14 February 2012 - 17:30
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 3801
فونت
آيت الله جوادي آملي :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله جوادي آملي نے ايت « فلا تطع الکافرين و جاهدهم به جهادا کبيرا » کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : جهاد صغير جہاں دشمن سے اسلحہ سے مقابلہ ہے کے مقابل جهاد اکبر ہے جو جہاد بالنفس ہے ، جہاد صغير جو فوجي جہاد ہے کے مقابل جہاد اکبر ہے جو ثقافتي جہاد ہے ? ثقافتي جہاد ميں استدلال ، برھان اور مناظرہ کے مانند وسائل کي ضرورت ہے اور اسي بنياد پر ثقافتي جہاد فوجي جہاد سے بالاتر ہے ?
حضرت آيت الله جوادي آملي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، حضرت آيت الله جوادي آملي نے اج علماء وافاضل حوزہ علميہ قم کي موجودگي ميں مسجد اعظم قم ميں ايات سوره مبارکہ فرقان کي تفسير کي ?

حوزہ علميہ قم ميں تفسير کے اس معروف استاد نے کہا : کرامت اور معجزه کا تعلق علم سے نہي ہے کہ علم حاصل کرنے کے بعد کسي کي اس تک رسائي ہوسکے بلکہ کا اس کا تعلق تقوي الھي اور روح سے ہے ?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ بعض روايات کي بنياد پر اپ کے اعضاء خدا کے لشکر ہيں « و جوارحکم جنوده » کہا : اگر کوئي بہک جائے تو اس کي عزت خاک ميں مل جائے گي اور ضروري نہي کہ خداوند متعال اس کے خلاف دوسرے مقام سے لشکر کا انتظام کرے بلکہ خدا انہيں فوجيوں کے ذريعہ اپنے امور انجام دے سکتا ہے البتہ يہ بات ان اعضاء کو انسانوں کے اختيارميں ہونے کے منافي نہي ہے ?

حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : وسوسہ اچھي نعمت ہے کيوں کہ اگر وسوسہ نہ ہو تو ھم کاميابي سے ھمکنار نہي ہوسکتے اور جہاد ختم ہو جائے گا ? جب وسوسہ ہوگا تبھي تو مقابلہ کريں گر اور اس کے بعد قرب الھي تک پہونچيں گے اگر وسوسہ نہ تو انسان بھي فرشتوں کے مانند ہوجائے اور ترقي نہ کرپائيں ?

اپ نے آيه « فلا تطع الکافرين و جاهدهم به جهادا کبيرا » کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : جهاد صغير جہاں دشمن سے اسلحہ سے مقابلہ ہے کے مقابل جهاد اکبر ہے جو جہاد بالنفس ہے ، جہاد صغير جو فوجي جہاد ہے کے مقابل جہاد اکبر ہے جو ثقافتي جہاد ہے ? ثقافتي جہاد ميں استدلال ، برھان اور مناظرہ کے مانند وسائل کي ضرورت ہے اور اسي بنياد پر ثقافتي جہاد فوجي جہاد سے بالاتر ہے ?

حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے آيه شريفه «و هو الذي مَرج البحرين هذا عَـذب فرات و هذا مِلحٌ اجاج و جعل بينهما برزخـًا و حِجرًا محجورًا» کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : نمکين اور ميٹھے پاني کے دو درياوں کے درميان برزخ موجود جو قابل روئت نہي ہے اور يہ برزخ يا خدا کا ارادہ ہے يا دوسري باتيں جو ان دو پانيوں کو ايک دوسرے قريب رہنے کے بعد بھي اپس ميں نہي ملنے ديتے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬