31 January 2011 - 19:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2361
فونت
رسا نيوزايجنسي - مليشيا کے حکام نے يہ کہتے ہوئے کہ شيعہ صحيح راستے سے بھٹک گئے ہيں انہيں سرگرميوں اور فعاليت کا موقع نہي ديتے ?
 مليشيا


رسا نيوزاينجسي کي نٹ سائٹ خيبرنيوز سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، 200 سے بھي زيادہ شيعه جس ميں ايراني ، پاکستاني اور انڈونيشيا کے شامل ہيں مليشيا گورمنٹ نے انہيں اسلامي قوانين کے نقض کرنے کے الزام ميں گرفتار کرليا اور مليشيا گورمنٹ کے ايک عھديدار نے اس سلسلے ميں کہا : فقط سني مذھب قانوني ہے اور دوسروں کو فعاليت کي اجازت نہي ہے ?

اس سے کچھ دنوں پہلے بھي مليشيا يونيورسٹي کے ايک استاد محمد خسرين مناوي نے مليشيا ٹي وي پر کہا تھا : شيعہ اصول ملک کي امنيت کے لئے خطرہ ہيں کيوں کہ وہ ديگر فرقے کے افراد کو کافر مانتے ہوئے ان کے قتل کا حکم صادر کرتے ہيں ?

زين العابدين ايک معروف محقق نے ان باتوں پر نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا : مليشيا خود کو ايک طالباني ملک ميں تبديل کرنے کي کوشش ميں ہے کيوں کہ اس ملک ميں فقط طالباني افکار کو فعاليت کرنے کي کوشش ميں ہے ?

قابل ذکر ہے کہ مليشيا کا شمار ان ممالک ميں سے ہوتا ہے جہاں مسلم ابادي زيادہ ہے مگر يہاں شيعہ کو مذھب کي ترويج پر پابندي ہے ?

واضح رہے کہ مليشيا ميں سن 1996 سے اج تک مسلسل شيعوں کو گرفتار کيا جارہا ہے اور گذشتہ دو ماہ ميں بھي کچھ شيعوں کو جو ايک نماز خانے ميں نماز ادا کررہے تھے ان پر حملہ کرکے انہيں گرفتار کرليا گيا جب کہ مليشيا کے قانون کے مطابق ھر کسي کو مذھبي ازاد حاصل ہے
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬