13 September 2009 - 16:09
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 270
فونت
رسا نیوز ایجنسی لکھنٔو کے روضٔہ کاظمین سےمتسل مسجد کوفہ میں دور دراز سے مومنین کے آنے کا سلسلہ رہا رات بھر عبادت میں بسر کی ۔
تاریخى گلیم كا تابوت لكھنو میں برآمد

 

رسا نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے رپورٹ کے مطابق، شہر لكھنو میں امیرالمومنین حضرت على علیہ السلام كى شهادت كے سلسلے میں تاریخى گلیم كا تابوت برامد هوا ۔


40ھ میں مسجد كوفه میں عین حالت سجده فرق مبارك امیرالمومنین علیہ السلام پر ابن ملجم نے ضربت لگائ حضرت على علیہ السلام زخمى هوئے اسى حالت میں جناب حسنین علیہم السلام آپ كو مسجد سے ایک گلیم میں لے کرگھر آئٔے۔ اسی کی یاد میں گلیم کا تابوت اٹھایا جاتا ہے ۔


روضٔہ کاظمین سےمتسل مسجد کوفہ لکھنٔو میں دور دراز سے مومنین  کے آنے کا سلسلہ رہا رات بھر عبادت میں بسر کی ۔


آذان صبح مولانا قاری طاہر جعفری نے دی ۔ مولانا سید تقی رضوی کی اقتدا میں نماز فجر ادا کی گئی اور نماز کے بعد مولانا مرزا محمد اشفاق نے مصائب امیر المومنین علیہ السلام بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب فرق امیرالمومنین علیہ السلام پر ابن ملجم نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار حالت سجدہ میں ماری تو حضرت زخمی حالت میں آپ نے کہا ربّ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا اور مسجد کی خاک اور مسجد کی خاک سر پر ڈالتے تھے ۔


مجلس کے اختتام پر شبیہ تا بوت مسجد کوفہ سے برآمد ہوا لاکھوں کی تعداد میں لوگ شامل تھے اس میں بچے، جوان، مرد، عورتیں اور بوڑھے بھی کثیر تعداد میں جلوس میں شامل تھے۔

سب سے آگے جلوس شبیہ  تا بوت کا بینر تھا اس کے پیچھے علم  و تابوت اور عزادار سوگوار ماحول میں گریہ و زاری کرتے ہو ئے چل رہے تھے ۔


مرثیہ خواں سلام و مرثیے کے بند پڑھتے ہو ٔےچل رہے تھے ۔


کیونکر کریں نہ ہم بکا حیدر ہو ئے شہید
ہلتا ہے عرش کبریہ حیدر ہو ئے شہید


زخمی ہوا امام تمہارا نماز میں
ظالم نے روزہ دار کو مارا نماز میں


سر پر اڑاو خاک مصیبت کی رات ہے
ہم سب کے سر سے اٹھتا ہے سایہ امام کا


عزادار ان کو سن کر گریہ و زاری کر رہے تھے ۔


جلوس کاظمین روڈ سے حسن پریہ ، بلوج پورہ نخاس و کٹوریہ اسٹریٹ سے عزاخانہ حکیم سید محمد تقی زیدی پہونچا اختتام جلوس کی مجلس کو مولانا حسن متقی میثم زیدی نے خطاب کرتے ہوئے شہادت امیرالمومنین حضرت على علیہ السلام بیان کیا جس کو سن کر موجود عزادار گریہ و زاری کر رہ تھے ۔


مجلس کے بعد سینہ زنی ہوئی، جلوس میں کافی تعداد میں حفاظت کے پیش نظر پولس فورس بھی موجود تھا۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬