29 September 2009 - 15:44
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 338
فونت
رسا نیوز ایجنسی - علامه فضل الله نے علاقائی اور جھانی دھمکی جو اسلامی اتحاد کے ضد میں دی جارہی یے اس کے طرف اشارہ کیا کہ اسلامی ممالک دوبارہ آپس میں ایک ساتھ زیر پرچم اسلام و جھاد صهیونی دشمن کے خلاف جمع ہونے کی کوشش کی جانے کی دعوت دی ہے ۔
علامه فضل الله

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق ، لبنان کے نمایہ شیعہ مرجع تقلید علامه سید محمد حسین فضل الله نے پچھلے روز جنوب لبنان کے  شهر صیدا کے علماء سے شیخ غازی حنین کے سرپرستی میں ملاقات کی ، اس ملاقات میں علاقہ کے مسائل اور حالات کے ساتھ ساتھ لبنان کے داخلی مشکلات  اور مسائل کو بھی زیر بحث رکھا ۔


لبنان میں شیعوں کے مرجع تقلید نے وحدت اسلامی کے مخالفت میں جھانی و علاقائی دھمکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اسلام اور اس کے اصول کی حمایت کرنے کے لئے اسلامی روابطوں کو پھیلانے اور مظبوط بنانے کے راہ و روش کو مضبوت کرنے پر غور و فکر کیا ۔ 


انہوں نے یاد آوری کرائی کہ اتحاد کا وجود اور جھادی موقف کے باعث اسرائیلی صهیونی غاصب حکومت جنوب لبنان سے فرار ہوئی ، تمام کے تمام لوگ دوبارہ ایک ساتھ زیر پرچم اسلام و جھاد صهیونی دشمن کے خلاف جمع ہونے کی کوشش کی جانے کی دعوت دی ہے ۔


علامه فضل الله نے اسلام کے مخالفت میں ہو رہے ثقافتی ، ٹکنولوجیی و حفاظتی میدان میں جهانی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلام کے چهره اور جهان اسلام کے داخلی حالات  کو خراب کرنا اس کا اصل مقصد بتایا ، انہوں نے اس طرح کے ہو رہے ثقافتی جنگ پر نظر رکھنے اور ہوشیار رہنے پر توجہ دلائی اور کہا : یہ جو مغرب میں دین اسلام کے پھیلنے کی خبر سن رہے ہیں اس پر فخر و مباهات کرنا کافی نہی ہے کیونکہ دوسری طرف سے کچھ ہم میں سے اس کو مٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں یہ کام دو طریقہ سے انجام پا رہا ہے ایک اسلام کے وقار اور اس کے  مفاهیم و اعتقادات کو داغدار بنانا اور دوسرا مسلمانوں کے درمیان فتنہ ڈالنا  شیعه و سنی میں اختلاف پیدا کرنا جیسے کاموں سے صهیونی دشمن کی مدد کرتے ہیں ۔


اسی طرح علامه فضل‌الله نے بین‌الاقوامی پروگرام جو مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر مشغول رکھنا اور فلسطین کے مسئلے کو اصل وجود سے تمام کرنے کی ان کی ناپاک ارادہ کے سلسلہ میں ہوشیار رہنے کو کہا ہے ۔


انہوں نے کہا : اسلام ایک ظاھر و باطن جھانی جنگ کا سامنا کر رہا ہے ثقافتی مرتب شدہ پروگرام کی جنگ جو ایک طرف  اسلامی تاریخی نشانیوں کو اپنا ھدف بنا رکھا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے وقار کو داغدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دوسرا جنگ ، سیاسی جنگ حفاظتی و اقتصادی جنگ ہے جو کہ مسلمانوں کے زیادہ تر ممالک کو غصب کرنا اور وہاں فوجی چھاونی کو بنانا اور جنگ کی تیاری کرنے کی صورت میں ہے ۔ 
 


فضل الله نے اظہار کیا : ابھی اس زمانہ میں علاقہ کے سیاسی دوری کو پر کرنے کی جو پروگرام بنائی جا رہی ہے وہ مسلمانوں کو آپس میں  داخلی جنگ و فتنه اور مذہبی اختلاف پیدا کرنے کی ہے ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬