13 March 2011 - 17:56
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2528
فونت
سعودي کے معروف مفتي :
رسا نيوزايجنسي - سعودي کے معروف مفتي نے بعض سعودي علماء کے نظريہ وفتوے کے برخلاف پر امن ريلي و جلوس کو اسلامي تعليمات کے مطابق جانا ?
شيخ الفنيسان

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، سعودي کے معروف عالم دين ومفتي ، شيخ سعود بن عبد الله الفنيسان نے بيانيہ ميں مطالبات کي تکميل کو ليکر پر امن ريلي و جلوس کو اسلامي تعليمات اور ازادي دراسلام کا نمونہ بيان کيا اور اس طرح کے جلوسوں اور اجتماعات کو شرعا جائز بيان کيا ?

انہوں نے اپنے بيانيہ ميں تاکيد کي : نظريات کے بيان کرنے ميں مختلف قسم کے پرامن طريقے کا استعمال ، جلوسوں کا نکالنا ، اجتماعات کا منعقد کرنا ، انٹرنٹ سے استفادہ کيا جانا ، کتابيں ، اعلانيہ وغيرہ تحقق عدالت کے راہ ميں شرعا جائز ہے اوراگر کوئي حاکم قوم کو ان باتوں سے روکے تو اس نے ازادي بيان پر روک لگائي ہے اور لوگوں کے حقوق پائمال کئے ہيں ?

شيخ الفنيسان نے مزيد کہا : پرامن ريلي ايات ورايات کي روشني ميں جائز ہے کيوں کہ امر به معروف و نهي از منکرکي دليليں اس طرح کے جلوسوں کے جواز پر دلالت کرتي ہيں مگر يہ کہ جلوس نکالنے والے افراد ايسے کام انجام ديں جس سے يہ جواز حرمت ميں تبديل ہوجائے ?

قابل ذکر ہے کہ بزرگ علماء کونسل عربستان نے حد سے زيادہ ال سعود سے وابستہ ہونے کي بنياد پراور اس حکومت کے گرجانے سے اپنے مفادات کو خطرے ميں پڑجانے کے سبب ھر قسم کے اجتماع ، ريلي اورجلوس کو حرام قرار ديا ہے اور انہوں نے انتظاميہ سے مطالبہ کيا ہے کہ جلوس ميں شرکت والوں کے ساتھ شدت کے ساتھ پيش ائيں ?

اس سبب عربستان کي انتظاميہ نے بھي گذشتہ ھفتہ جمعرات اور جمعہ کے روزشيعہ نشين علاقے ميں بہت سارے اعتراض کرنے والوں کو زخمي اور گرفتارکيا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬