08 February 2011 - 16:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2391
فونت
سيد حسن نصرالله :
رسا نيوزايجنسي – حزب اللہ لبنان کے سربراہ ، سيد حسن نصرالله نے مصر کے انقلاب کو مکمل عوامي انقلاب بيان کيا اوراس تحريک کے سلسلے ميں امريکا کے ميانہ روموقف کي بنياد خود اس کے ذاتي منافع کا تحفظ بيان کيا ?
سيد حسن نصرالله

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کي مطابق ، حزب اللہ لبنان کے سربراہ ، سيد حسن نصرالله نے عوامي اجتماع جو قومي يکجہتي کے عنوان سے مختلف پورٹيوں کي جانب سےمنعقد کيا گيا تھا کے اختتاميہ ميں تقريرکرتے ہوئے کہا : اج ھم متحد مقصد کي بنياد پريہاں پر اکٹھا ہوئے ہيں کہ اوروہ مصري عوام سے حمايت اور ان سے يکجہتي کا اعلان ہے ?

انہوں نے اپني تقرير کے اغاز ميں تيونس اور مصر کي عوام سے ايک اعلان يکجہتي کي تاخير پر معذرت خواھي کرتے ہوئے کہا : يہ تاخير ھماري الجھنوں يا اس ا نقلاب کي حيرت کي بنياد پر نہي تھي بلکہ لبناني پارٹياں طويل عرصہ سے غاصب اسرائيل کے مقابلے کي بنياد پر مصرکے عوامي انقلاب اور ميدان التحرير کے اعتراض اميز اجتماع کے پيچھے بيروني طاقتوں کي مداخلت کے احتمال کي بنياد پر تھا ?

سيد حسن نصرالله نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ يہ اعلان حمايت اور يکجہتي اگر اس سے پہلے انجام پاتي تو مصر کي تحريک ميں حزب الله يا تحريک حماس اور يا سپاه پاسداران انقلاب اسلامي ايران کو متھم کيا جاسکتا تھا اور يہ اسے ايک وابستہ تحريک کا نام ديا جاسکتا تھا کہا : ھما را مصر کے ساتھ تلخ تجربہ را رہا ہے غزہ کي مظلوم عوام کو مدد پہچانے ميں مصر ھمارے ايک رکن پہ جاسوسي کا الزام لگا چکا ہے اسي بنياد پرھم سبھي نے مزيد صبر سے کام ليا اورمزيد انتظار کي لمحات گزارے ?

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے مصر کے انقلاب کو عوامي اور قومي انقلاب بيان کرتے ہوئے کہا : اس قيام ميں مسلمان اورعيسائي برابر سے شريک ہيں اورمصرتمام قوموں اور گروھوں نے ايک دوسرے کي پيٹھ سے پيٹھ لگا رکھي ہے چاھے وہ مرد ہوں يا عورت ، جوان ہوں يا بوڑھے يا بچے ، مخلتف طبقے کے لوگ روڈ پر اتر ائے اور ان ميں سے اھم جوانوں کا کردار ہے جو اس انقلاب ميں برابرسے شريک رہے ہيں ?

انہوں نے اس انقلاب کو مصر کي عوام کے ارادے وعزم کا ماحصل بيان کيا اور کہا : يہ مصرکي عوام ہے جو اس راہ ميں شھيد يا مجرح دے رہي ہے ، اپنے راستے کوخود معين کر رہي ہے ، اپني تقدير کو خود اپنے ہاتھوں سے تحرير کررہي ہے اورسر انجام اس تحريک کا ھر بيروني طاقتوں سے متحد کا الزام ختم اور دشمن مصر کي عوام کے مقابل اپنے مقصد ميں ناکام ہوکر رہيں گا ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ مصر کے اس عوامي قيام ميں کچھ افراد بيروني طاقتوں کا ہاتھ کہتے ہيں جيسا کہ امام خميني (ره) کي رھبري ميں انقلاب اسلامي ايران کے سلسلے ميں بھي يہي کہا جارہا تھا  کہا : جب ايران کا اسلامي انقلاب پيروز ہو ا تو بعض افراد اسے امريکا کے جاسوسي ادارے (سيا ) سے وابستہ بيان کرتے تھے کہ اس انقلاب کا محرک امريکا ہے اور کچھ لوگ اسے شوروي سے وابستہ کہتے تھے کہ وہ اسے ھدايت کررہاہے تاکہ ايران سے امريکا کا اقتدار ختم ہوسکے مگر زمانے کے مرور نے ثابت کيا کہ امام خميني (رہ) اس عوامي اور اسلامي تحريک کے حقيقي رھبرتھے ?




تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬