30 May 2011 - 14:29
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2836
فونت
ڈاکٹر ساجد خاکواني
رسا نيوز ايجنسي ـ مصراورغزہ کے درميان آمدورفت کي بحالي
مصراورغزہ کے درميان آمدورفت کي بحالي
بسم ا? الرحمن الرحيم

ڈاکٹر ساجد خاکواني
drsajidkhakwani@gmail.com

رات کتني ہي اندھيري اور طويل ہو اور اس کا سحر کتنا ہي بھيانک و اندھوناک ہو با لآخر مشرق سے بلند ہو نے والے آفتاب کي کرنيں اپنے اجالوں سے اس تاريک شب کا گلا گھونٹ ديتي ہيں ?امت مسلمہ کي گردن پر بھي دورغلامي کے بچے کھچے اندھيروں نے ہنوز اپنے آسيبي پنجے گاڑھ رکھے ہيں اور اس اندھيرے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ظاغوتي طاقتوں کے پروردہ اور استعمار کي آشيہر باد کے حامل چمگادڑيں ملت کے اس سرسبز و شاداب پيڑ پر الٹي لٹکي اپنے عبرت انگيزانجام کي منتظر ہيں? ماضي قريب ميں مصر کے انقلابي نوجوانوں نے اسي قبيل سے متعلق اپنے اوپر مسلط ايک بدترين آمر کو جڑوں سميت اکھاڑ پھينکا ہے?

حسني مبارک سالہا سال سے مصري مسلمانوں پر غيروں اور دشمنوں کي پاليسياں نافذ کرنے ميں سرگرم عمل تھا، ليکن آخر کب تک، ايمان کي حدت کے سامنے برف پر پاؤں جمانے والے کب تک ٹکے رہ سکتے ہيں? امريکہ اور اسرائيل کي خوشنودي ورضا کے حصول کي خاطر حسني مبارک نے جون2007 ميں عين اس وقت غزہ سے ملنے والا فلسطين کا واحد زميني راستہ بند کر ديا جب حماس نے زمام اقتدار سنبھالي ? اس کے بعد فلسطينيوں پر اسرائيل نے متعدد بار مشق ستم توڑي ليکن اس مصري آمر نے اس راستے کے کھولنے کي اجازت نہ دي کيونکہ اسرائيل اور امريکہ کي نافرماني اس قبيل کے حکمرانوں کے عقيدہ و مذہب کے برخلاف ہے?

زميني راستہ مصر کي طرف سے بندش کا شکار تھا جبکہ سمندر کے راستے کي اسرائيلي بحريہ نے ناکہ بندي کررکھي تھي جس کے نتيجے ميں غزہ کے عوام بيماري، غربت اورمجبوري کي حالت ميں انتہائي کسمپرسي کے دن گزارتے رہے ليکن مصر کے اس سابق حکمران کو ذرا بھي ترس نہ آيا حتي کي يورپ اور امريکي عوام تک نے غزہ کے ليے بحري راستوں سے انساني ہمدردي کے تحت اجناس اور دوائيں بھيجيں جو کبھي اسرائيل نے جانے دي اور کبھي روک دي ليکن مصر کي طرف کا راستہ پھر بھي حسني مبارک نے بند رکھا?

غزہ کي پٹي پٹي پر جہاں مصر اور فلسطين کے درميان سرحد واقع ہے اس گاؤں کا نام ''رفاح يا رفح'' ہے، يہ غزہ کا واحد زميني راستہ ہے جو کسي دوسرے ملک کي طرف کھلتا ہے ?

''رفاح'' فلسطين کاجنوبي علاقہ ہے جو غزہ سے بمشکل تيس کلوميٹر کي جنوبي مسافت پر واقع ہے? سات ہزار سے کچھ زائد نفوس پر مشتمل يہ علاقہ بنيادي طور پر فلسطيني مہاجرين کے ليے عالمي شہرت رکھتا ہے جو اسرائيلي ظلم و ستم سے تنگ آ کر پڑوسي مسلمان ملک کي پناہ لينے کے ليے يہاں خيمہ زن ہوئے ليکن مسلمان ملکوں کے سيکولر حکمرانوں نے ان کے ساتھ وہي سلوک کيا جو سيکولزازم نے انہيں سکھاياتھا? ''رفاح'' کا انتظام ايک ضلعي حکومت کے تحت چلاياجاتاہے،1998 ميں يہاں ايک ہوائي اڈہ بھي تعمير کيا گيا تھا ليکن اسرائيل کي صہيوني افواج نے اسے اپني دہشت گردي کا شکار کر کے نيست و نابود کر ديا?

''رفاح'' کي سرحد 1979ء ميں اسرائيل مصر امن معاہدے کي رو سے بين الاقوامي طور پر مسلمہ سرحد ہے جس کي طوالت بمشکل سات ميل ہي ہے? اسي معاہدے کے تحت 1982 ميں اسرائيل نے يہ علاقہ خالي کر ديا اور اس سرحدي حصے کي نگراني مصر کو سونپي گئي? تا ہم يورپي يونين کے تحت اسرائيلي ائرپورٹ اتھارٹي يہاں پر نقل و حرکت اور آنے جانے والوں کي نگراني کرتي رہي?

11 ستمبر 2005 کو اسرائيلي انتظاميہ نے رفاح کي سرحد مکمل طور پرخالي کردي اور يورپي يونين کے ادارے European Union Border Assistance Mission Rafah (EUBAM)). نے يہاں پر آنے جانے والوں کي نگراني شروع کر دي? سيکولر يورپي تہذيب کے خداوندان اگر انسانيت کے اتنے ہي خير خواہ اور امن پسند ہوتے تو دنيا پر پہلي اور دوسري جنگ عظيم کيوں مسلط کرتے?

مصراوراسرائيل مل کر جس سرحد کي برسوں نگراني کرتے رہے اس سر حد پر اس يورپي ادارے کے وارد ہوتے ہي کچھ ہي عرصے ميں اسرائيلي اور فلسطينيوں کي جھڑپيں شروع ہو گئيں? آگ لگانے کا اپنا کام کر کے يورپي يونين کا يہ ادارہ واپس سدھار گيا اور اسرائيل کي ہدايات پر عمل کرتے ہوئے حسني مبارک نے يہ سرحد مکمل طور پر بندکردي?

اس کے بعد کئي مواقع پر فلسطيني مريضوں کو، مفلوک الحال عورتوں اور بچوں کو اور طالب علوں ''رفاح'' کي اس سرحد پر جمع ہوتے ديکھا گيا ليکن مصر کے سيکولر حکمرانوں نے اپني پوليس اور افواج کي مدد سے ان ''انسانوں'' کو واپس دھکيل ديا کہ سيکولرازم کا يہي سبق ہے بقول اقبال کے ''پيتے ہيں لہو ديتے ہيں تعليم مساوات''?

دوسري طرف مصرکي جانب اس ''رفاح'' کي سرحد پر کئي کئي ہفتوں تک کتنے ہي ڈاکٹرز اورانسان دوست تنظيميں، خوراک ، ادويات اور ديگر ضروريات زندگي سے لدي پھندي گاڑياں کے کر کھلے آسمان کے نيچے کھڑے رہے، وہ سامان زيست خراب ہو گيا ليکن ان سيکولر حکرانوں کا امريکہ اور اسرائيل پر ايمان متزلزل نہ ہوا? ادھر غزہ کي پٹي کے مسلمان جنہيں سيکولر مغربي تہذيب انسان بھي ماننے کے ليے تيار نہيں ہے اپني زندگي کے بد ترين ايام سے گزر رہے تھے، ہسپتال مريضوں سے بھرے ليکن دوائيوں سے خالي، تعليمي ادارے طالب علموں سے بھرے ليکن سامان تعليم و تعلم سے خالي اور دکانيں اور بازار کھلے ليکن اشيائے خورد و نوش و ضروريات زندگي سے خالي?

کتنے دکھ کي بات ہے کہ ايک طرف توعرب حکمران لندن کے چڑياگھر کو پچاس کروڑپونڈ کي خطيررقم ہديہ کر کے آتے ہيں کيونکہ جانور بيمار پڑ گئے ہيں اور لندن کے بچوں کے چہروں سے ''مسکراہٹ''غائب ہو گئي ہے اور دوسري طرف فلسطيني بچوں کو موت کے منہ سے بچانے کے ليے ان کے زبان سے ايک اخباري بيان تک نہيں نکل پايا? 22 جنوري 2008 کو حالات سے مجبور بلکہ زندگي سے مجبور غزہ کے عوام ايک سيلاب بن کر مصري سرحد پر ٹوٹ پڑے اور مصري فوج نے ان کي خوب پٹائي کي اور ان بھوکے اور بيمار نہتے مظاہرين پر گولياں بھي چلائيں کہ تمام اسلامي ممالک کي افواج کا يہي کردار ہے کہ وہ دشمن سے خوفزدہ ہو کر ان کے سامنے ہتھيار ڈالتے ہيں اور اپنے نہتے عوام پر بندوقوں کے دہانے کھولتے ہيں، ليکن اب يہ سيلاب تھمنے والا نہ تھا چنانچہ اسي رات کو غزہ کے نوجوانوں نے ہمت کر کے تو سرحد پر لگي مضبوط و بلند و بالا کنکريٹ کي ديوار کا دوسو ميٹرجتنا حصہ توڑ ديا جس کے نتيجے ميں دو لاکھ سے سات لاکھ تک کي تعداد ميں فلسطيني ''انسان'' مصر ميں داخل ہوئے اور انہيں، ہسپتالوں اور ضروريات زندگي کي دکانوں پرکثرت سے ديکھا گيا ? عوامي دباؤ کے تحت دس دن تک يہ سرحد کھلي رہي جسے استعمارکے گماشتوں نے 2 فروري کو پھر بند کر ديا?

مصر سے حسني مبارک کي بے آبرو روانگي کے بعد اس بات کے امکانات بڑھ گئے تھے اب اچھے دن قريب آن لگے ہيں ? پس 28 مئي 2011 کو مصر کي نئي انتظاميہ نے ''رفاح'' سرحد چوکي کو فلسطينيوں کي آمد و رفت کے ليے کھول ديا ہے اور پہلے گھنٹے ميں ہي سينکڑوں لوگوں نے اس سرحد کو عبور کيا ہے ? ابھي بھي اسرائيل کي طرف سے کچھ پابندياں عائد ہيں اور اسرائيلي ادارے آنے جانے والوں کي اور ان کے سامان کي سخت قسم کي تلاشي ليتے ہيں تاہم ذرائع کے مطابق مصري حکومت کے وزير خارجہ بہت جلد حماس کے ذمہ داران سے مزاکرات کرنے والے ہيں جس ميں سفر کو مزيد آسان اور پابنديوں کو کم سے کم کرنے کے ليے بات چيت کي جائے گي ? سرحد کھلنے پر ايک 65 سالہ بزرگ جو ايک عرصے سے گردوں کے مرض ميں مبتلا تھے انہوں نے اپنے بچوں کے الوداعي بوسے ليے اور علاج کے ليے مصر کو روانہ ہوئے، کئي طالب علوں کے جن کے داخلے ہو چکے تھے وہ اپني تعليم کے ليے مختلف ملکوں اور شہروں کو سدھار گئے اور کئي تجار سامان زندگي کي فراہمي کے ليے مصر گئے تاکہ غزہ کے مکينوں کي زندگي کو آسان تر بنايا جا سکے? اسي طرح بہت سے ہسپتالوں سے وابسطہ ڈاکٹروں نے بھي سرحد پار کي تاکہ دواؤں کي فراہمي کو يقيني بنا کر علاج معالجہ کي سہولتوں کو بہتر بنايا جا سکے? ايک رپورٹ کے مطابق ہزاروں افراد اب تک سفر کے ليے اپني رجسٹريشن کرا چکے ہيں?

يہ ٹھنڈي ہوا کے ابتدائي جھونکوں ميں سے ايک جھونکا ضرور ہے ليکن آخري نہيں، صديوں غلامي کا طلسم اگر چہ ٹوٹتے ٹوٹتے ٹوٹے گا ليکن اب ميرے رب نے چاہا تودو اچھي خبروں کے درميان کا وقفہ کم سے کم تر ہوتا چلا جائے گا کہ موجودہ صدي خلافت علي منہاج نبوت کي صدي ہے ?

ہم مصر کي نئي انتظاميہ کو اس اہم اور خوش آئند اقدام پر ہديہ تہنيت پيش کرتے ہيں اور مستقبل ميں اس سے بھي بہتر اور جراتمندانہ اقدامات کي توقع بھي رکھتے ہيں? مصر کے بعد صحرائے مشرق وسطي ميں بھي بيداري کي لہر نے عرب اقوام کو گہري نيند سے بيدار کر ديا ہے اور امت ميں بس ايک قيادت کي کمي تھي جو قرون اولي کي طرح اب بھي عربوں نے ہي فراہم کرني ہے اور امت کے عظمت رفتہ کو واپس لانا ہے? فلسطينيوں کي چوتھي نسل سيکولر مغربي تہذيب کي ''انسان دوستي'' کي بھينٹ چڑھ رہي ہے ليکن قوميں قوموں کو معاف نہيں کيا کرتي کے مصداق آخر کو يہ رات اپنے انجام کو پہنچني ہے اور پھرجس طرح جہاد افغانستان کے نتيجے ميں کيمونزم کو ماسکو ميں پناہ نہ مل سکي اور لينن گراڈ چوک پر لينن کے ديو قامت مجسمے کو کرين کے ذريعے بلندي سے نيچے گرا کر پاش پاش کر ديا گيا اور آج وہ باطل نظريہ تاريخ کي کتابوں ميں دفن ہو چکا ہے اسي طرح سودي استحصال اور عورت کوعرياني و فحاشي کے ترازو ميں تولنے والي سيکولر مغربي تہذيب کے دن بھي گنے جا چکے ہيں اور فلسطين سميت افغانستان، عراق ، شيشان، کشمير، برما، اريٹيريا اور دنيا کے وہ تمام خطے جہاں اس سيکولر مغربي تہذيب نے يورپ اور امريکہ کي آہني و استعماري قوت سے انسانوں کے کشتوں کے پشتے لگا کر درياؤں ميں پاني کي جگہ آدم زادي خون بہايا ہے ان کي نسلوں کي آندھي اور طوفان ميں، جينوا پيرس، لندن اور واشنگٹن بھي خس و خاشاک کي طرح بہہ جائيں گے کہ اس انسانيت کا مستقبل صرف محسن انسانيت ? کي تعليمات سے ہي وابسطہ و پيوسطہ ہے?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬