26 September 2010 - 15:36
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1864
فونت
آیت‌الله مقتدائی :
رسا نیوزایجنسی - ایرانی حوزات علمیہ کے سربراہ نے یہ بیان کرتےہوئے کہ اسلامی جمھوریہ ایران کا نظام تمام دشمنیوں کے باوجود تیس سال گزرنے کے بعد اج بھی عالمی سطح پر درخشاں ہے اوراس نظام کی ناقابل توصیف رھبریت اور بے نظیر حکام کی روز شب کوشش سے ملک ادارہ ہورہا ہے کہا : صدرجمھوریہ نے اقوام متحدہ میں امریکی سرگرمیوں پہ سوالیہ نشان لگایا ۔
آيت‌الله مقتدائي

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، ایرانی حوزات علمیہ کے سربراہ ، آیت‌الله مرتضی مقتدائی نے گذشتہ روز عصر کے وقت تعلیمی وتحقیقی ادارے امام خمینی‌ (ره) کے نئے تعلیمی سال کے اغاز کے پروگرام میں اٹھ سالہ جنگ تحمیلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس زمانے کے حوادث کومحترم جانا ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ هفته دفاع مقدس تحمل ، ایثار فداکاری ، حق و باطل کے مقابل جنگ میں جان بہ کف اسلامی سپاہیوں کی یادیوں کو تازہ کرتا ہے کہا : اسلام کے سپاہیوں کی تمام فدا کاریاں بے سابقہ اور بے نظیر تھیں اور وہ شھادت کے عاشق تھے ۔

آیت‌الله مقتدائی نے آغاز جنگ تحمیلی میں جنگ کے حوالے سے ملک کی عدم امادگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ جنگ ان حالات میں شروع ہوئی کہ انقلاب کے دشمنوں نے اس میں پیروزی کے لئے وقت معین کررکھا تھا ۔

انہوں نے جنگ تحمیلی میں ایرانی عوام کی فداکاریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : اگر عوام کی فداکاریاں نہ ہوتیں توھمارا دنیا سے لڑنا ممکن نہ تھا اورضروری ہے کہ یہ فداکاریاں مناسب ترین طریقے سے نسل سوم انقلاب کو بیان کی جائیں ۔

حوزات علمیہ کے سربراہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ عوام شوق شھادت میں میدان جنگ میں جانے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرتے تھے کہا : ھم بارہا کم سن نوجوانوں میں سن کے بڑھانے کے شاھد رہے ہیں ۔

ایرانی حوزات علمیہ کے سربراہ نے یہ بیان کرتےہوئے کہ اسلامی جمھوریہ ایران کا نظام تمام دشمنیوں کے باوجود تیس سال گزرنے کے بعد اج بھی عالمی سطح پر درخشاں ہے اوراس نظام کی ناقابل توصیف رھبریت اور بے نظیر حکام کی روز شب کوشش سے ملک ادارہ ہورہا ہے کہا : صدرجمھوریہ نے اقوام متحدہ میں امریکی سرگرمیوں پہ سوالیہ نشان لگایا ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬