24 May 2011 - 17:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2810
فونت
ساجد حسين طوري :
رسا نيوزايجنسي – گزشتہ دنوں بالش خيل گاؤں پر وزيرستان اور اورکزئي ايجنسي کي طرف سے طالبان دہشت گردوں کے حملے اور انتظاميہ و ايف سي کے خاموش تماشائي بنے رہنے پر اج سيکڑوں افراد نے مظاھرہ کيا ?
پاراچنار

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، طالبان کي دھشت گردي کے اعتراض ميں علاقے سے منتخب رکن اسمبلي ساجد حسين طوري کي قيادت ميں ہزاروں مرد وزن بچے بوڑھے ، عوامي و سماجي افراد کے علاوہ علمائے کرام ، قبائلي عمائدين نے اج انتظاميہ کے دفاتر کا ٹل پاراچنار روڈ پرگھيراؤ کيا ?

مظاھرين نے پاراچنار کے عوام کے جائز حقوق اور طالبان دہشت گردوں سے تينتس مغويوں کي رہائي اور چار سال سے بند ٹل پاراچنار روڈ کي بندش و محاصرے کے ختم کئے جانے کا مطالبہ کيا ?

مظاھرين نے ايف سي کو طالبان کا حامي اوراس کے حاليہ اقدام کو بدترين رياستي تشدد کي مثال بتاتے ہوئے کہا : طوري بنگش قبائل نے جب اپنے دفاع ميں طالبان دہشت گردوں سے مقابلہ کرنا چاہا تو صدہ ميں موجود ايف سي ٹينکوں نے عوام کو بھاري ہتھياروں کا نشانہ بنايا جس کے سبب دس سے زيادہ افراد شہيد اور درجنوں زخمي ہوگئے?

انہوں نے سول سوسائٹي اور انساني حقوق تنظيموں خصوصا انصار برني کي دوغلي پاليسي اور مجرمانہ خاموشي پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا : صوماليہ ميں بحري قزاقوں کے ہاتھوں اغوا چار پاکستانيوں کي رہائي کے لئے دن رات ايک کرنے والي سول سوسائٹي اور انساني حقوق تنظيميں طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں دو ماہ پہلے بگن لوئر کرم کے مقام پر تينتس مغويوں کي رہائي سميت پاراچنار کے چار سالہ غير انساني و غير اخلاقي محاصرے ، اقتصادي ناکہ بندي اور انساني الميے پر کيوں خاموش ہے ?

قابل ذکر ہے کہ اس موقع پرعلاقے سے منتخب رکن اسمبلي ساجد حسين طوري کے علاوہ سابق سينيٹرعابد حسيني ، سابق سينيٹرسيد سجاد مياں اورپاراچنار کي مرکزي جامع مسجد کے پيش امام و ديگر طوري بنگش قبائلي عمائدين موجود تھے ?

ان سب نے يک صدا ہوکرکہا : حکومت وانتظاميہ ہمارے حب الوطني اور صبرو تحمل کا ناجائز فائدہ اٹھا رہي ہے?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬