20 May 2012 - 18:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4127
فونت
آيت ‌الله جوادي آملي :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت‌الله جوادي آملي نے کارائي اور طھارت اسلامي ملازمين کي دو اھم خصوصيتيں بيان کيں ?
حضرت آيت ‌الله جوادي آملي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، مفسر زمان ، حضرت آيت ‌الله عبدالله جوادي آملي نے مسجد اعظم قم ميں طلاب وعلماء وافاضل حوزہ علميہ قم کے مجمع ميں سورہ نمل کي تفسير کرتے ہوئے کہا : حضرت سليمان عليه‌ السلام نے ملکہ سبا کا تحفہ رد کرنے بعد فرمايا : تم مال دنيا سے وابستہ ہو ميري نگاہ ميں مال دنيا کي کوئي حيثيت نہي ?

انہوں نے ايت «قَالَ عِفْريتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيکَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِکَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ» کي تفسير کرتے ہوئے کہا : جنوں ميں قدرت اور تيز رفتاري بہت زيادہ پائي جاتي ہے مگر اس مقدار ميں نہي ہے کہ وحي الھي کو سمجھ سکيں اور اسے متحمل ہوسکيں اور مقام ولايت ، نبوت اور رسالت تک پہونچ سکيں ? منقول نہيں ہے کہ جنوں ميں بھي پيغمبر ہوں ، ہاں عالم ہيں جو انبياء الھي کے ساتھ محشور ہوں گے جو احکامات الھي کو اپني قوم تک پہونچاتے ہيں ?

حضرت آيت ‌الله جوادي آملي نے کہا : يمن سے تخت بلقيس کو لانے والے کے سلسلے ميں قران کي تعبير يہ ہے کہ «الذي عنده علم من الکتاب» يعني کتاب کا تھوڑا سا علم اس کے پاس تھا ? مگر سورہ رعد کي ايت «ومَن عِندَهُ عِلمُ الکِتابِ» کي تفسير ميں موجود روايات ميں اس ايت کا مصداق حضرت اميرالمومنين علي عليه ‌السلام کي ذات بيان کي گئي ہے يعني حضرت پوري کتاب کے عالم تھے اور جو تخت بلقيس کو لايا اس کے پاس کتاب کا تھوڑا سا علم تھا ?

حوزہ علميہ قم ميں تفسير کے اس استاد نے حضرت سليمان عليه ‌السلام کے شکر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : شکر نعمت کي حفاظت و بقا کا سبب ہے اور جو کچھ بھي ابھي تک نہ ملا اس کے ذريعہ ملے ہوگا اور ايت «لإن شکرتم لأزيدنّکم» کہ اگر تم نے شکر ادا کيا تو تمھاري نعمتوں ميں اضافہ ہوگا کے بھي يہي معني ہيں ?

حضرت آيت ‌الله جوادي آملي نے يمن سے تخت ملکہ سبا کے لانے کي کيفيت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا : اس کے سلسلے ميں مختلف اقوال ہيں جس ميں سے «طي الارض، طَفره، تجدد اَمثال و اسم اعظم» وغيرہ کو بيان کيا گيا ہے ؛ اسم اعظم لفظ نہي ہے کہ اسکا جاننے والا کچھ بھي انجام دينے کي طاقت رکھتا ہو ، مفھوم بھي نہي ہے کہ کوئي اس کے معني اور مفھوم کو تصور کرسکے اوراس کے ضمن ميں کوئي کام انجام دے ?

انہوں نے مزيد کہا : ھم جس چيز سے روبرو ہيں وہ الفاظ ہيں کہ جو اسماء المفاھيم ہيں ، نہ ان الفاظ ميں کوئي طاقت ہے اور نہ ان مفاھيم ميں ، مفاھيم بھي اسماء المصاديق ہيں کہ ان مصاديق ميں بھي کسي قسم کي طاقت نہي ، يہ مصاديق حقيقتوں کے بيان کا تسلسل اور ان حقيقتوں کا مظھرہيں جو خود اسماء الھي ہيں جن چيزوں کو «بأسمائِک التي ملأت أرکان کل شيء» سے تعبير کيا جاتا ہے اسماء اعظم الهي کے صغير يا عظيم اسماء ہيں کہ جن اسماء سے زمان وزمين چلتا ہے ?

اس نامور مفسر نے مزيد بيان کيا : اهل ‌بيت عليهم‌ السلام انہيں اسماء اعظم کا مظھر ہيں کہ سورج کي تابندگي انہيں کے نور کا صدقہ ہے ، اگر ائينے ميں اسم شافي کا عکس اجائے تو بيمار کو شفا مل جائے ، اگر رزاق اس ائينے ميں رونما ہو تو دنيا کو نعمت کي فراواني ہوجائے «ذلک فضل الله يؤتيه من يشاء» ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬