22 May 2012 - 12:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4131
فونت
سيد ساجد علي نقوي :
رسا نيوز ايجنسي ـ قائد ملت جعفريہ نے کہا ہے کہ ملک کو مجرموں و قاتلوں کے حوالے کردياگيا ہے عوام کو حقائق سے آگاہ نہيں کيا جا رہا?
حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفريہ حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے کہا ہے کہ ملک کو مجرموں و قاتلوں کے حوالے کرديا گيا ہے، عوام کو حقائق سے آگاہ نہيں کيا جا رہا کراچي سے خيبر، کوئٹہ سے گلگت بلتستان، پارہ چنار ميں ايک سازش کے تحت ٹارگٹ کلنگ و قتل عام کا سلسلہ جاري ہے جو کہ رياستي اداروں کي ناکامي کا منہ بولتا ثبوت ہے ? حکومت بتائے کہ ملکي نظام کو جن دہشتگردوں نے جام کر رکھا ہے ان کيخلاف کارروائي کيوں نہيں کي جارہے، ہميشہ وحدت مسلمين کے داعي رہے ہيں ، محب وطني کے دعوے کرنے والے ہر اس تنخواہ دار سے زيادہ پاکستان سے محبت کرتے ہيں?

پوري دنيا ميں اسلامي بيداري مہم شروع ہوچکي ہے، عوام تيار رہيں مستقبل ميں ماضي سے بڑھ کر سياسي کردار ادا کرينگي، جمہوري و اسلامي روايات کے اور قانون کے پابند ہيں، شر پسند عناصر کيخلاف نشاندہي کي جائے انہيں قانون کے مطابق کيفر کردار تک پہنچانے ميں کردار ادا کرينگي?

ان خيالات کا اظہار انہوں نے تين روزہ تربيتي ورکشاپ کے اختتام پر اسلامي بيداري کانفرنس سے خطاب و مستقبل ميں اپني پاليسيوںسے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کيا ?

قائد ملت جعفريہ حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے کہا کہ پاکستان اور جمہوريت کي باتيں کرنيوالے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ نہيں کررہے ہيں اور حکمران عوام کو اس قابل ہي نہيں سمجھتے کہ انہيں حقائق سے آگاہ کريں?

انہوں نے کہا کہ کراچي ميں2مئي 2007ء کو پورے شہر کو جام کرکے رکھ ديا گيا اور 56 سے زائد لوگوں کو شہيد کر ديا گيا جبکہ010ء ميں سانحہ عاشورہ کے موقع پر قرآني آيات کے بکس ميں دھماکہ خيز موا د رکھ کر دہشت گردي کي گئي اور بے گناہ لوگوں کو شہيد کردياگيا?

قائد ملت جعفريہ نے کہا کہ اسي ملک کي وزيراعظم کے برسر اقتدار ہوتے ہوئے ان کے بھائي کو سر عام قتل کر ديا جاتا ہے مگر اس پر ايک لفظ تک نہيں کہا جاتا، سپريم کورٹ نے 8 دہشت گردوں کي اپيليں بھي مسترد کرديں مگر اس کے باوجود اس پر عمل در آمد ميں ليت و لعل سے کام ليا جارہاہے?

انہوں نے کہا کہ کراچي سے خيبر تک اور کوئٹہ سے گلگت بلتستان و پارا چنار تک ايک سازش کے تحت قتل عام و ٹارگٹ کلنگ کا بازار گرم ہے?

سيد ساجد علي نقوي نے کہا کہ حکمران عوام کو کيوں نہيں بتاتے کہ کون لوگ ہيں جنہوں نے ملک کے وسائل پر قبضہ کيا ہوا ہے اور ملک کو جام کر کے رکھ دياہے ?

انہوں نے کہا کہ ملک خداداد کو قاتلوں اور جرائم پيشہ افراد کے حوالے کرديا گيا ہے قاتل اور دہشت گرد سرعام دندناتے پھر رہے ہيں مگر حکومت ان پر ہاتھ ڈالنے سے کترارہي ہے جو کہ حکومت اور رياستي اداروں کي کار کردگي پر سواليہ نشان ہے?

قائد ملت جعفريہ نے کہا کہ چند شر پسند عناصر ملک ميں منافرت پھيلانے کي کوشش کررہے ہيں ليکن انہيں ناکامي ہوگي?

سيد ساجد علي نقوي نے واشگاف الفاظ ميں کہا کہ ہم اس تنخوا ہ دار سے زيادہ محب وطن ہيں جو صرف نعروں کي حد تک ملک سے محبت کا اظہار کرتے ہيں? سب سے پہلے پاکستان کے حق ميں ہمارے آبائو اجداد کے آواز بلند کي اور نعرہ توحيد بھي ہم نے ہي بلند کيا?

قائد ملت جعفريہ نے کہا کہ کچھ کم عقل اور جاہل لوگ اپني باتوں اور بيانات سے شرپسندوں کے عزائم کو مزيد ہوا ديتے ہيں انہيں بھي ہوش کے ناخن لينے چاہيں?

انہوں نے عوام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھيں اور جرائم پيشہ افراد کي نشاندہي کريں ? مجرموں کو قانون کے مطابق کيفر کردارتک پہنچانے ميں مدد کريں?

سيد ساجد علي نقوي نے کہا کہ اسلام امن و آشتي کا مذہب ہے اس کا دہشت گردي و شر پسندي سے دور کا بھي واسطہ نہيں?

وحدت مسلمين کے حوالے سے حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے کہا کہ اتحاد بين المسلمين کے سب سے بڑے داعي ہم ہيں اور ہم نے ہي سب سے پہلے اتحاد کي آواز پر لبيک کہا ?اور آئندہ بھي اتحاد کي کوششوں کو جاري رکھيںگي?

انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضي ميں بھي سياسي ميدان ميں اپنا کردار ادا کيا مگر اب ہميں مزيد فعال ہونے کي ضرورت ہے? عوام تيار رہيں ہم سياسي لائحہ عمل مرتب کررہے ہيں ?

قائد ملت جعفريہ نے ہارس ٹريڈنگ کي شديد الفاظ ميں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہميشہ اسلامي اور جمہوري روايات کواپنايا ہے گلگت بلتستان ميں اکثريت ہونے کے باوجود ہارس ٹريڈنگ سے گريز کيا اس لئے کہ ہم جمہوريت اور اسلامي روايات کے مطابق نظام لانا چاہتے ہيں اور عوام کا مطالبہ بھي يہي ہے ?

انہوں نے کہا کہ مصر سے لے کر بحرين تک اسلامي بيدار ي کاعمل شروع ہو چکا ہے پاکستان ميں بھي عوام کو بيدار ہونا ہوگا ? پاکستان سميت مسلم ممالک کے عوام اسلامي اصولوں کے مطابق اپني زندگياں گزارنا چاہتے ہيں رياست کو بھي ان کا بنيادي حق دينا ہوگا?

سيد ساجد علي نقوي نے کہا کہ ظلم ظلم ہے چاہے مسلمانوں پر ہو يا غير مسلموں پر، ہر جگہ ظلم کي مذمت کي ہے اور کرتے رہيںگي?

انہوں نے اس موقع پر بہت سي طاغوتي و شيطاني قوتوں کي طرف اشارہ کيا جو اسلامي بيداري مہم ميں روڑے اٹکا رہي ہيں اور وہ نہيں چاہتيں کہ اسلام کا بول بالا ہو يا عوام کو ان کي خواہشات کے مطابق زندگي گزارنے کا حق حاصل ہو يا مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر ميں اتحاد و يکجہتي فروغ پائي?

قائد ملت جعفريہ نے کہا کہ ماضي ميںبھي پاکستان بھر کي تمام جماعتوں کو اتحاد کي طرف راغب کيا اور يہ امتياز ہميں ہي حاصل ہے کہ لوگوں اتحاد کي لڑي ميں پرويا?
سيد ساجد علي نقوي نے اس موقع پر کہا کہ جماعت اسلامي کي طرف سے بلائي گئي کانفرنس ميں شرکت بھي اسي منشور کے تحت کر رہے ہيں?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬