22 July 2009 - 11:28
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 38
فونت
بعثت كا پیغام
رسا نیوز ایجنسی ـ رھبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای دام ظلہ نے نظام کے حکام سے ملاقات کرتے ھوےکہا : نخبہ افراد مراقب رہیں کیوں کہ وہ امتحان الہی میں ہیں اوراس امتحان میں کامیاب نہ پونا فقط ناکامی نہی بلکہ انکے سقوط کا سبب ھے
نخبہ افراد کا امتحان الہی مین کامیاب نہ ھونا انکے سقوط کا سبب ھے


رسا نیوز ایجنسی ۔ رھبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای دام ظلہ نے آج نظام کے حکام سے ملاقات کرتے ھوے کہا : نخبہ افراد مراقب رہیں کیوں کہ وہ امتحان الہی میں ہیں اوراس امتحان میں کامیاب نہ پونا فقط ناکامی نہی بلکہ انکے سقوط کا سبب ھے.

رسا نیوز ایجنسی کی رپوٹ کے مطابق رھبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای دام ظلہ نے عید بعثت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موقع پر اسلامی نظام کے حکام اور مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا بعثت پیغبر اسلام تاریخ بشریت کا نہایت اہم موڑ ہے اپ نے فرمایا اسلامی معاشرے کی سب سے اہم عصری ضرورت بعثت کے پیغام پر عمل درآمد، عقل و خرد کو معیار قرار دینا، اخلاقی اقدار کی بالادستی اور قانونی نظم و ضبط کا بنیاد قرار پانا ہے اور اس سلسلے میں اہم شخصیات اور بزرگوں کی ذمہ داریاں سب سے اہم ہیں.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے امت مسلمہ اور ایرانی عوام کو عید مبعث کی تبریک پیش کی اور عاقلانہ تربیت و دانش پسندی اور تفکر و تدبر کو بعثت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کے پیغام کا سب سے اہم جز قرار دیتے ہوے فرمایا: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سب سے پہلا کام اسلامی معاشرے میں عقل و خرد کی بالادستی کو قائم کرنا تھا کیونکہ معاشرے میں عقل و خرد اور فکری صلاحیت کی تقویت و پرورش، تمام مشکلات کا حل، نفس کو قابو میں رکھنے والی اور انسان کے لئے بندگی کی راہ ہموار کرنے والی ہے.

 رھبر معظم انقلاب اسلامی نے اخلاقی تربیت کو بعثت کے پیغام کا دوسرا  جز ءبتاتے فرمایا: معاشرے میں اخلاقی فضیلتوں کا رواج اس لطیف ہوا کی مانند ہے جو صحتمند زندگی کی ضامن ہوتی ہے اور انسان کو حرص و طمع، جہالت و نادانی، دنیا طلبی ا و رمادہ پرستی، ذاتی بغض و عناد اور ایک دوسرے سے بدگمانی سے دور رکھتی ہے۔ اسی لئے اسلام میں تزکیہ نفس اور اخلاقی نشو نما کو تعلیم پر  ترجیح دی گئی ہے.
 
رھبر معظم انقلاب اسلامی نے تربیت ، قانونی نظم و ضبط کو بعثت کے پیغام کا تیسرا حصہ  قرار دیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کافرامین اور احکامات اسلامی پر عمل درآمد ہونے میں پیش پیش رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: یہ ساری مثالیں اسلامی معاشرے کے لئے معیار اور کسوٹی کا درجہ رکھتی ہیں، اور میدان زندگی انسانوں کی آزمائش کا مقام ہے.

رھبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملت ایران کے موجودہ وقار کو گزشتہ تیس برسوں کی آزمایشوں میں کامیابی اور سرخروئی کا نتیجہ قرار دیتے ہوے فرمایا: خداوند متعال نے ان کامیابیوں کے بدلے میں ملت ایران کو بہت عظیم ثمرات عطا کئے ہیں اور آج بھی لوگ بلند اسلامی اہداف کی سمت گامزن اور کوشاں ہیں جس کا نتیجہ ملت ایران کے اندر اپنی شناخت اور اپنے با وقار ہونے کا احساس ہے.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یہ جو دنیا کی سامراجی طاقتوں نے اسلامی جمہوریہ ایران سے مقابلے کو اپنا نعرہ بنا لیا ہے اور اسلامی نظام کو اپنے اہداف کی راہ میں خاص طور پر مشرق وسطی کے علاقے میں بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھتی ہیں وہ ایرانی حکومت و قوم و نظام کی عظمت کا غماز ہے.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے ان ثمرات کو دین کے احکامات پر عمل آوری کے سلسلے میں ملت ایران کی پیشقدمی کا نتیجہ قرار دیا اور معاشرے کی علمی شخصیات اور اہم رہنماؤں کے کردار کو عوام کے لئے نمونہ عمل قرار پانے کی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا: گزشتہ تیس برسوں میں ملت ایران نے ثابت کر دیا کہ وہ وفادار اور خود گزشت قوم ہےاور صدارتی انتخابات کے بعد کےپیش آنے والے  حوادث  اورمسئلے میں بھی ملت ایران کی یہ خصوصیت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: سماجی زندگی کی سطح پر ملت ایران کے اندر الگ الگ طرز فکر موجود ہیں اور ہر کوئی اپنا نظریہ پیش کرتا ہے، لیکن جیسے ہی ملت ایران کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اسلامی نظام سے دشمنی کی بات آ گئی ہے اور کوئی ہاتھ نظام پر وار کرنے کے لئے کسی تحریک کو منظم کر رہا ہے تو سب سے دوری اختیار کر لیتے  ہیں خواہ وہ اسی نعرے کا سہارا کیوں نہ لے جس کی ملت ایران معتقد ہے.

آپ نے حالیہ واقعات کو ملت ایران کے لئے گزشتہ برسوں کے تجربات کے ساتھ ہی حاصل ہونے والا اہم درس اور تجربہ قرار دیتے ہوے  فرمایا: یہ واقعات اس درس اور تجربے کے حامل تھے کہ ایسے وقت میں بھی کہ جب کوئی بڑا عمل مکمل امن و ثبات کی فضا میں انجام پا رہا ہو تب بھی دشمنوں کے مکر و حیلے سے غافل نہیں ہونا چاہئے.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایسے عالم میں کہ جب سارے لوگ کہہ رہے تھے کہ چار کروڑ لوگوں کی شرکت سے منعقد ہونے والے حالیہ انتخابات آغاز انقلاب سے اب تک کا بے نظیر واقعہ اور تیس سال کے بعد بھی عوام کو میدان میں لانے کی اسلامی نظام کی صلاحیت کا ثبوت تھا، سب کو محسوس ہو گیا کہ ایسے عالم میں بھی قوم پر ضرب لگانے کے دشمنوں کے منصوبوں سے غفلت نہیں برتنا چاہئے.
۔
 رھبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے کے دشمنوں کے دعوؤں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ایسے وقت جب ان کی مداخلت اور خاص طور پر ان کے ذرائع ابلاغ (میڈیا) کا کردار بالکل آشکارا ہے، ان کا یہ دعوا بے حیائی کی علامت ہے.

آپ نے چند سال قبل قوموں کو خود مختاری و عزت و وقار کی راہ سے منحرف کرنے کے ہدف سے جاری سامراج کے تشہیراتی اور خفیہ اداروں کی سرگرمیوں کے سلسلے میں اپنے انتباہ کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا: ملت ایران کے دشمن اپنے ذرائع ابلاغ(میڈیا) کے ذریعے نادان و غافل بلوائی گروہوں کے لئے بد امنی، تخریبی اقدامات اور جھڑپوں کے سلسلے میں اعلانیہ احکامات اور ہدایات جاری کرتے ہیں اور دوسری جانب یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ ایران کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کرتے جبکہ بالکل اعلانیہ طور پر مداخلت کر رہے ہیں.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے بلوائیوں اور عوام کے درمیان فرق قائم کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی ذرائع ابلاغ (میڈیا)  بلوائیوں کی حمایت کے مقصد سے انہیں ایرانی عوام کا نام دیتے ہیں جبکہ ایرانی عوام تو وہ کروڑوں لوگ ہیں جو ان بلوائیوں اور تخریب کاروں کو دیکھتے ہی  خود کو الگ کر لیتے ہیں اور انہیں نفرت و بیزاری کی نظر سے دیکھتے ہیں.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ کسی بھی عہدے اور مقام پر فائز کوئی بھی شخصیت اگر معاشرے کو بد امنی کی جانب لے جانے کی کوشش کرے گی، تو ملت ایران کی نظر میں منفور قرار پائے گی.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملت ایران کے بلند اہداف اور معاشرے کی دنیا و آخرت کی سعادت و خوشبختی کا حصول امن و سکون کے ماحول میں ہی ممکن ہے۔ آپ نے امن و امان کی صورت حال کو نقصان پہنچانے کو بہت بڑا گناہ قرار دیا اور بااثر شخصیات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اہم شخصیات ہوشیار رہیں کیونکہ ان کی ہر وہ بات، تجزیہ اور اقدام جو معاشرے کے امن و امان کے مختل ہو جانے پر منتج ہو، ملت ایران کی پیشقدمی کی سمت اور جہت کے خلاف ہے.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہر کوئی اپنے بیان، موقف حتی اپنے سکوت کے تئیں محتاط رہے کیونکہ ان مسائل کے سلسلے میں سکوت ، جن کو بیان کرنا ضروری ہے در حقیقت فریضے پر عمل درآمد نہ ہونا ہے اور ایسی باتیں کہنا جو نہیں کہنی چاہئیں ،فریضے کے خلاف عمل کرنے کے برابر ہے.
 
رھبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: بڑی شخصیات محتاط رہیں کیونکہ ان کے سامنے بڑے عظیم امتحان کا لمحہ آن پہنچا ہے جس میں کامیاب نہ ہونا صرف فیل ہو جانا نہیں بلکہ ان کے سقوط کا موجب ہوگا.

 آپ نے ایسے انجام سے رہائی کی واحد راہ عقل و خرد کو معیار قرار دینا بتایا اور فرمایا: عقلمندی یہ رائج سیاست بازی نہیں ہے کیونکہ سیاست بازی عقل کے منافی ہے اور جو لوگ سیاست بازی کو عقلمندی تصور کرتے ہیں غلطی کر رہے ہیں.
آپ نے فرمایا کہ صحیح عقلی طریقہ وہی ہے جو اللہ تعالی کی عبادت کی راہ ہموار کرتا ہے اور اس کا معیار یہ ہے کہ ہم خود فیصلہ کریں کہ ہمارا بیان اور موقف اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے اخلاص کے ساتھ ہے یا بعض افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کیلئے۔ ہمیں خود کو دھوکہ نہیں دینا چاہئے.

رھبر معظم انقلاب اسلامی نے بعثت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیغاموں پر غور کرنے اور اسے ایک جشن سے بالاتر واقعے کی حیثت سے دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا: بعثت، انسانیت کے لئے بہت اہم موڑ ہے کیونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی دس سالہ حکومت کے زمانے میں جو اقدامات کئے اور تاریخ انسانیت میں جو تبدیلیاں پیدا کیں ان کا کسی بھی اقدام اور تبدیلی سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا.

رھبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے عید بعثت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مبارکباد دی اور انسانوں کو جہل و ظلم کی تاریکی سے نجات دلانے اور انہیں نور ہدایت کی سمت گامزن کرنے میں اس عظیم تاریخی واقعے کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام، دین کے احکامات پر عمل کے سلسلے میں سب سے پیش پیش رہتے تھے۔ انسانیت کی موجودہ مشکلات کی بنیادی وجہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی راہ سے دوری ہے.
 
 صدر مملکت جناب ڈاکٹراحمدی نژاد نے ملت ایران کے تیس سالہ صبر و استقامت اور مجاھدت کی جانب اشارہ کرتے ہوے کہا ایران کا اسلامی معاشرہ پیغبمراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم،عظیم الشان کے نورانی راستوں پر گامزن رہنےپر مفتخر ھے اور یہ ملت اس سیرت کی اتباع کرتے ہوے اجازت نہ دیگی کہ بشریت کے دشمن انسانی حقوق کی پائمالی کریں.
صدر مملکت جناب ڈاکٹراحمدی نژاد صاحب نے مزید صدارت کے حالیہ انتخابات کی جانب اشارہ کرتے ہوے کہا اس طرح کے آزا د بے نظیر انتخابات کا بر گزار ہونا اورانقلاب اسلامی کے باوقارراستے کا انتخاب کرنا ملت ایران کیلے روشن اور بشریت کیلے حسین پیغام ہے ۔(ن)

رسا نیوز ایجنسی      

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پسندیده خبریں