوالات موجود ہیں مختصرا یہ کہ فطرہ اسےدیا جائے جو محتاج ہواورمحتاج ان افراد میں سے نہ ہو جسکا نفقہ خود انسان پر واجب ہے جیسے ماں ، باپ ، بیوی اور بچے ۔

تمام مراجع کرام معتقد ہیں کہ فطرہ لینے والے کو عادل ہونا ضروری نہی ہے ہاں جو لوگ کھلم کھلا گناہ کبیرہ کرتےہوں انہیں فطرہ نہی دینا چاھئے ۔ 15

ثقافتی امورمیں فطرہ کی رقم کا استعمال :

ثقافتی اورمذھبی امورمیں فطرہ کی رقم کے استعمال کے سلسلے میں ایات عظام میں سے امام خمینی (رہ) ، محمد تقی بهجت، جواد تبریزی، خامنه ای، فاضل لنکرانی ، نوری ھمدانی کا کہنا ہے کہ نشر معارف دین کے راہ میں فطرہ کی رقم کا استعمال جائز ہے مگر بہتر ہے کہ فقراء ومساکین کو دیا جائے اور ایات عظام میں سے سیستانی، ناصرمکارم شیرازی ، وحید خراسانی قائل ہیں بناء پر احتیاط واجب فقیر کو ہی دیا جائے ۔ 16

فطرہ نکالنے کا وقت :

فطرہ نکالنے کے وقت کے سلسلے میں بیان کیا گیا ہے اگر شخص نماز عید فطر پڑھتا ہے تو احتیاط واجب کی بنیاد پرنماز عید فطر سے پہلے فطرہ ادا کردے یا کنارے کردے اور اگر نماز عید نہی پڑھتا ہے تو ظھرتک فطرہ نکالنے کا موقع ہے ۔17

انتہاے سخن اس امید کے ساتھ کہ خداوند متعال نے اپنی عنایتوں کی بناء پرھمیں ماہ مبارک رمضان میں اپنی مہمانی میں قبول کیا اورھم بندوں کا وظیفہ ہے کہ شکرانے کے طورپر نماز عید فطرکو ادا کرکے اور فطرے کو دے کر عملا شکر پرودگار بجالائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع :

1- من لایحضره الفقیه، ج 2،باب الفطره، ص183

2- همان، ص183

3- کافی، ج 4، باب الفطره، ص174

4- مستدرک الوسائل الشیعه،ج7، ابواب زکاه الفطره، ص137

5- وسائل الشیعه، ج9، ابواب زکاه الفطره، ص318

5- العروه­الوثقی، ‌زکات الفطره، ‌ج2 ، ‌فصل2، مسئله2

6- توضیح المسائل مراجع، م2008

7- العروه الوثقی،ج2،زکات الفطره، الفصل الثانی، م3

8- همان

9- توضیح المسائل مراجع،م 2006

10- توضیح المسائل مراجع، م،1997با اختلاف اندک آیت الله سیستانی

11- آیات امام و نوری، توضیح المسائل مراجع م1995

12- آیات تبریزی، سیستانی، وحید

13- آیات خامنه ای، فاضل

14- آ‎یه الله صافی

15- توضیح المسائل مراجع، م2016،1946

16- توضیح المسائل مراجع،م19259

17- توضیح المسائل مراجع، م2029

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬