26 May 2011 - 16:59
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2822
فونت
آيت الله مکارم شيرازي :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے تاکيد کي : اگراسلام ، پيغمبر اسلام کے ترسيم کردہ راستے پر گامزن ہوتا تو اج مسلمانوں کے حالات بہتر ہوتے ?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله ناصر مکارم شيرازي نے اج جمعرات کي صبح اپنے ھفتہ وار تفسير کے درس ميں جو علماء وطلاب کي موجودگي ميں مدرسہ اميرالمومنين عليہ السلام قم ميں منعقد ہوا امام علي عليہ السلام سے منقول روايت کے ائينے ميں قران کريم کي فضيلت ومنزلت بيان کي ?

اس مرجع تقليد نے فرمايا : زمان جاھليت کي عوام جھالت ، خرافات اور بے بنياد باتوں ميں الجھي ہوئي تھي ، قران کريم نے ان سب کو جہالت وناداني سے باھر نکالا ?

اس مرجع تقليد نے مزيد کہا : ان کے درميان اختلافات اور تفرقہ اعلي ترين سطح پرموجود تھا ، قبيلے بہت زيادہ جنگيں لڑا کرتے تھے مگر اسلام نے اس معاشرے کو جہالت سے باہر نکالا ?

حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے مزيد کہا : دشمن دو سو سال لڑنے کے بعد بھي مسلمانوں سے بيت المقدس نہ لے سکا مگر صھيونيت نے چھ دن کي جنگ ميں اعراب سے چھين ليا ?

حوزہ علميہ قم کے اس معروف استاد نے بيان کيا : قران کے مقدس وجود نے علم کي بنيادوں کو مضبوط ، بکھري ہوئي قوم کو متحد کرديا اور خرافات و تنگدستي کا خاتمہ کيا ?

اس مرجع تقليد نے امت اسلاميہ کي مشکلات کي بنياد پيغمبر اسلام کے بتائے ہوئے راستے سے منحرف ہونا بتاتے ہوئے کہا : اگر مرسل اعظم کے بعد اسلام وقران اپنے راستے پرگامزن ہوتے تو اج دنيا کا چھرہ کچھ اورہي ہوتا اور اس بھي بہتر مقام ومنزلت کے حامل ہوتے ?

اس مفسر قران کريم نے تاکيد کي : قران کريم کي عظمت ومنزلت کو سمجھنے کے لئے ضروري ہے کہ زمان جاھليت کے عربوں کے حالات کا جائزہ ليا جائے کہ وہ کہاں تھے اوراسلام نے انہيں کہاں پہنچايا ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬