15 October 2009 - 14:01
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 406
فونت
رسا نیوز ایجنسی ـ لکھنؤ کے کرشچن کالج میدان میں مسلم خواتین تحریک کے عنوان سے قومی اجلاس کا انعقاد ہوا
عورتیں تعلیم یافتہ عورتیں ہی معاشرہ کو ترقی دے سکتی ہیں

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق ، لکھنؤ کے کرشچن کالج میدان میں مسلم خواتین تحریک کے عنوان سے قومی اجلاس منعقد ہوا جس میں مولانا ڈاکٹر سید کلب صادق نے مسلم خواتین کے مسائل پر منعقد سیمنار میں تعلیم نسواں پر زور دیا اور کہا کہ اسلام میں عورتوں کو برابری کا حق حاصل ہے ۔

لکھنؤ کے کرشچن کالج میدان میں منعقد مسلم خواتین تحریک کے تیسرے قومی اجلاس میں ترقی ہم سے دور کیوں؟ کے عنوان پر مہمان خصوصی کے طور پر شریک مولانا ڈاکٹرسید کلب صادق نے اپنے خطاب میں کہا کے جب تک عورت تعلیم یافتہ نہیں ہونگی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ مسلمانوں کی ترقی کے لیے بچو کی تعلیم بہت ضروری ہے۔

کلب صادق نے کہا : عورتوں کی سطح تبھی اوپر اٹھے گی جب وہ اپنے حقوق کے لیے آگے آ ئینگی تعلیم کے شعبہ میں آج خواتین کی حصہ داری کم ہے زمانہ کے ساتھ چل کر ہی ہم اور ہمارا سماج ترقی کر سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا : مسلم سماج میں جہیز اور ذات پات جیسی برائیوں کو تبھی دور کیا جا سکتا ہے جب خواتین تعلیم یافتہ ہوں ۔

کلب صادق نے کہا کہ مسلم سماج جب لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانے پر زور دے گا تو معاشرہ خود بخود ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائےگا ۔

مولانا نے کہا : اب تک مسلم سماج میں خواتین کو جج نہیں بنایا جاتا تھا لیکن ایران نے پہل کرتے ہوئے ۳۰۰ ججوں میں ۹۷ جج خواتین کو مقرر کیا ۔ مسلم خواتین جب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونگی تو اپنے اختیارات کے تئیں بیدار ہونگی اور اس کا تحفظ کر سکینگی ۔

ڈاکٹر کلب صادق نے کہا کہ یہ خیال غلط ہے کہ اسلام میں خواتین کا رتبہ مردوں سے کم ہے انہوں نے شوہر اور زوجہ کے متعلق قرآن کا حوالہ دیتے ہوے کہا کے اسمیں لفظ زوج کا استعمال ہوا ہے جس کے معنی برابری کے ہوتے ہیں ۔

مولانا نے کہا کہ عورتوں کی ترقی پر کٹھ ملاؤں نے ہی روک لگا رکھی ہے وہ عورت کے کام تو بتاتے ہیں لیکن اپنے فرا ئض کو بیان نہیں کرتے کچھ مولوی نماں افراد نے خواتین کے ساتھ بہت نا انصافی کی ہے اسلام میں عورتوں کا درجہ مردوں کے برابر ہی ہے ۔

مولانا ڈاکٹر کلب صادق نے کہا : تہذیب کی پستگی عورتوں کی اہمیت کم کرنے کی ہی وجہ سے ہوئی ہے ۔ بچہ ماں کی آغوش میں ہی پل کر بڑا ہوتا ہے ایسے میں عورتوں کی اہمیت کو کم اور پست بتانا نا انصافی ہے۔

مولانا کلب صادق نے کہا : مسلم پرنسل لاءبورڈ میں عورتوں کی نمائندگی ۳۰ فیصد ہونا چاہیے۔

لکھنؤں یونیورسٹی کی پروفیسر صابرہ حبیب نے کہا : عورتوں کے تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہوگا ۔ بیگم نسیم اقتدار علی نے کہا : وہ ادارہ کے اس اقدام کو قابل تعریف سمجھتی ہیں اس نے عورتوں کے مسائل کو لیکر کچھ کرنے کی بات سوچی ہے۔

محتر مہ کاملہ اور صاحبہ صدیقی وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ مسلم خواتین کے قومی اجلاس میں ھندوستان کی تیرہ ریاستوں سےشریک ہوئی تقریباَ ایک ہزار سے زائد مسلم خواتین نے شرکت کی۔

سیمینار کی آرگنائیزر محترمہ نازش حسن اور محترمہ ناز رضا نے شرکاء کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔ محترمہ نور جہاں نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬