13 September 2010 - 19:04
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1817
فونت
رسا نیوز ایجنسی - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید سعید فطر کی مناسبت سے عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی کی درخواست کی بنا پر عام عدالتوں، انقلاب اسلامی عدالتوں اور فوجی اور خصوصی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کی سزاؤں میں تخفیف اور عفو سے موافقت کی ہے۔
رہبر معظم نے عید سعید فطر کی مناسبت سے سزاؤں میں عفو سے موافقت کی

رسا نیوزا یجنسی کی رھبر معظم کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید سعید فطر کی مناسبت سے عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی کی درخواست کی بنا پر عام عدالتوں، انقلاب اسلامی  عدالتوں اور فوجی اور خصوصی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کی سزاؤں میں تخفیف اور عفو سے موافقت کی ہے۔
 
آیت اللہ آملی لاریجانی کی درخواست اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کا جواب مندرجہ ذیل ہے:

محضر مبارک رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای ادام اللہ ظلہ الوارف

با عرض سلام و تحیت

احترام و ادب کے ساتھ ، عید سعید فطر کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی آئین کی دفعہ 110 کی شق 11 کے مطابق اور عدلیہ کے تخفیف اور عفو کمیشن کی تجویز نمبر 89/11186/ع/8 مؤرخہ 17/5/89 کی روشنی میں عفو و تخفیف کے قواعد و شرائط حضرت عالی کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں تاکہ یہ تجویز منظور ہونے کی صورت میں عام عدالتوں، انقلاب اسلامی عدالتوں اور فوجی اور تعزیراتی عدالتوں کی جانب سے مندرجہ ذیل تفصیل کے مطابق سزا پانے والے افراد اسلامی رافت و رحمت اور تخفیف و عفو سے بہرہ مند ہوسکیں ۔

الف ) وہ قیدی جو جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں جنھوں نے ماضی میں کسی خاص جرم کا ارتکاب نہیں کیا:

1: 5 سال تک کی سزا کی مدت میں 4/5 مدت کی سزا میں تخفیف و بخشش

2: 5 سے 10 سال کے سزا یافتہ افراد کی 3/4 مدت کی سزا میں تخفیف و بخشش

3: 10 سے 15 سال تک سزا پانے والے افراد کی سزا میں 2/3 مدت کی سزا میں تخفیف و بخشش

4: اسلامی سزاؤں کے قانون نمبر 718اور 719 کی شقوں میں ذکر موارد کے علاوہ غیر عمدی جرائم میں سزا پانے والے افراد کی باقی ماندہ مدت میں تخفیف و بخشش

5: وہ خواتین جو قانون کے مطابق اپنے فرزندوں کی سرپرست اور کفیل ہیں ان کی باقی ماندہ مدت میں تخفیف و بخشش

6: دشوار اورصعب العلاج اور سرایت کرنے والی بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کی باقی ماندہ مدت ، جن کی میڈیکل رپورٹوں کوقانونی ڈاکٹروں کی تائید حاصل ہو۔

واضح رہے کہ انقلاب اسلامی اور عام عدالتوں کے مقدمات کی سزا میں عدالتوں کی طرف سے دفعہ 291 کے نفاذ کے سلسلے میں انجام دیئے گئے اقدامات مانع نہیں ہیں۔

7: 18 سال سے کم عمر قیدیوں کی باقی ماندہ مدت میں تخفیف و بخشش

ب) وہ قیدی جو عجز و ناداری کے باعث نقدی جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے جیل میں ہیں:

1: ایک سو ملین ریال نقدی جرمانہ والے قیدیوں کی باقی ماندہ مدت میں تخفیف و بخشش

2: ایک سو ملین اور ایک ریال سے لیکر 5 سو ملین ریال کے نقدی جرمانہ والے قیدیوں کی 4/5 مدت میں تخفیف اور بخشش

3: 18 سال سے کم عمر والے نقدی جرمانہ والے قیدیوں کی باقی ماندہ مدت میں تخفیف اور بخشش

ج) عفو اور بخشش سے استفادہ کے شرائط:

1: 10 سے زائد مدت کی سزا پانے والے قیدیوں کا اس سے قبل عفو بخشش سے عدم استفادہ

2: خاص شاکی کا نہ ہونا، یا خاص شاکی کی رضایت حاصل کرنا، یا 19/ 6/1389 کی تاریخ تک خصوصی مدعی کو پہنچنے والے نقصان اور ضررکی تلافی( چاہے مدعی حقیقی ہو یا حقوقی)

3: شق الف کے بند ایک سے تین تک کے قیدیوں کے لئے 19/6/1389 کی تاریخ تک سزا کی ایک چوتھائی مدت کا گزارنا

نوٹ: قید کی سزا یا نقدی جرمانہ کی سزا پانے والے افراد کا پہلی بخشش و معافیت سے استفادہ کی صورت میں باقی ماندہ سزا کا محاسبہ عام بخشش کے نفاذ کے بعد ہوگا۔

د) مندرجہ ذیل موارد اس عفو اوربخشش سے مستثنی ہوں گے:

1: چوری کا ارتکاب کرنے والے افراد جن کی سزا کی مدت ایک سال سے زیادہ ہو

2: منشیات کے جرائم میں ملوث افراد جن کی سزا کی مدت 5 سال سے زیادہ ہو

3: اسلحہ اور جنگی وسائل کے اسمگلر

4: ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کے خلاف اقدام کرنے والے افراد

5: اغوا کار

6: دوسروں کی ناموس پر حملہ کرنے والے افراد

7: غیر اخلاقی اور فساد کے مرکز قائم کرنے والے افراد

8: مالی بد عنوانیوں ، رشوت اور دھوکہ دہی میں ملوث افراد

9: جعلی کرنسی اور سکہ ضرب کرنے والے افراد

والامر الیکم والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

صادق لاریجانی 16 /شہریورماہ / 89

بسمہ تعالی

سلام و تحیت اور مبارک ایام میں مبارکباد کے ساتھ، آپ نے جس ترتیب کے ساتھ عفو اور بخشش کی تجویز اور درخواست پیش کی ہے اس سے موافقت کی جاتی ہے۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید علی خامنہ ای

18 / شہریور ماہ/ 1389
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬