21 May 2011 - 17:15
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2795
فونت
بحرين کے شيعہ رہنما :
رسا نيوز ايجنسي ـ شہر دراز بحرين کے خطيب جمعہ نے جمہوريت تک پہوچنے کا تنہا راستہ اصلاحات کو جانا ہے اور بحرين کے سربراہوں کو عوام کے دھماکہ خيز غصہ سے خبر دار کيا ہے ?
آيت الله شيخ عيسي قاسم

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق بحرين کے شيعہ رہنما آيت الله شيخ عيسي قاسم نے اس ھفتہ اپنے جمعہ کے خطبہ ميں جو اس شہر کے دراز کے مسجد امام صادق (ع) ميں منعقد ہوئي ا?ل خليفہ حکومت کي موقف ميں کوئي تبديلي نہ ہونے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : عربي قوم سخت ظلم و ستم برداشت کر رہي ہے اور حکومت کي نابودي کے لئے تحريک اور قيام کا سہارا لے رہي ہے ، بحرين کي عوام بھي برسوں سے اصلاحات و تبديلي کي ا?وازيں بلند کر رہي ہيں ، اعتراض کے ذريعہ غير مفيد سياسي حالات پيدا ہوئے ، اس کے باوجود حکومت کے سربراہوں کے بيانات و گفت و گو قيام سے پہلے اور اس کے بعد ميں بھي کوئي فرق نہي پائي جا رہي ہے ?

انہوں نے وضاحت کي : بحريني عوام امن کے ذريعہ اس ملک کے موجودہ حالات کے اصلاح اور اپنے وطن کو موجودہ موقعيت سے بچانے کي کوشش ميں ہيں ، ليکن حکام کا سينہ بہت ہي چھوٹا تھا کہ ان کے اس خواہش کو تحمل نہي کر سکے اور غير قابل قبول طريقہ سے اس بحران کو ختم کرنے ميں لگ گئے ?

آيت الله عيسي قاسم نے پر امن قيام کو جاري رکھنے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کي : ھم لوگ اسي طرح پر امن اعتراض پر زور ديتے ہيں ، ليکن ھمارا سوال تمام دنيا والوں سے اور دنيا کے بيدار ضمير والوں سے يہ ہے کہ کيا پر امن ہونے کا تعلق صرف قوموں سے ہے اور حکام جو بھي چاہيں انجام دے سکتے ہيں اور وہ تشدد و کشيدگي طريقہ کا استعمال کريں ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬