10 March 2012 - 17:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 3902
فونت
امريکہ کي مخالفت اور شام کي حمايت ميں ايک مضمون لکھنے پر محمد احمد کاظمي کو ہندوستاني پوليس نے گرفتار کرليا ہے، محمد احمد کاظمي ہندوستان کے ايک سينئر صحافي ہيں اور وہ مختلف ہندوستاني خبري ذرائع کے لئے عراق اور کويت سميت کئي ممالک ميں رپورٹنگ کرچکے ہيں?
سيد محمد احمد کاظمي

حاليہ دنوں ميں وہ ہندوستاني صحافيوں کے ساتھ شام گئے تھے جہاں سے واپسي پر انہوں نے مختلف مضامين ميں شام کے سلسلہ ميں اسرائيل اور امريکہ کي سازشوں پر روشني ڈالي تھي محمد احمد کاظمي ريڈيو تہران کي ہندي سروس کے لئے رپورٹنگ کرتے ہيں اور ميڈيا اسٹار نيوز سائٹ کے چيف ايڈيٹر بھي ہيں? جو مضمون انکي گرفتاري کا باعث بنا وہ درج زيل ہے?


شام کے خلاف جنگ نا ممکن ???? محمد احمد کاظمي


دوہزار آٹھ ميں حماس نے بھي غزہ پر اسرائيلي حملے کا منہ توڑ جواب ديا تھا? ايسي حالت ميں جبکہ امريکہ اور اسرائيل مصر ميں حسني مبارک ، تيونيشيا ميں زين العابدين اور ليبيا ميں قذافي جيسي حکومتوں کے خاتمہ کے بعد کمزور ہوئے ہيں اور امريکہ اور يورپ ميں مالي بحران جاري ہے، ايک نئي جنگ شروع کرنا ممکن نہيں ہے ?

حالانکہ امريکہ اور يوروپي حکومتيں عرب حکمرانوں کو ہتھيار فروخت کر کے اور ايران کے خلاف ماحول تيار کر کے خطے ميں مسلکي بنيادوں پر جنگ کي تياري کر رہے ہيں ليکن خطے کي حکومتيں حقيقي جنگ کے لئے تيار ہوجائيں گي اس پر مجھے اب بھي شک ہے?

شام ميں بحران کے شروع سے ہي قطر سے نشر ہونے والا الجزيرہ اور دبئي سے نشر ہونے والا العربيہ ٹي وي چينل حالات کو مزيد پيچيدہ کرنے کے لئے کوشاں رہے ہيں ? ان کے علاوہ بي بي سي اور سي اين اين بھي شام کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پيش کرتے رہے ہيں? ملک ميں کئي بار ايسا ہوا ہے کہ کسي بھي مقام پر جنگ جيسي صورتحال دکھانے والے ان چينلوں کو مقامي شہريوں نے فون کرکے بتايا ہے کہ وہ اسي مقام پر ہيں اور وہاں کوئي بھي ايسا واقعہ نہيں ہوا ہے?

کچھ ايسي مثاليں بھي سامنے آئي ہيں کہ عراق کي ويڈيو دکھا کر اس واقعہ کو شام ميں بتاديا گيا ہے ?اب شام ميں شورش کچھ ہي مقامات پر محدود ہے? گذشتہ کچھ ہفتوں ميں ترکي سرحد کے نذديک شہروں ميں مخالفين کے حملے کم ہوے ہيں اور حال ہي ميں حمس ميں بھي بابا عمرو ميں حکومت کي افواج نے پھر سے قبضہ کر ليا ہے?

ميں نے ذاتي طور پر شام ميں مختلف ملاقاتوں اور ذاتي تبادلہ خيال کے دوران يہ محسوس کيا ہے کہ شام کي حکومت کو ايران اور حز ب اللہ سے دوستي کي سزا بھگتني پڑ رہي ہے ?

1980سے 1988کے درميان عراق ـ ايران جنگ کے دوران بھي ديگر عرب ممالک کے برخلاف شام نے ايران کي حمايت کي تھي? اس نے ہميشہ مظلوم فلسطيني عوام کي اسرائيل مخالف جدوجہد کي حمايت کي ہے?

حزب اللہ اور حماس سے شام کے اچھے رشتے رہے ہيں?امريکہ ـ اسرائيل اور ان کے عرب اتحادي شام کي حکومت کو برطرف کر کے ايران کو تنہا اور حزب اللہ کو کمزور کرنا چاہتے ہيں ?

سعودي عرب قطر اور خليجي تعاون کونسل کے ديگر رکن ممالک امريکہ، اسرائيل اور يورپي ممالک کي شام مخالف تحريک کوحمايت دے رہے ہيں?

ميرا تجزيہ يہ بھي ہے کہ شام اور ايران کے خلاف اقتصادي پابنديوں کي ناکامي يقيني ہے? ان دونوں ملکوں کے درميان عراق ميں بھي اب ان کي ہم مزاج حکومت ہے? لبنان حکومت حزب اللہ کو الگ کر کے کوئي بڑا فيصلہ نہيں کر سکتي ?ان چاروں ملکوں کي سرحديں مشترک ہونے کي وجہ سے بھي کسي بھي مشکل کے وقت يہ ايک دوسرے کي مدد کر سکتے ہيں?

جنگ سے پيدا ہونے والي مشکل صورتحال سے بچنے کے لئے اسرائيلي اور امريکي حکام نے سرکاري اورغير سرکاري طور پر يہ اعتراف کرنا شروع کر ديا ہے کہ جنگ مسئلہ کاحل نہيں ہے ?

امريکہ نے يہ بھي اعتراف کيا ہے کہ شام حکومت کے مخالفين ميں اتحاد نہ ہونے کي وجہ سے کوئي بھي بڑي کارروائي ممکن نہيں ہے? ايسے حالات ميں جبکہ مغربي ممالک اور سعودي عرب شام ميں مخالفين کو ہتھيار فراہم کرنے کا ايک طرح سے اعتراف کر چکے ہيں?

امريکي صدر اوبامہ نے بھي ہر ممکنہ اقدام کي بات کہي ہے، شام کي افواج کے ذريعہ حمس پر پھر سے مکمل قبضہ کرنا غير معمولي واقعہ ہے ? اب تک شام کے کسي سفارتکار يا بڑے فوجي ذمہ دار نے حکومت سے الگ ہونے کا اعلان نہيں کيا ہے ?

شام ـ ايران اور حزب اللہ کے ہاتھوں گزشتہ 32 برسوں سے شکست کھانے والے امريکہ کي سربراہي والے مغربي ممالک، اسرائيل اور ان کے عرب اتحاديوں کي ايسے وقت ميں کاميابي کے آثار نہيں ہيں جبکہ امريکہ عراق سے واپس جا چکا ہے ‘ افغانستان سے فرار کے لئے کھلے دشمن طالبان سے مذاکرات کي جا رہي ہيں اور امريکہ اور يوروپ مالي بحران ميں بري طرح مبتلا ہيں شام کے خلاف جنگ کے امکان نہيں ہيں ?

2003 ميں عراق کي صدام حسين حکومت خطے ميں تنہا تھي ليکن شام کي بشار الاسد حکومت تنہا نہيں ہے اور اس کے اتحادي خطے کي بڑي طاقت ايران اور حزب اللہ ہيں جن سے’ اب سے پہلے کے تجربات کي روشني ميں’ ٹکرانے کي ہمت نہيں ہے?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬