16 September 2009 - 17:12
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 287
فونت
آیت الله مصباح یزدی:
رسا نیوز ایجنسی - آیت الله مصباح یزدی نے کہا : دنیا اور مادیات سے جتنا بھی کمتر لگاؤ ہوگا معاشرے میں اسی قدر قناعت ، رضا مندی پھیلے گی اور انسان کی زندگی آسان ہوگی ۔
آيت الله مصباح يزدي

 

رسا نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے رپورٹ کے مطابق ، آیت الله محمد تقی مصباح یزدی ادارہ تعلیم و تحقیق (موسسه آموزشی و پژوهشی) امام خمینی (ره) کے سربراہ نے متقین کی صفات کے بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے گذشته شب شیعوں کی قناعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : قناعت حقیقی شیعوں کی خصوصیت ہے لیکن افسوس کی بات ہے اس لفظ کا زھد کی طرح صحیح تفسیر عمومی طور سے نہی پایی جاتی ہے کسی گروہ نے قناعت اور دنیا و مادیات سے دل کا نہ لگانے پر کام نہی کیا گیا ہے معاشرہ میں اس سلسلہ میں کام نہ ہونے کی وجہ سے اس کا غلط مفہوم نکالا جاتا ہے اسلام اس قناعت کے مفہوم کو قبول نہی کرتا کیونکہ اس طرح کی زندگی دینی تعلیمات اور علمی اور اقتصادی ترقی کے برعکس ہے ۔
 

انہوں نے اسلامی مسائل سے نا واقف افراد کا مغالطہ آمیز نظریہ دینے پر تنقید کرتے ہوئے بیان کیا : افسوس کی بات ہے کچھ لوگ نظریہ پردازی کے عنوان سے ابھی بھی معاشرہ میں دیکھے جاتے ہیں جو علمی و اقتصادی ترقی کو دین اور اس کی پیروی کرنے کے ساتھ محال سمجھتے ہیں اور اس بات پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو حاصل کرنے میں دوسرے کو چھورنا پڑیگا ، ممکن نہی ہے کہ دین کے احکام پر بھی عمل کرے اور علم و اقتصاد میں بھی کامیابی حاصل کر سکے ۔


حوزه علمیه قم میں علوم عقلی کے استاد نے شهر مقدس قم کے حسینیه امام خمینی (ره) میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا : قناعت کی تعریف میں یہ کہنا چاہیئے کہ اخراجات میں اعتدال کا لحاظ رکھنا قناعت ہے چاہے وہ انسان جتنا زیادہ دولت مند ہی کیوں نہ ہو ۔ اس کے علاوہ اس چیز پر ذھنی اعتبار سے راضی ہوں اور خوش ہوں اپنے اس حالت پر کہ اسراف نہ کر کے ایک تکلیف پر عمل کیا ہے اور یہ میانہ روی ہے ۔


ادارہ تعلیم و تحقیق (موسسه آموزشی و پژوهشی) امام خمینی (ره) کے سربراہ نے طالب علم ، علماء اور عوام کے درمیان قناعت پر عمل پیرا ہونے کا ماحول تیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا : ھم شیعہ جو خود کو اھلبیت علیہ السلام کا ماننے والا کہتے ہیں یمارے پاس بھترین راستہ ہے وہ یہ کہ ہم اپنی زندگی خاندان عصمت و طهارت علیہم السلام کی زندگی کی طرح گزارنے کی کوشش کریں کیونکہ چاہت اور محبت کی وجہ سے انسان نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے محبوب کے طرح یہاں تک کہ راستہ چلنے میں بھی پیروی کرتا ہے ۔  


دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حد اقل معیشت ہو اور دوسروں کا محتاج نہ ہونا مادیات پر منحصر نہ ہونا اور تمام حالت میں دنیا سے راضی رہے ۔ یہی مشرقی عرفان ہے ملک ھندوستان کی اکثر عوام کا یہی نظریہ عمل ہے ۔ ایسے حالات میں انسان دنیا سے کم تعلق رکھے اور راحت اور اطمینان کی بغیر فکر کے زندگی کا تجربہ کرے ۔


تیسرا طریقہ مکتب ارسطو سے الھام لینا ہے ۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اعتدال کی رعایت کرنا اور افراط و تفریط سے پرہیز کرنا یہ اس مکتب کا اصول ہے ، شیعوں کی اخلاقی کتاب جیسے جامع السعادات بھی اسی نھج پر لکھی گئی ہے ۔


حوزه علمیه قم کے استاد نے شهر مقدس قم کے حسینیه امام خمینی (ره) میں گفتگو کرتے ہوئے اس دنیا میں تمام چیزیں محدود ہیں اور اس دنیا میں کسی بھی نا محدود چیز کا وجود نہی ہے ۔ یہ محدودیت تعادل برقرار رکھنے کا بھترین عمل ہے ۔ اس طرح اگر کوئی شخص ضرورتوں کی  ایک ہی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے تو لا محالہ اس نے دوسری ضرورتوں کو نقصان پہونچایا ہے ۔ عقلمند اور صحیح و سالم انسان کو چاہیئے کہ اپنی ضرورت کی ہر چیز کو اپنے استعمال کے مناسبت سے اسی مقدار کا استعمال کرے ۔ ایسا نہ کرنے پر اس آدمی کی شخصیت غیر مناسب ہوگی ۔ اپنی ضرورت کی محدودیت اچھی چیز ہے جس کے ذریعہ افراط و تفریط سے بچا جا سکتا ہے . 


آیت الله مصباح یزدی نے آخری گفتگو میں تاکید کی : الھی بارگاہ میں قرب اور اطاعت  کے سایہ میں اعتدال کا خیال رکھنا انسان کی ترقی اور اس کے کمال کا سبب ہوتا ہے ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬