11 May 2011 - 14:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2760
فونت
آيت الله وحيد خراساني :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت الله وحيد خراساني نے اس تاکيد کے ساتھ کہ اگر قرا?ن مجيد کا وجود نہ ہوتا تو انسانيت ضلالت و گمراہي کے بھنور ميں غوطہ ور ہوتا کہا : يہ ا?سماني کتاب فاسد عقائد و افکار پر بطلان کي لکير کھينچ دي ہے ?
آيت الله وحيد خراساني

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله حسين وحيد خراساني مرجع تقليد نے چہارشنبہ کے روز قم ايران کے مسجد اعظم ميں طلاب و علماء کے درميان اپنے تفسير کے درس ميں سورہ ياسين کي تفسير کو جاري رکھتے ہوئے کہا : اگر قرا?ن کريم اور اس کي حکمت کا وجود نہ ہوتا تو ا?ج کل کي انسانيت اس ا?فاق و انفس کے مبدا اور اس کے درميان نسبت کے سلسلہ ميں کيا عقيدہ رکھتا ?

انہوں نے کہا : ليکن خود اس کي نسبت ، دو حالت سے جدا نہي ہوتي يا اس کا انکار کرتا يا اقرار ، اگر اس کا منکر ہوتا تو اس حد تک گر جاتا کہ اس ا?فاق و انفس کے ايک پينٹنگ کے کردار کو ديکھتا تو حيرت سے انگلي دانتوں تلے دباتا کہ يہ کون سا علم ہے اور کيا فن ہے اور کيسي قدرت ہے کہ اس طرح کي پينٹنگ و تصوير بنائي ہے ؛ ليکن اس کے مقابل اس حقيقت کہ جس ميں تمام قانون ، نظم و سيسٹم و کہکشاں کا نظم جس کے سلسلہ ميں کہا جائے کہ نہ علم ہے اور نہ ہي حکمت اور نہ قدرت ، اگر اس سے کہا جائے کہ يہ تصوير ، يہ پينٹنگ زمانہ و وقت کے گذرنے و حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ وجود ميں ا?يا ہے خود ايک دوسرے سے منسلک ہو گئے ہيں اور ايک ا?فاق تصوير ميں تبديل ہو گئي ہے ?

انہوں نے وضاحت کي : اگر کوئي ايسا کہے تو اس کو دار المجانين کا مستحق سمجھا جائے گا ليکن خود جو اس تصوير کے لئے ايسا نظريہ رکھتا ہے اپنے ا?پ کو عاقل و دانا جانتا ہے ، اگر منکر ہو تو اس طرح کي گمراہي ميں ڈوبا ہے ?

مرجع تقليد نے تاکيد کي : يہ کتاب ہے کہ جس نے انسانيت کو اس بھنور سے نجات ديا ہے ، اگر يہ حکمت نہ ہوتا تو کيا ہوتا اور اس حکمت کي بنا پر اس عظيم مبدا کا اعتقاد حاصل ہوا ?

حضرت آيت الله وحيد خراساني نے وضاحت کي : يہ قرا?ن کريم اور اس کي حکمت تھي کہ بشر کو تعطيلات کے بھنور اور تشبيہ کے جنجال سے باھر نکالا اور انسانيت کو خداوند عالم کے (حد و تعطيل و تشبيه ) سے خارج کر ديا اور اس کا يہ نتيجہ ہوا «سبحان الله و الحمدلله و لا اله الا الله و الله اکبر من أن يوصف» ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج کے اس استاد نے بيان کيا : يہ منکرين کي حالت تھي ليکن اقرار کرنے والے جو خدا وند عالم کو جسم اور ظاھري صورت کا مالک جانتے ہيں کيا ہے ، يہ خدا قديم اور جديد زمانہ ميں ايک جسم کے حد تک تنزل پا چکا ہے ، يہ خدا انسان کے پيدا کرنے پر پشيمان ہے اور غم و غصہ ميں مبطلا ہے ?

انہوں نے کہا : اس زمانہ ميں لاکھوں لوگوں کا يہ عقيدہ ہے ، اگر تم پوپ اور يہودي راہب ہوتے تو يہ عقيدہ رکھتے ?

حضرت آيت الله وحيد خراساني نے وضاحت کي : دنيا اس بھنور ميں حيران و پريشان ہے اور اس کے مقابلہ ميں قرا?ن ہے کہ انسانيت کو اس طرح کي پيچيدگي اور نجاست سے پاک کرتا ہے اور اس طرح کے باطل افکار کو ختم کرتا ہے ?

انہوں نے بيان کيا :اس کے بعد انسان سمجھتا ہے «يا ايها النبي إنا ارسلناک شاهدا و نظيرا» کا کيا مطلب ہے ، ليکن کيا شاھد اور کيا نظير ان ھر ميں مطالب کے دريا پائے جاتے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬