27 September 2009 - 12:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 327
فونت
سید احمدعلی عابدی :
رسا نیوز ایجنسی - حجت الاسلام سید احمدعلی عابدی امام جمعہ ممبئی نے اپنے خطبہ میں جنت البقیع کے انھدام کو خلاف شریعت اور عقل بیان کیا .
حجت الاسلام سيد احمدعلي عابدي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹرکی ممبئی سے مرسلہ رپورٹ کے مطابق ، حجت الاسلام سید احمدعلی عابدی امام جمعہ ممبئی نے خطبہ نماز جمعہ میں جنت البقیع کے حادثے پر نظر ڈالتے ہوئے کہا: جنت البقیع پر 15 ربیع الاول سن 1347 کو نجدیوں نے قبضہ کیا 8 شوال 1447 میں جنت البقیع کو منھدم کردیا گیا اگر ھم 1347 کی بات کریں اور رسول اسلام کی وفات کے بعدتقریبا 32 سال وہ ہیں جھان پر اس طرح کے مزارات بنے رہے اور اسمیں تمام علماء ، صلحاء بزرگان مدفون تھے اور اس زمانے میں متدیین ، مفسرین ، متقین ، خدا پرست ، جلیل قدرصحابہ  موجود تھے مگر کسی نے ان قبور کے انھدام کا مسلہ نہی اٹھایا مگر کیا ان کے پا س شریعت ،ایمان ، اعتقاد ، قران نہی تھا.

اخری رسول کے احکام اور شریعت کا ناسخ کوئی نیا رسول یا نیا دین ہی کرسکتا ہے جیسے کہ موسی کی کے دین اور شریعت کو حضرت عیسی (ع) کے لائے ہوئے دین نے نسخ کردیا اور یا حضرت عیسی (ع) کے دین کو حضرت مر سل اعظم (ص) کے نسخ کیا ، توکیا اخری نبی حضرت محمد ابن عبداللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نبی یا رسول کو نئی شریعت لے کر ایا جس نے ان حضور کی شریعت کو نسخ کیا ہو ، کہ ان حضرت نے قبور کے بنے رہنے کی اجازت دی ہو مگر اس نئی شریعت نے انکے خراب کرنے کا حکم دیا ہو اور اس بنیاد پر ان قبروں کو انھدام کیا گیا ہے  تووہ اللہ کا بھیجا ہو نیا رسول اور نئی شریعت کون اور کیا ہے.


اور اگر ھم ان قبروں کے انھدام کی وجہ اسمیں مدفون اھلبیت (ع) کےچاہنے والوں کا انکے سلسلے میں حد سے زیادہ احترام مان لیں تو قران کریم انکے سلسلے میں فرماتا ہے " اللہ نورالسموار والارض " اوراللہ کا یہ نور " فی بیوت اذن اللہ ترفع ویذکر اسمہ " ان گھروں میں ہے جسکو خدا نے بلند کرنے کا حکم دیا ہے اور رسول اسلام (ص) سے روایت ہے کہ یہ گھر انبیاء الہی کے گھر ہیں ، جسوقت اپ نے یہ فرمایا اس مجلس میں بیٹھے حضرت ابوبکرنے ان حضور سے حضرت فاطمہ (س) کے گھر کی جانب اشارہ کرکے کہا کیا یہ گھر بھی ؟ تو حضرت نےفرمایا : نعم من افاضلھا " نہ فقط یہ کہ انمیں سے ہے بلکہ ان سب میں سب سے زیادہ با فضیلت گھر ہے.

گھرکا احترام یا افضلیت اسکی دیواروں کی بناء پر نہی بلکہ اسمیں موجود مکین اور اھل خانہ کی بناء پر ہے تو جب وہ گھرجس میں وہ رہتے ہیں بافضیلت ہے تو جس جگہ وہ مدفون ہیں کیوں کر قابل احترام نہ ہوگی ؟ لھذا اس انھدام کا جواز کہاں سے ؟  .


جناب عابدی نے اپنی گفتگو کے اخر میں کہا : ماں جب بھی کبھی اپنے بچے کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہناتی ہے تو اس سے کہتی ہے کہ اسے گندا نہ کردینا میں نے اسے بہت محنت سے دھویا ہے ، ھمارا بھی اپ سے اس وقت یہی کہنا ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں عبادت اور استغفارکے بعد اس وقت اپکا لباس وجود گناہوں سے دھل کر صاف و شفاف ہوگیا ہے فقط ھمارا اتنا کہنا ہے کہ اسے دوبارہ میلا نہ ہونے دیجئے گا   .

 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬