17 March 2011 - 17:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2550
فونت
نجف اشرف کے امام جمعہ :
رسا نيوزايجنسي - نجف اشرف کے امام جمعہ نے بحرين کے انساني سانحہ کي بہ نسبت خبردار کرتے ہوئے بحريني کے عوام کے قتل عام کي سلسلے ميں اسلامي معاشرے اور عالمي مراکز کي مداخلت کا مطالبہ کيا ?
بحرين کےانساني سانحےميں اسلامي معاشرہ اورعالمي مراکزمداخلت کريں

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، نجف اشرف کے امام جمعہ ، حجت الاسلام سيد صدرالدين قبانچي نے اعلانيہ ميں سعودي اور بحريني فوج کے ہاتھوں بحريني عوام کے قتل عام کو انساني سانحہ بيان کيا ?

اس بيانيہ ميں ايا ہے : ھم بحريني مسلمان اور صلح پسند افراد کے استغاثے اس حال ميں سننے رہے ہيں کہ وہ زمين واسمان سے برسنے والے بموں کے اگے اپنے سينہ سپرکئے ہوئے ہيں ، خليج کي فوج جس جنايت کو انجام دينے کي غرض سے بحرين پہونچي تھيں انہوں نے بلا وقفہ عوام کا قتل عام شروع کرديا ?

انہوں نے اس موقع پرعربي اور اسلامي ممالک کي خاموشي پر تنقيد کرتے ہوئے کہا : دنياے عرب ، اسلام اور عالمي مراکز نے تيونس ، مصر، ليبي اور يمن کے قيام ميں عوام کي حمايت کي مگر بحرين کے انساني سانحہ کي بہ نسبت سبھي خاموش تماشائي ہيں اور موجودہ حکومت کے حامي بنے ہوئے ہيں ?

حجت الاسلام قبانچي نے عراقي عوام کي بحريني سے مکمل حمايت کي تاکيد کرتے ہوئے کہا : ھم اور عراقي قوم بحريني عوام سے مکمل حمايت اور يکجہتي کا اعلان کرتے ہيں اور اس قوم پہ بحريني اور پڑوسي ممالک کي فوج ذريعہ انجام پارہے قتل عام کو شدت کے ساتھ محکوم کرتے ہيں ?

نجف اشرف کے امام جمعہ نے کہا : بحرين کا عوامي انقلاب تبديلي کي غرض سے ايا ہے اور قبيلہ اي اختلافات سے اس کا کوئي رابطہ نہي ہے ھم خداوند متعال سے دعا گو ہيں کہ اس قوم کي پيروزي تک ان کي حمايت اور حفاظت کرے اور تيونس و مصر وليبي کي طرح ھم ان کي کاميابي کے بھي شاھد ہوں ?

قابل ذکر ہے کہ سعودي اور بحريني انتظاميہ کے حملے کے نتيجے ميں بحرين ميں ابھي تک 5 افراد شھيد اور 500 سے زيادہ افراد زخمي ہوچکے ہيں کہ ان زخميوں ميں بہت سارے بچے اور عورتيں بھي ديکھنے کو ملتے ہيں اور اس ملک کے حالات اشفتہ بہ ہيں ?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬