19 September 2009 - 15:23
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 294
فونت
سید کلب جواد نقوی:
رسا نیوز ایجنسی - جمعتہ الوداع کی نماز لاکھوں فرزندان توحید نے ادا کی اس موقع پر بیت المقدس کی بازیابی کی خصوصی دعا ٔیں کی گئیں
سيد کلب جواد نقوي

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق ، رمضان المبارک کےآخری جمعہ یعنی جمعتہ الوداع کی نماز لاکھوں فرزندان توحید نے ادا کی ، صبح سے ہی لوگ جوق در جوق شہر کی جامعہ مساجد میں پہونچنا شروع ہو گٔے تھے ۔ اس موقع پر بیت المقدس کی بازیابی کی خصوصی دعا ٔیں کی گئیں ضلع حکام نے کئی راستوں کا ٹرافک نماز کے لئے بند کر رکھا تھا ۔


لکھنٔو کی تاریخی مسجد آصفی میں جمعتہ الوداع كى نماز کے خطبہ سے خطاب کرتے ہوئے حجتہ الاسلام مولانا سید کلب جواد نقوی نے روزے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ متقی بنو اور تقویٰ اختیار کرو قرآن كے حوالہ سے كہا كه صرف اور صرف صاحبان تقوىٰ كے اعمال قبول كئے جائینگے ۔


انہوں نے کہا : قرآن میں اعلان هوا اگر اهل قرآن تقوىٰ اختیار كریں تو هم آسمان سے بركتیں نازل كریں گے ۔


انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا : اہلبیت علیہم السلام کا ساتھ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تقویٰ نہ ہو ۔
 

کلب جواد نے خطبہ میں آگے بیان كیا : علماء نے کہا کہ ہماری عبادت اطاعت الٰہی کو بتا تی ہے اور روزہ ذات الہی سے عشق کو بتا تا ہے ۔


امام جمعہ لکینؤ نے ایک حدیث پیش کر تے ہوئے کہا : جابر ابن عبد اللہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم سے پوچھا روزے کیوں واجب ہوئے ۔ رسول نے جواب دیا گنا ہوں کے دلدل سے نکالنے کے لئے ۔


کلب جواد نے کہا : گناہ دلدل کا نام ہے ، دلدل ایسی جگہ ہے جب اس میں کوئی پھنس جاتا ہے تو اسمیں سما تا جاتا ہے اور خود سے نجات نہیں پاتا جب تک اس کو کوئی سہارا نہ ملے اور اس سہارے کی مظبوط رسی کا نام رمضان ہے ، دلدل سے نجات کے لۓ رسی کا ایک سرا دلدل میں پھنسے شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو وہ مظبوطی سے پکڑے دوسرا سرا کسی مظبوط ہاتھوں میں ہونا چاہئے اور انہی مظبوط ہاتوں کا نام اہلبیت(ع) ہے ۔
 

 اپنے خطبے میں  اتحاد  كے بارے میں مولانا کلب جواد نے کہا : اس وقت سب سے زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے مسلمانوں کے درمیان اور شیعوں میں بھی اور جو لوگ اتحاد کے مخالف ہیں اپنے کو اخباری کہتے ہیں ۔


مولانا نے کہا : جو اتحاد کے مخالف ہیں وہ اجتھاد کے بھی مخالف ہیں اور یہ لوگ اپنے کو اخباری کہتے ہیں ، دوسرے فرقے کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے یہاں اجتھاد کے دروازے جو بند ہو گۓ ہیں انکو کھول دیا جائے اور جنکے یہاں اجتھاد موجود ہے کچھ ایسے افراد ہیں جو اجتھاد کى مخالفت كرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اجتھاد جایز نہیں ہے اور چار کتابیں اصول کافی، وسائل الشیعہ ، تہذیب واستبصار کے بعد اب اجتھاد کی ضرورت نہیں ۔

کلب جواد نے کہا : اگر ہم ان کتا بوں پر حقیقت میں عمل کریں تو اجتھاد کی کبھی مخالفت نہیں کریں گے ۔


مولانا نے کتاب وسائل الشیعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ربی نےامام جعفر صادق (ع) سے كہا کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں ایک نماز پڑھا نے والا هم لوگوں کو برا کہتا ہے امام نے کہا جا کر نماز پڑھو تم پہلے شخص مسجد میں جانے والے ہو اور آخری مسجد سے نکلنے والے ۔


کتاب تہذیب جلد 1 صفحہ 332 کا حوالہ دیتے ہو ٔے مولانا نے کہا : اسحاق ابن عمار  کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے دوسرے فر قے کے ساتھ نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے کہا کہ دوسرے فر قے کے ساتھ نماز میں شریک ہو اور وسائل الشیعہ کے حوالہ سے کہا کہ عبداللہ بن عنان سے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایہ کہ دوسرے فر قے کے ساتھ نماز پڑھو انکی میت میں شریک ہو اور آگے کہا کہ اگر آذان کی آواز سنو چاھے کسی بھی فر قے کی مسجد ہو نماز پڑھو اور چھٹے امام کی حدیث نقل کی ہمارے دشمنوں کو کھلم کھلا برا کہہ کر ہماری آبرو کو خطرہ میں نہ ڈالو ۔


اپنے خطبہ کے آخر ‏میں مولانا کلب جواد نے کہا : اتحاد بھی ضروری ہے اور اجتھاد بھی ۔


اہل سنت کی مرکزی نماز لکھنٔو  کی ٹیلے والی مسجد میں مولانا فضل الر حمن واعظی نے  پڑاھائ اپنے خطبہ میں ذات پات،رنگ و نسل،امیروغریب کا فرق اور ذاتی مفادات سے بلند ہو کر انسانیت کی خدمت کرنے پر زور دیا۔مولانا نے دہشت گردی کی مزمت کرتے ہوۓ کہا کہ آج سب سے بڑےدہشت گرد امیریکہ اور اسرا ٔیل ہیں۔یہ دونوں ممالک انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬