02 September 2009 - 23:03
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 211
فونت
آیت الله سبحانی :
رسا نیوز ایجناسی - آیت الله سبحانی نے فرمایا : اگر خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر یہ انسان کا قتل ، ھوس ، لالچ اور یہ سب گناہیں انجام نہی پاتی کیونکہ خداوند عالم ہر چیز سے با خبر ہے ۔
آيت الله سبحاني

 

رسا نیوز ایجنسی کے خبرنگار کے رپورٹوں کے مطابق حضرت آیت الله جعفر سبحانی مراجع تقلید عظام سورہ حدید کی تفسیری جلسہ میں روزہ دار کے درمیان بیان کرتے ہوئے کہا : تمام عالم ( دنیا ) فقیر(محتاج ) ہے خدا کے سامنے یعنی ھر شئی کے وجود کا انحصار خدا پر ہے اسی لئے کہا گیا ہے جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا گویا اس نے اپنے رب کی شناخت حاصل کر لی ۔


انہوں نے فرمایا : موجودات کا ذاتا فقیر ہونا تسبیح میں دھاگے کی طرح ہے جو کہ ھمیشہ تسبیح کے دانے کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی حالت میں آزاد بھی ہے ۔
 

آیت الله سبحانی نے تاکید کرتے ہوئے کہا : بشر سے جو بھی گناہیں سر زد ہوتی ہیں اس کا اصل ریشہ خدا وند عالم کے علم اور اس کے بصیرت سے ہماری غفلت کی بنا پر ہے ۔ اگر خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر یہ انسان کا قتل ، ھوس ، لالچ اور یہ سب گناہیں انجام نہی پاتی کیونکہ خداوند عالم ہر چیز سے با خبر ہے ۔ درخت کا کوئی بھی پتہ نہی گرتا ہے جب تک کہ اس کا علم خدا کو نہ ہو ، خدا ہر چیز سے با خبر ہے ۔


انہوں نے بیان کیا : آپ کے تمام اعمال قیامت کے روز پیش کئے جائینگے ، کیونکہ خدا وند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے تمہارے اعمال خدا کی طرف پلٹا دیا جائیگا ۔


فقه اور اصول کے استاد نے تمام چیزوں پر خدا کی بصیرت کے سلسلہ میں بیان کیا : تمہارے تمام اعمال خدا وند عالم کے سامنے ہے اور کوئی بھی چیز اس سے چھپی نہی ہے کیونکہ خدا وند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ وہ تمام چیزوں پر بصیر ہے .


انہوں نے وضاحت کیا : ابھی تک اس آیت کی کہ خدا تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی رہو دو طرح کی تفسیر ہوئی ہے ۔ اول گروہ والوں کا کہنا ہے کہ ساتھ رہنے سے مراد علم خدا کی معیت ھم لوگوں کے ساتھ ہے حالانکہ یہ تفسیر آیه کے ظھور کے مخالف ہے اور دوسرے گروہ کا ماننا ہے کہ خدا ہم لوگوں کے اندر حلول کر جاتا ہے جو کہ کفر ہے ۔  


انہوں نے تیسرے نظریہ کو اس طرح بیان کیا : معیت کے معنی میں دو طرح کی ھمراھی اور ساتھ پایا جاتا ہے ۔ پہلے قسم میں حلول ہے محیط اور محاط کی طرح اور دوسرے قسم میں قیومی ہے یعنی قائم ایک لحظہ بھی ہم پر سے نظر ہٹا لے تو ہم لوگ نابود ہو جائنگے ۔   
 
 

آیت الله سبحانی نے اظیار کیا : آیت میں آیا ہے کہ خدا جہاں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے ۔ کیوں زمان سے سوال نہی ہوا ہے ۔ اس طرح کے سوال اس وجہ سے ہیں کہ غیبوبت مکان کے متعدد ہونے میں ہوتا ہے ۔


انہوں نے اپنے گفتگو کے آخری مرحلہ میں فرمایا : خدا وند عالم قرآن میں فرماتا ہے : وہ چیزیں کہ جو سینوں میں اور پردہ کے پیچھے ہے میں اس سے بھی با خبر ہوں یہ موضوع اس بات کو بیان کر رہی ہے کہ خداوند عالم ظاھر سے  بھی با خبر ہے اور باطن کا علم بھی اس کے پاس ہے ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬