02 June 2011 - 17:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2855
فونت
رسا نيوزايجنسي - مستضعفين جہان اپني زندگي ميں آزادي اور خوشي کي لہر دوڑائيں کيونکہ نااميدي، شکست اور کفرآميز ماحول ميں سانس لينے کا دور ختم ہو چکا ہے اور اقوام عالم کے گلستان ميں بہار آ چکي ہے?
امام خميني

امام خميني رہ کي سوچ اور انکا تفکر خاص جغرافيائي حدود ميں محدود نہيں ہو سکتا اور اسے ان حدود سے نکل کر دوسري سرزمينوں ميں پرواز کرنے اور مسلمان اقوام کو مخاطب قرار دينے سے کوئي نہيں روک سکتا? امام خميني رہ عالم اسلام کے بارے ميں سوچتے تھے اور مسلمانوں کو استکباري طاقتوں اور انکے پٹھو حکمرانوں سے نجات اور آزادي دلانے پر غور کرتے تھے?

انہوں نے ہميشہ مسلمانوں کو متحرک ہونے اور قيام کرنے کي دعوت دي تاکہ امريکہ کے کٹھ پتلي اور صہيونيزم کے ساتھ دوستي رکھنے والے حکمرانوں کے عمل سے پيدا ہونے والي ذلت اور رسوائي کو مسلمان اقوام کي عزت، خودمختاري اور عالمي استعمار اور آمريت سے آزادي ميں تبديل کر ديا جائے?

حضرت امام خميني رہ ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي سے پہلے اور اسکے بعد اس اصيل اور جامع تفکر کے ذريعے جسکي بنياد درحقيقت اسلامي تعليمات اور قوانين پر استوار ہے، مسلمان نشين خطوں کي خودمختاري اور "امت واحدہ" کي تشکيل کيلئے عملي و فکري زمينہ فراہم کرنا چاہتے تھے?

انقلاب اسلامي ايران کي کاميابي کے بعد امام خميني رہ کا يہ تفکر مزيد پروان چڑھا اور اس عظيم الہي پيشوا کي جدوجہد ميں بھي اضافہ ہو گيا جسکي وجہ سے انکي جانب سے مسلمانوں کو سياسي آگاہي دينے اور عالمي کفر کے مقابلے ميں اٹھ کھڑے ہونے کي پکار سنائي دي?

ذيل ميں امام خميني رہ کا دنيا کے مسلمانوں کے نام وہ تاريخي پيغام ہے جو 20 جولائي 1988 کو آپکي جانب سے صادر کيا گيا ہے? اس پيغام ميں بآساني مشاہدہ کيا جا سکتا ہے کہ امام خميني رہ کس طرح مسلمانان عالم کو مسلم ممالک کے پٹھو حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور قيام کرنے کي دعوت ديتے ہيں اور کس طرح انکے بے جان بدن ميں بيروني استعمار اور اندرواني آمريت کے خلاف جہاد اور مبارزے کي روح پھونکتے ہيں اور انہيں فتح کي بلند چوٹيوں کو سر کرنے کي اميد دلاتے ہيں?

ہم آج مسلم ممالک ميں امريکہ کے پٹھو حکمرانوں کے خلاف جن تحريکوں کا مشاہدہ کر رہے ہيں وہ درحقيقت وہي بيداري اور آزادي کي تحريکيں ہيں جنکي پيش بيني امام خميني رہ نے کئي سال قبل انتہائي خوبصورت اور دلنشين انداز ميں کر دي تھي?

امام خميني رہ کا پيغام:

باسم اللہ الرحمن الرحيم

حقيقت يہ ہے کہ مشرقي اور مغربي استکباري حکومتوں خاص طور پر امريکہ اور روس نے دنيا کو دو حصوں ميں تقسيم کر رکھا ہے، ايک حصہ سياسي طور پر آزاد اور دوسرا سياسي اعتبار سے محدود? يہ استعماري قوتيں ہيں جو آزاد حصے ميں کسي قانون کي پابند نہيں اور دوسروں کے مفادات کے خلاف اقدامات انجام دينے اور دوسري اقوام کو اپنا غلام بنانے کو ضروري سمجھتي ہيں اور اس عمل کو مکمل طور پر منطقي اور اپنے بنائے ہوئے بين الاقوامي قوانين کے ساتھ منطبق خيال کرتي ہيں? ليکن دوسرے حصے ميں، جہاں بدقسمتي سے اکثر کمزور اقوام اور خاص طور پر مسلمان قيدي بنے ہوئے ہيں، کسي قسم کا حق حيات اور اظہار وجود نہيں ہے? وہاں پر تمام قوانين اور فارمولے استکباري نظام کي جانب سے ڈکٹيشن پر مبني ہيں جنکا مقصد اپنے مفادات کا حصول اور انکا تحفظ ہے? مزيد يہ کہ ان پاليسيوں اور قوانين کا اجراء کرنے والے افراد وہي کٹھ پتلي حکمران ہيں جنہيں ان اقوام پر مسلط کر ديا گيا ہے اور جو اس زندان ميں درد سے چلانے کو بھي جرم اور ناقابل بخشش گناہ تصور کرتے ہيں? عالمي استعماري قوتوں کے مفادات کا تقاضا يہ ہے کہ وہ کسي کو ايسا ايک لفظ بھي بولنے کي اجازت نہ ديں جس سے انکي کوئي کمزوري ظاہر ہوتي ہو يا انکي نينديں حرام ہوتي ہوں?

اب جبکہ مسلمانان عالم ان قوتوں کي جانب سے دباو، قيد اور سزائے موت کے باعث مسلط کردہ حکمرانوں کي جانب سے نازل ہونے والي مصيبتوں کو بيان کرنے کي طاقت بھي نہيں رکھتے تو ضرورت اس بات کي ہے کہ وہ پرامن حرم الہي [حرمين شريفين] ميں مکمل آزادي کے ساتھ اپني مصيبتوں اور دکھ درد کو بيان کر سکيں اور تمام مسلمانوں کي آزادي کيلئے دعا کر سکيں? لہذا ہم اس بات پر زور ديتے ہيں کہ مسلمانان عالم کم از کم حرمين شريفين ميں خود کو ظالموں کے ہر قسم کے قيد و بند سے آزاد محسوس کر سکيں اور جس چيز سے وہ نفرت کرتے ہيں اسکے ” ہمارے پاکيزہ شہداء کے خون کي خوشبو پوري دنيا ميں پھيل چکي ہے اور اسکے اثرات مختلف جگہوں پر قابل مشاہدہ ہيں? “ خلاف اعلان برائت کر سکيں اور اپني آزادي کيلئے ہر وسيلہ بروئے کار لا سکيں?

ہم مشرکين سے اعلان برائت کے ذريعے عالم اسلام کي تمامتر توانائيوں کو بروئے کار لانا چاہتے ہيں اور انشاءاللہ خداوند عالم کي مدد سے وہ دن ضرور آئے گا جب فرزندان قرآن کے ہاتھوں يہ کام ہو کر رہے گا? اور انشاءاللہ ايک دن تمام مسلمانان عالم اور مظلوم افراد دنيا کے ظالموں کے خلاف آواز بلند کريں گے اور يہ ثابت کر ديں گے کہ عالمي استعماري قوتيں اور انکے پٹھو اور نوکر حکمران دنيا کي منفورترين موجودات ہيں?

زائرين خانہ خدا کي قتل و غارت اپني استکباري پاليسيوں کے تحفظ اور حقيقي اسلام محمدي صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے اثر و رسوخ کو روکنے کي ناپاک سازش ہے? مسلم ممالک کے بے حس حکمرانوں کا سياہ اور شرم آور نامہ اعمال اسلام اور مسلمين جہان کے خستہ حال بدن کے بڑھتے ہوئے دردوں کو ظاہر کرتا ہے?

پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کو عالي شان مسجدوں اور خوبصورت ميناروں کي کوئي ضرورت نہيں? پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم اپنے پيروکاروں کي عظمت اور شان و شوکت کے خواہاں تھے جو بدقسمتي سے مسلم حکمرانوں کي غلط پاليسيوں کي وجہ سے مٹي ميں مل چکي ہے? آيا مسلمانان عالم آل سعود کي ذلت آميز زندگي کے دوران مسلم فرقوں سے تعلق رکھنے والے سينکڑوں علماء اور ہزاروں خواتين کے قتل عام اور خانہ کعبہ کے زائرين کي قتل و غارت جيسے سانحے کو فراموش کر ديں گے؟،

کيا مسلمان نہيں ديکھ رہے کہ آج دنيا کے مختلف مقامات پر وہابيت کے مراکز فتنہ گري اور جاسوسي کے اڈے بن چکے ہيں؟ جو ايک طرف تو شاہانہ اسلام، ابوسفيان کا اسلام، درباري ملاوں کا اسلام، بے شعور متحجر افراد کا اسلام، ذلت اور بدبختي والا اسلام، دولت اور طاقت والا اسلام، فريبکاري، سازش اور غلامي والا اسلام، مظلوم اور پابرہنہ عوام پر سرمايہ داروں کي حاکميت والا اسلام يا دوسرے الفاظ ميں "امريکي اسلام" کي ترويج ميں لگے ہوئے ہيں اور دوسري طرف اپنے آقا اور سرور امريکہ کي چوکھٹ پر سر تسليم خم کئے ہوئے ہيں?

مسلمان نہيں جانتے اس درد کو کہاں لے جائيں کہ آل سعود اور "خادم حرمين شريفين" اسرائيل کو اطمينان دلاتا ہے کہ ہمارا اسلحہ کبھي بھي تمہارے خلاف استعمال نہيں ہو گا! اور اپني بات کو درست ثابت کرنے کيلئے ايران سے اپنے تعلقات کو ختم کر ليتا ہے? مسلم ممالک کے حکمرانوں کے صہيونيستوں کے ساتھ کس قدر دوستانہ تعلقات ہونے چاہئيں جسکي بنا پر اسرائيل کے ساتھ حتي الفاظ کي حد تک اختلاف بھي انکي کانفرنس کے ايجنڈے سے حذف ہو جائے? اگر ان حکمرانوں ميں ذرہ بھر اسلامي اور عربي غيرت ہوتي تو وہ اس گھٹيا سياسي ساز باز اور خود فروشي اور وطن فروشي پر راضي نہ ہوتے?

آيا يہ اقدامات عالم اسلام کيلئے شرم آور نہيں؟ اور ان پر خاموش تماشائي بنے رہنا گناہ اور جرم نہيں؟? آيا مسلمانوں ميں کوئي ہے جو اٹھ کھڑا ہو اور اس قدر ذلت اور رسوائي کو برداشت نہ کرے؟? کيا ہميں ايسے ہي بيٹھے رہنا چاہئے تاکہ مسلمان حکمران ايک ارب مسلمانوں کے احساسات کو مجروح کرتے رہيں اور صہيونيستوں کے ظلم و ستم کو جائز قرار ديتے رہيں اور مصر اور دوسرے ممالک کو سامنے لاتے رہيں؟? کيا مسلمان اس بات پر يقين کر ليں گے کہ ايراني زائرين خانہ کعبہ اور حرم پيغمبر اکرم ص پر قبضہ کرنا چاہتے تھے يا چاہتے تھے کہ کعبہ کو اٹھا کر قم لا آئيں؟!? اگر مسلمانان عالم نے مان ليا ہے کہ انکے حکمران امريکہ، روس اور اسرائيل کے حقيقي دشمن ہيں تو پھر وہ ہمارے خلاف انکے پروپيگنڈے کو بھي مان ليں گے?

البتہ ہم اپني خارجہ اور بين الاقوامي اسلامي پاليسي ميں بارہا اس حقيقت کا اعلان کر چکے ہيں کہ دنيا ميں اسلام کے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور عالمي استعماري قوتوں کے قبضے کو کم کرنے کے درپے ہيں? اب اگر امريکہ کے نوکر اس پاليسي کو توسعہ طلبي يا ايک سپر پاور بننے کي سوچ کا نام ديتے ہيں تو ديتے رہيں، ہميں اسکا کوئي خوف نہيں? ہم دنيا سے صہيونيزم کي فاسد جڑوں، سرمايہ دارانہ نظام اور کميونيزم کو ختم کرنے کے درپے ہيں? ہم فيصلہ کر چکے ہيں کہ خداوند عالم کي مدد اور عنايت سے ايسے نظاموں کو جو ان تين بنيادوں پر قائم ہيں ختم کر ديں اور انکي جگہ رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کا اسلامي نظام رائج کريں? دير يا زود اقوام عالم ايسے نظام کا مشاہدہ کريں گي?

ہم پوري طاقت کے ساتھ امريکيوں ” انشاءاللہ ايک دن تمام مسلمان ھمصدا ہو کر ظالموں کے خلاف آواز بلند کريں گے کہ سپرپاورز اور انکے پٹھو حکمران دنيا کي منفورترين موجودات ہيں? “ کے تحفظ اور انکي جانب سے بھتہ لينے کا مقابلہ کريں گے چاہے ہميں طاقت کا استعمال ہي کيوں نہ کرنا پڑے? ہم انشاءاللہ اجازت نہيں ديں گے کہ خانہ کعبہ اور حج سے، جسے انسانيت کي بلنديوں پر دنيا بھر ميں مظلوموں کي آواز کو پنچانا چاہئے، امريکہ اور روس کے ساتھ ہمکاري کي کفرآميز اور شرک آلود صدائيں سنائي ديں?

مسلمانان عالم اور مستصعفين جہان کو انقلاب اسلامي ايران پر فخر کرنا چاہئے جس نے عالمي استکباري قوتوں کے سامنے ديوار کھڑي کر دي ہے، وہ اپني زندگي ميں آزادي اور خوشي کي لہر دوڑائيں کيونکہ نااميدي، شکست اور کفرآميز ماحول ميں سانس لينے کا دور ختم ہو چکا ہے اور اقوام عالم کے گلستان ميں بہار آ چکي ہے? مجھے اميد ہے کہ تمام مسلمان آزادي کے پھولوں اور نسيم بہاري کي خوشبو اور محبت و عشق کے پھولوں کي تروتازگي کو محسوس کريں اور اپنے ارادوں کے پھوٹنے والے چشموں کو ديکھيں? ہم سب کو چاہئے کہ خاموشي اور جمود کي اس دلدل سے باہر آ جائيں جو امريکہ اور روس کے کٹھ پتلي حکمرانوں نے ہمارے لئے بنا رکھي ہے اور ايسے سمندر کي جانب روانہ ہوں جہاں سے زمزم پھوٹتا ہے اور خانہ کعبہ کے غلاف کو جو امريکہ اور امريکہ زادوں کے نجس ہاتھوں سے آلودہ ہو چکا ہے اپنے آنسووں سے دھو ڈاليں?

اے دنيا کے مسلمانو، اب جبکہ آپ لوگ غيروں کے تسلط ميں تدريجي موت کا شکار ہو چکے ہيں تو موت کے خوف پر غالب آ جائيں، اپنے ايسے جوانوں کو استعمال کريں جو شہادت کے جذبے سے سرشار ہيں اور کفر سے ٹکرا جانے کي جرات رکھتے ہيں? موجود صورتحال کو حفظ کرنے کي نہ سوچيں بلکہ غلامي سے نجات، قيد سے آزادي اور اسلام کے دشمنوں پر حملہ ور ہونے کا سوچيں، کيونکہ زندگي اور عزت جہاد ميں پوشيدہ ہے? اور جہاد کا پہلا قدم ارادہ ہے، اور اسکے بعد خود پر عالمي کفر اور شرک خاص طور پر امريکہ کي حکومت کو ختم کرنے کا فيصلہ ہے?

ہم چاہے مکہ مکرمہ ميں ہوں يا نہ ہوں ہمارا دل اور ہماري روح ابراہيم عليہ السلام اور مکہ کے ساتھ ہيں? مدين? الرسول ص کے دروازے چاہے ہم پر کھلے ہوں يا بند ہوں، پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہمارا محبت کا رشتہ و ناطہ ہر گز کمزور يا ختم نہيں ہو سکتا? ہم خانہ کعبہ کي جانب رخ کر کے نماز ادا کرتے ہيں اور اس پر جان بھي نچھاور کرنے کيلئے تيار ہيں? ہم خدا کے شکرگزار ہيں کہ اسکے ساتھ کئے گئے وعدے پر ثابت قدم ہيں اور مشرکين سے اظہار برائت ميں ہزاروں شہداء کا خون ھديہ کر چکے ہيں? ہم نے اس بات کا انتظار بھي نہيں کيا کہ بعض مسلم اور غيرمسلم ممالک کے بے شخصيت حکمران ہماري حمايت کا اعلان کريں? ہم تاريخ کے ہميشہ مظلوم، محروم اور پابرہنہ افراد ہيں? خدا کے علاوہ ہمارا کوئي نہيں? اگر ہزار بار بھي ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر ديئے جائيں تب بھي ہم ظلم کا مقابلہ کرنا نہيں چھوڑيں گے?

اسلامي جمہوريہ ايران دنيا کے ايسے آزاد انديش مسلمانوں کا شکريہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اپنے اوپر حکمفرما سياسي دباو اور گھٹن کے باوجود کانفرسز، انٹرويوز اور تقريروں کے ذريعے امريکہ اور آل سعود کے جرم و جنايتوں کو آشکار کيا اور دنيا والوں کو ہماري مظلوميت سے آگاہ کيا ہے? مسلمانوں کو جان لينا چاہئے کہ جب تک دنيا ميں موجود طاقت کا توازن انکے حق ميں قائم نہيں ہو جاتا ہميشہ غيروں کے مفادات کو انکے مفادات پر ترجيح دي جائے گي اور ہر روز شيطان بزرگ يا روس اپنے مفادات کے تحفظ کے بہانے نيا حادثہ جنم ديں گے? آيا ممکن ہے مسلمان اپنے مسائل کو سنجيدگي سے حل کئے بغير اور ايک عالمي طاقت بنے بغير سکون کا سانس لے سکيں؟?

آج اگر امريکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے بہانے ايک اسلامي ملک کي اينٹ سے اينٹ بجا دے تو کون اس کو روک سکتا ہے؟? پس جہاد کے علاوہ کوئي راستہ نہيں بچا، عالمي سپر پاورز خاص طور پر امريکہ کے دانت توڑ دينے چاہئيں? ہمارے پاس دو راستوں کے علاوہ کوئي راستہ نہيں، يا شہادت اور يا فتح? اور ہمارے مکتب ميں يہ دونوں راستے فتح اور کاميابي کے راستے ہيں?

ہم خداوند عالم سے دعاگو ہيں کہ وہ مسلمانان عالم کو يہ توفيق عطا کرے کہ وہ عالمي طاقتوں کے بنائے ہوے ظالمانہ نظام کو نابود کر ڈاليں اور انساني احترام پر مبني نيا نظام قائم کر سکيں اور ہم سب کو ذلت سے نکل کر عزت کي زندگي گزارنے ميں مدد فراہم کرے?

بعض افراد گذشتہ سال حج کے تلخ اور شيرين واقعے سے پہلے اسلامي جمہوريہ ايران کي جانب سے حج کے موقع پر مشرکين سے برائت کي خاطر مظاہرہ کرنے کے فلسفے کو سمجھنے سے قاصر تھے? ” ميں اميدوار ہوں کہ مسلمانان عالم آزادي کے پھولوں اور نسيم بہاري کي خوشبو اور محبت و عشق کے پھولوں کي تروتازگي کو محسوس کريں?

“ وہ خود اور دوسروں سے يہ سوال کرتے تھے کہ حج کے موقع پر اتني گرمي ميں مظاہرہ کرنے اور نعرے لگانے کي کيا ضرورت ہے؟? اور اس مظاہرہ سے عالمي استکبار کو کيا نقصان پہنچے گا؟? ممکن ہے سادہ لوح افراد يہ سمجھتے ہوں کہ آج کي متمدن دنيا ميں عالمي استکباري قوتيں نہ صرف ايسے اعتراضات کو برداشت کرنے کي طاقت رکھتے ہيں بلکہ اس سے بھي زيادہ شديد اعتراض کي اجازت بھي فراہم کر سکتے ہيں? اور اس مدعا پر آزاد تصور کئے جانے والے مغربي ممالک ميں مظاہروں کي آزادي کو دليل بنا کر پيش کريں? ليکن ميں يہ بات واضح کر دينا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے مظاہرے عالمي سپر پاورز کيلئے کوئي خطرہ تصور نہيں کئے جاتے?

يہ مکہ اور مدينہ ميں ہونے والے مظاہرے ہيں جنکا نتيجہ سعودي عرب سے مغربي دنيا کو ارسال ہونے والي تيل کي سپلائي کا معطل ہونا ہے? يہي وجہ ہے کہ آزاد انديش مرد اور خواتين کے قتل عام کے ذريعے ان مظاہروں کا سلسلہ روکا جاتا ہے? مشرکين سے اعلان برائت ہي وہ اقدام ہے جو سادہ لوح افراد کو يہ سمجھنے ميں مدد ديتا ہے کہ امريکہ اور روس کي چوکھٹ پر سجدہ کرنا درست نہيں?

اے ايران کي بہادر اور باعزت قوم، يقين رکھيں کہ مکہ کا حادثہ اسلامي دنيا ميں عظيم تبديليوں کا پيش خيمہ ثابت ہو گا اور مسلم ممالک ميں حکمفرما فاسد حکومتي نظاموں اور درباري ملاوں کي نابودي کا زمينہ فراہم کرے گا? اگرچہ سانحہ مکہ کو ايک سال سے زيادہ کا عرصہ نہيں گزرا ليکن ہمارے پاکيزہ شہداء کے خون کي خوشبو تمام دنيا ميں پھيل چکي ہے اور دنيا کے اکثر حصوں ميں اسکے اثرات دکھائي دے رہے ہيں?

فلسطيني عوام کي جدوجہد محض اتفاق نہيں ہے، دنيا کيا سمجھتي ہے کہ يہ انقلاب کون لايا ہے اور فلسطيني عوام کن اھداف کے حصول کيلئے خالي ہاتھ اسرائيل کے وحشيانہ حملوں کا مقابلہ کر رہے ہيں؟? کيا وہ صرف اور صرف وطن کي خاطر اس قدر شجاع اور دلير ہو گئے ہيں؟، کيا يہ بکے ہوئے سياستدانوں کي کوششوں کا نتيجہ ہے کہ فلسطيني عوام کے دامن ميں ثابت قدمي جيسے پھل اور اميد و روشني کے زيتون گر رہے ہيں؟?

اگر ايسا ہوتا تو کيسے ممکن تھا کہ يہ سياستدان کئي سالوں سے فلسطين اور فلسطيني قوم کے نام پر اپنا پيٹ پال رہے ہوتے؟? اس ميں کوئي شک نہيں کہ يہ "اللہ اکبر" کے نعرے ہيں، يہ ہماري قوم کا وہي نعرہ ہے جس نے ايران ميں شاہ اور بيت المقدس ميں غاصب صہيونيستوں کو نااميد کر ديا ہے? يہ مشرکين سے برائت کے اعلان کا تحقق ہے جس ميں فلسطيني قوم نے حج کے موقع پر اپنے ايراني بھائيوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ قدس کي آزادي کيلئے نعرے لگائے اور "امريکہ مردہ باد"، "روس مردہ باد" اور "اسرائيل مردہ باد" کي صدائيں بلند کيں? اور اسي مقصد کيلئے اپنا خون بہايا جس کيلئے ہمارے پياروں نے اپني جان کا نذرانہ پيش کيا?

جي ہاں، فلسطينيوں نے ہمارے مشرکين سے اعلان برائت کے ذريعے اپنا کھويا ہوا راستہ پا ليا? ہم نے ديکھا کہ اس جدوجہد ميں کس طرح فولادي ديواريں گر گئيں اور کس طرح خون تلوار پر اور ايمان کفر پر اور صدائے حق گولي پر فتح سے ہمکنار ہوئي? اور کس طرح نيل سے فرات تک کے علاقے پر قبضہ کرنے کا بني اسرائيل کا خواب ادھورا رہ گيا? اور کس طرح فلسطين کا "کوکب دري?" [چمکتا ہوا ستارہ] "لا شرقيہ و لا غربيہ" کے شجرہ طيبہ سے دوبارہ طلوع ہوا? جس طرح سے آج پوري دنيا ميں ہميں کفر و شرک کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کرنے کي سازشيں ہو رہي ہيں اسي طرح فلسطين کي مسلمان قوم کے غيض و غضب کے شعلوں کو خاموش کرنے کيلئے بھي کوششيں جاري ہيں? يہ انقلاب اسلامي ايران کي ترقي کا ايک نمونہ ہے?

اب جبکہ دنيا بھر ميں ہمارے اسلامي انقلاب کے حاميوں کي تعداد روز بروز بڑھ رہي ہے اور ہم انہيں اپنے انقلاب کا سرمايہ سمجھتے ہيں اور اسي طرح وہ افراد جنہوں نے اپنا خون دے کر ہماري حمايت کا اظہار کيا ہے اور وہ جنہون نے دل کي گہرائيوں سے انقلاب کي دعوت پر لبيک کہي ہے? انشاءاللہ خدا کي مدد سے پوري دنيا کا کنٹرول سنبھال ليں گے?
آج حق و باطل کي جنگ، غربت اور اميري کي جنگ، کمزوري اور استکبار کي جنگ اور ننگے پير افراد اور بے حس سرمايہ داروں کي جنگ شروع ہو چکي ہے? ميں ان تمام مجاہدوں کے ہاتھ چومتا ہوں جنہوں نے خدا کے راستے ميں جہاد اور مسلمانان عالم کي عزت واپس لوٹانے کا عہد کر رکھا ہے? اور آزادي و کمال کي خاطر قربان ہونے والے تمام افراد پر مخلصانہ سلام اور درود بھيجتا ہوں?

ملت عزيز اور ” ہم فيصلہ کر چکے ہيں کہ نظام اسلام رسول خدا ص کو پوري دنيا ميں رائج کريں اور انشاءاللہ ايک دن اقوام عالم اس کا نظارہ کريں گي? “ دلاور ايران سے عرض کرتا ہوں: خداوند نے آپ کے اثرات اور برکتوں کو دنيا بھر ميں پھيلا ديا ہے، اور آپ کے قلوب اور آنکھيں دنيا بھر کے محروموں کيلئے حمايت کا مرکز بن گئي ہيں، اور آپ کے غيض و غضب کے شعلوں نے عالمي استکباري قوتوں کو ہر طرف سے اپني لپيٹ ميں لے کر انہيں وحشت زدہ کر ديا ہے?

البتہ سب جانتے ہيں کہ ہمارے ملک نے جنگ اور انقلاب کے دوران شديد مشکلات کا سامنا کيا ہے اور کوئي ايسا دعوا نہيں کر رہا کہ محروم اور کم آمدني والا طبقہ خاص طور پر دفتري کام کرنے والے افراد معاشي مسائل کا شکار نہيں ہيں? ليکن وہ چيز جو ہماري عوام کي توجہ کا مرکز ہے اسلام اور انقلابي اصولوں کي حفاظت ہے? ايراني عوام نے ثابت کر ديا ہے کہ وہ بھوک اور پياس تو برداشت کر سکتے ہيں ليکن انقلاب کي ناکامي اور اسکے اصولوں کي پامالي کو ہر گز برداشت نہيں کر سکتے?

ايران کي عظيم قوم نے ہميشہ عالم کفر کي جانب سے انقلابي اصولوں پر شديد ترين حملوں کا مقابلہ کيا ہے جنکے تمام موارد کا ذکر کرنا ضروري نہيں? کيا ايران کي شجاع قوم نے خليج فارس ميں امريکہ کے کئي مجرمانہ اقدامات جيسے ايران کے تيل کے کنووں اور کشتيوں پر حملہ کرنے ميں عراق کو فوجي اور انٹيلي جنس تعاون کي فراہمي يا ايران کے مسافر بردار ہوائي جہاز کو مار گرانے کا مقابلہ نہيں کيا؟?

کيا ملت ايران نے شرق و غرب کي ايران کے خلاف سفارتي جنگ اور بين الاقوامي حلقوں کي سازشوں کا مقابلہ نہيں کيا؟? کيا ايران کي بہادر قوم نے اقتصادي، ميڈيا اور نفسياتي جنگ اور شہري آباديوں پر عراق کے وحشيانہ حملوں اور ميزائل داغے جانے اور کيميکل ہتھياروں کے بارہا استعمال کا مقابلہ نہيں کيا؟? کيا ملت عزيز ايران نے منافقين اور لبرلسٹ افراد کي سازشوں اور ذخيرہ اندوزوں اور مقدس مآب افراد کے مکر و فريب کا مقابلہ نہيں کيا؟? کيا يہ تمام حوادث اور اتفاقات انقلاب کے اصولوں کو نقصان پنچانے کيلئے انجام نہيں پائے؟? اگر عوام ميدان ميں نہ ہوتے تو ان ميں سے ہر اقدام نظام کے اصولوں کو نابود کر دينے کيلئے کافي تھا? ہم خدا کے شکرگزار ہيں کہ اس نے ملت ايران کو يہ توفيق دي کہ وہ ثابت قدمي کے ساتھ اپنے وظيفے پر عمل کر سکے اور ميدان کو خالي نہ چھوڑے?

ہماري قوم کے افراد جو حقيقي طور پر اسلامي اقدار کے سچے مجاہد ہيں جان چکے ہيں کہ جہاد اور جدوجہد کا راحت طلبي سے کوئي جوڑ نہيں? وہ افراد جو يہ سمجھتے ہيں کہ محرومين و مستضعفين جہان کي آزادي اور خودمختاري کي راہ ميں جدوجہد سرمايہ داري اور راحت طلبي کے ساتھ متنافي نہيں ہے جہاد کي الف بے سے ناواقف ہيں? اسي طرح وہ افراد جو يہ خيال کرتے ہيں کہ بے حس سرمايہ دار اور راحت طلب اشخاص فقط نصيحت سے صحيح ہو جائيں گے اور آزادي کي جدوجہد ميں شامل ہو جائيں گے يا اس راستے ميں انکي مدد کريں گے غلطي کا شکار ہيں?

جدوجہد اور آسايش، قيام اور راحت طلبي، دنيا خواہي اور آخرت طلبي کبھي بھي ايک ساتھ جمع نہيں ہو سکتيں? صرف وہ افراد ہي آخر تک ہمارا ساتھ دے سکتے ہيں جنہوں نے غربت، محروميت اور کمزوري کا مزہ چکھا ہو? غريب اور ناتوان ديندار افراد حقيقي انقلاب برپا کرنے والے ہيں? ہميں اپني پوري کوشش کرني چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو مستضعفين کے دفاع کي اصولي پاليسي ترک نہ کريں? ايران کے انقلابي نظام کے عہديدار جان ليں کہ کچھ خدا سے غافل افراد ايسے ہيں جو غريب اور ناتوان افراد کيلئے کام کرنے والے اشخاص پر "کميونيسٹ" ہونے کا ليبل لگائيں گے? ان الزامات سے نہ ڈريں?

خدا کو مدنظر رکھيں اور خدا کي خوشنودي اور غريب افراد کي مدد کيلئے اپني تمامتر توانائياں صرف کر ديں? امريکہ اور استکباري قوتيں انقلاب کو شکست دينے کيلئے ہر قسم کے لوگوں سے کام ليتے ہيں? ديني مدارس اور يونيورسٹيز ميں مقدس مآب افراد سے بھي جنکے خطرے سے ميں آپ کو بارہا آگاہ کر چکا ہوں? يہ افراد فريبکاري کے ذريعے انقلاب اور اسلام کو اندر سے نقصان پہنچانے کے درپے ہيں? يہ افراد حق نما چہروں اور دين اور ولايت کي طرفداري ظاہر کر کے باقي سب لوگوں کو بے دين ظاہر کرنے کي کوشش کرتے ہيں? ان کے شر سے بچنے کيلئے خدا کي پناہ مانگني چاہئے? اسي طرح کچھ افراد ايسے ہيں جو تمام علماء کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے ہيں اور انکے اسلام کو امريکي اسلام کہتے ہيں، يہ افراد انتہائي خطرناک راستے پر گامزن ہيں جو خدانخواستہ حقيقي محمدي اسلام کي شکست کا باعث بن سکتا ہے? ہم اپنے خون کے آخري قطرے تک انساني معاشروں ميں غريب افراد کے حقوق کا دفاع جاري رکھيں گے?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬