10 April 2011 - 19:01
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2637
فونت
رسا نيوزايجنسي - ہالينڈ عدالت نے اپنے فيصلے ميں کيتھولک اسکولوں کو اجازت دي کہ اسکولوں ميں نقاب پر پابندي لگا سکتے ہيں ?
حجاب


رسا نيوزايجنسي کي رورو سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، اسکول ميں حجاب کے سلسلے سے مسلم طالبہ ايمان مهسان (Imane Mahssan) کي عدالت ميں شکايت پر ہالينڈ عدالت نے اپنے فيصلے ميں کيتھولک اسکولوں کو اجازت دي کہ اپنے اسکولوں ميں مسلم طالبات کو نقاب پہننے اور باحجاب طالبات کو اسکول ميں انے سے روک سکتے ہيں ?

اس سے پہلے بھي مساوات کميٹي نے اس مسلمان لڑکي کي شکايت کے سلسلے ميں کہا تھا : خصوصي تعليم دينے والے اسکولوں کو حق حاصل ہے کہ طالبات کي ديني نشانيوں پر پابندي لگاسکيں اس شرط پر کہ وہ ثابت کريں کہ يہ تدبيريں اسکولوں کے شناخت کے تحفظ کے لئے کي گئي ہيں ، يہ کيتھولک اسکول اس بات کا اثبات نہ کرسکا اسي بنياد پر يہ طالبہ اپنا کيس عدالت ميں لے گئي اور عدالت نے بھي نقاب پر پابندي لگا کراس کيتھولک اسکول کے حق ميں فيصلہ سنايا ?

قابل ذکر ہے کہ گريٹ والڈرز جس نے فتنہ فيلم بناکر قران کريم کي اھانت کي تھي اس نے اس حکم کے سلسلے ميں کہا : يہ حکم عدالت اور انصاف کے مطابق ہے اميد ہے کہ تمام عيسائي اسکول اسي طريقہ پر گام زن ہوں گے ?

بعض يوروپين ممالک فراوان تبليغات کے ذريعہ کوشش ميں ہيں کہ اپنے ممالک ميں اديان کي ازادي ثابت کرسکيں مگر مسلمانوں کو نقاب پہننے ، ا?فسوں ميں نماز ادا کرنے ، نماز جماعت اور مذھبي پروگرام منعقد کرنے کي اجازت نہي ديتے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬