19 July 2009 - 15:53
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 26
فونت
جناب عبد اللہيان
حج? الاسلام والمسلمين جناب عبد اللہيان شاھرودي نے کہا اصول فقہ ميں تجدد روش اور عمق مطالب کے اعتبار سے ہونا چاہيے
 نيچے لکھي ہوئي گفتگو رسا کے نامہ نگار نے سمنان ميں حج? الاسلام والمسلمين جناب عبد اللہيان شاھرودي کا انٹرويور ليا ہے جو کہ اصول فقہ ميں تجدد کے موضوع کے عنوان سے پيش کيا جا رہا ہے ?
رسا : کيا فقہ ميں تجدد کي ضرورت ہے ؟
جواب دينے سے پہلے کچھ باتوں کي طرف توجہ ضروري ہے :
? ) اس طرح کے سوالات فلسفہ فقہ سے مربوط ہيں اور فلسفہ فقہ کا شمار معرفت کے اعتبار سے دوسرے درجہ ميں ہوتا ہے جس کي ذمہ داري ہے کہ وہ اس طرح کے سوالات کا جواب دے چاہے سوالات فقہ کے سلسلہ ميں ہوں يا فقيہ کے سلسلے ميں ?
? ) يہ کہ تجدد حکم ميں نہيں ہو سکتا کيونکہ حکم موضوع کا تابع ہے بدعت اور تجدد کے معني نئي بات کہنا ہے يہ ايک اچھي پہل فکري حرکت اور ترقي کي عکاسي کرتا ہے نئي بات کہي جائے تاکہ جہان نيا ہو ?
ليکن بدعت و تجدد کے اثرات بھي کبھي اچھے ہوتے ہيں اور کبھي برے? لہذا تجدد کے لئے ايک طرف ضروري ہے کہ اس کے قوانين اور قواعد کے مطابق غور کيا جائے اور دوسري طرف اس علم پر اس کا پورا احاطہ ہو يعني وہ مسلط ہو ? ليکن بدعت ( جس کي مذمت کي گئي ہے) معني ہيں کسي چيز کے بارے ميں بغير اصول و قواعد کے اپنے نظرئے کا اعلان کرنا ? جس کي اسلام ميں سخت مخالفت کي گئي ہے ?
لہذا تجدد ايک ايسي ضرورت ہے جس کا انکار نہيں کيا جا سکتا يہ اجتہاد فکري و علمي کي مختلف زمانے ميں علامت رہي ہے ? اسلامي فقہ فقہاء و اصوليوں مثلاً شيخ طوسي ، وحيد بہبہاني ، شيخ انصاري ، محقق صاحب جواھر وغيرھم کي طرف سے نئي نئي باتوں اور نئے نئے استدلال ، نئے نئے نظريات سے بھري پڑي ہے?
 رسا : فقہي تجدد نئے موضوعات ميں سے ہے يا استنباط کے طريقے ميں سے؟
مقدمہ کي صورت ميں چاہيے کہ اس سوال کا جواب ديا جائے کہ کيا احکام کے موضوعات کا بيان کرنا فقہ کے دائرہ اختيار ميں ہے يا فقہ کي ذمہ داري صرف احکام کا بيان کرنا ہے ? بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ علم و صنعت ميں تيزي کے ساتھ آئي ہوئي تبديلي کي وجہ سے مجتھدين کا کام مصاديق کے تغيير کے بارے ميں سوچنا ہے ? ليکن دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ موضوع و مفھوم کي تبديلي زمانے کے اعتبار سے ہوتي ہے جس کي وجہ سے احکام ميں تبديلي ہوتي ہے ?
ليکن ان دونوں باتوں کو اکٹھا کيا جا سکتا ہے اس لئے کہ فقھي موضوعات کو تين درجہ ميں تقسيم کيا جا سکتا ہے :
 پہلا درجہ : وہ موضوعات شرعي کہ جن کے مقدمات و شرايط و آداب کو دين نے معين کر ديا ہے مثلاً نماز ، روزہ وغيرہ ?
دوسرا درجہ : وہ موضوعات عرفي ہيں جو عرف ميں معمولاً رائج تھے اور ان کي ايجاد ميں شرع کي کوئي دخالت نہيں تھي حقيقتا يہ انسان کي معاشرتي زندگي کي پيداوار ہے مثلاً وہ موضوعات جو مختلف معاملات و لين دين سے وجود ميں آتے ہيں جيسے بيمہ وغيرہ
اگر چہ زمانے کي تبديلي اور بدلاؤ  اس کے اندر بھي تبديلي کا سبب بنتا ہے ايسے موقع پر اسکا حکم کبھي بدل جاتا ہے اور بعض موقع يہ دين بھي اس موضوع ميں تصرف ( تبديلي ) کرتا ہے مثلاً عرف ربا کو معاوضہ ( چيز کے بدلے چيز ) جانتا ہے انما البيع مثل الربا مگر قرآن مجيد فرماتا ہے احل اللہ البيع و حرم الربا حالانکہ يہ سب موضوع ميں ايک نہيں ہيں کيونکہ ربا دولت و ثروت کو جمع کرنے والا اور معاشرے ميں فقر لانے والا ہوتا ہے حالانکہ بيع ( خريدنا اور بيچنا ) دولت و ثروت کو پھيلانا اور اس کے ذريعے معاشي بہبودي ہے ?
تيسرا درجہ : استنباطي موضوع ميں وہ موضوعات ہيں جو ايک طرف عرف خاص سے منسلک ہوتے ہيں تو دوسري طرف انکا رابطہ شرع سے ہوتا ہے اور يہ خود دو قسموں پر مشتمل ہے:
? ) موضوع کا مشخص کرنا اس کے ماہرين يا خاص افراد پر ہے مثلاً چھلکے والي مچھلي کا غير چھلکے والي مچھلي سے تميز دينا ،
? ) موضوع کا مشخص کرنا فقيہ اور ماہرين دونوں کے ذمے ہے مثلاً ميوزيک کا مفہوم واضح کرنا يا نئے موضوعات جو علمي و صنعتي ترقي سے انسان کو اس زمانہ ميں حاصل ہو رہي ہيں يہاں تک کہ معالجہ کا نيا طريقہ بھي موضوع اور اس کے طريقہ کار ميں شامل ہے ?
رسا : کيا اصول فقہ ميں تجدد نہيں ہونا چاہيے ؟
اس سلسلہ ميں کچھ مسئلوں کي طرف غور کرنا ہو گا
اول : علم اصول کے مطالب اس قدر پھيلے ہوئے اور زيادہ ہيں کہ اس کو تمام کرنے ہي ميں تيرہ سال کا وقت لگ جاتا ہے اور يہ بہت اہم ملکيت ہے ?
دوم : انسان کي عمر کي محدوديت
سوم : جديد مسائل کا سيلاب اور بہت ہي زيادہ سوالات تو انساني ذہن ميں آتے رہتے ہيں جو حوزہ علميہ کو مشغول کئے رہتے ہيں ? اصول فقہ ميں جديت اور نئے اصول کي بنا کو دو طرح سے انجام ديا جا سکتا ہے ايک اس کا طريقہ کار اور دوسرا اس کا مضمون يعني بغير کسي خاص نظر کو مد نظر رکھتے ہوئے اصول کي تأليف و تصنيف کي جائے وہ بحث جو زمانے کے گزرنے کي وجہ سے استفادہ نہيں ہوتي ہے اس کي اہميت ختم ہو گئي ہے اس کي ضرورت نہيں ہوتي اس کو حذف کر ديا جائے حالانکہ يہ مطالب علم اصول کے سير کے تحقق ميں باقي رہے گي ?
زبان اور ادبيات کي اصلاح بھي اصول کے پيدائش کي ضرورت ہے حالانکہ ہم لوگ کو بعض اصول فقہ کي تأليف ميں کمزوي کا سامنا کرنا پڑتا ہے کيونکہ لکھنے والے کے لئے واضح ہے کيونکہ اس نے اپنے مطالب کو درس سے پھلے محفوظات کے طور پر لکھا ہے نہ وہ تأليف کرنے کے لئے لکھا ہے ? لہذا اس کي روش ميں مشکلات پائي جاتي ہے ?
رسا : تجدد فقھي کے قوانين و قواعد کيا کيا ہيں ؟َ کيا رسمي فقہ يا جواھري فقہ کے مقابلے ميں آئے گا ؟
جس نے بھي کسي بھي علم ميں تجدد کا قصد کيا ہے لازم ہے کہ اس کے اندر اپنے ہم عصر کي تمام صلاحيتوں کو بخوبي جاننے کي استعداد ہو گي تاکہ اس کي گفتگو علمي و دفاع کے قابل ہو زمانہ کے تقاضے کو جانتا ہو ، تنقيدي صلاحيت ہو اور شريعت کا پابند ہو ? تب جا کر وہ تجدد اور بدعت کے فرق کو صحيح سے سمجھ سکے گا اور معين کر سکے گا کيونکہ تجدد قواعد و قوانين کے مطابق بدعت اور تجدد کا نہ کوئي قانون ہے اور نہ کوئي قاعدہ ?
ہر طرح کي نئي کوشش ہمارے بزرگوں کي بنائي ہوئي بنياد پر ہے لہذا يہ تجدد فقہي و اصولي مختلف زمانے ميں کوئي فرق ماھوي نہيں رکھتا فقہ جوھري سے ? تاکہ ايک کو جديد اور دوسرے کو قديم کہہ سکيں يہ تجدد فعاليت اور تجدد موضوع شناس ہے جو پہلے کے فقہاء ميں پايا جاتا تھا ?
 آپ نے اپني نھايت ہي قيمتي ہم کو عطا کيا ہم اس کے لئے آپ کے شکر گزار ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پسندیده خبریں