25 May 2012 - 23:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4151
فونت
تحرير: سيد اشھد حسين نقوي
رسا نيوز ايجنسي - رھبريت اور قيادت ھر وقت اور عصر کي ضرورت تھي اور ہے ، انساني معاشرہ کبھي بھي رھبريت اور قيادت سے خالي نہي رہا ? چھوٹے سے گھرانے سے ليکر بڑي ابادي ، شھرو ديھات ، قريہ اور محلہ ، ملک وسرزمين تک رھبريت اور قيادت کے نقش پا ملتے ہيں ?
رھبر معظم انقلاب اسلامي

گھر کو چلانے ميں ماں باپ کا گوھر بار وجود ، خاندان کے ادارہ کرنے ميں بزرگِ خاندان کا حضور ، قوموں اور قبائل کو نظم عطا کرنے ميں روساء قوم اور سرداران قبائل کي موجودگي سے ليکر بادشاہت ، شہنشاہيت ، خلفاء و امراء اور فراعنہ کي وسيع وعريض حکومتيں سبھي قيادت ورھبريت کے زير سايہ ہيں ?

انسان تو انسان حيوانات کي دنيا بھي اس زاويہ مختلف و متفاوت نہي ، عقل وشعور سے عاري ، احساسات و جزبات سے مملوء حيواني دنيا کا نظم و ضبط قابل توصيف وپنہاں نہي ? بظاھر تو ايسا محسوس ہوتا ہے کہ ھر کوئي اپنے لئے جيتا اور مرتا ہے مگر تاريخِ حقائق ، علمي انکشافات اور دانشوروں کے نظريات ان کي بانظم زندگي کے بيانگر ہيں ?

قران کريم ميں چينوٹي اور شھد کي مکھي کي بانظم حيات کے حوالے سے موجود داستان کسي پر پوشيدہ نہي کہ چيونٹياں کس طرح اپني حيات ميں اپنے حکمراں کي مطيع وفرمانبردار ہيں ، قالت النملہ ????????? جب چينٹيوں کے سردار نے لشکر حضرت سليمان نبي )ص( کو اتے ديکھا تو انہيں حکم ديا کہ تم سب کي سب اپني بلوں ميں چلي جاو تاکہ سليمان اور اس کے لشکر سے امان ميں رہ سکو ? يا ان کے سلسلے مِيں ديگر تاريخي حقائق اور علمي انکشافات جن کے تذکرہ کا يہاں موقع و محل نہي ان کي بانظم زندگي کا بيانگر ہے ?

يہ تمام باتيں اور واقعات بس ايک چيز اور وہ قيادت ورھبريت کي ضرورت کو اجاگر کرتي ہيں ، جيسا کہ مولائے متقيان ، امير مومنان حضرت علي ابن ابي طالب عليھما السلام کا قول ہے کہ حاکم جائرکي حکومت بے نظم معاشرے سے بہتر ہے ? يعني بے نظمي اور قيادت کا فقدان مرض اور قيادت ورھبريت دوا ہے چاھے وجائر ہي کي کيوں نہ ہو ?

بڑھتي ہوئي ابادي اور ترقي پاتے ہوئے معاشرے ھر طرح کي قيادت و حکومت اور حاکميت سے روبرو رہے ، تاريخ ميں جہاں عدل وانصاف کي حکومتوں کا تذکرہ ہے وہيں ظلم واستبداد اور سامراجيت کے قدموں تلے سسکتے لوگوں کي آہيں اور دلخراش اوازيں ثبت وضبط ہيں ?

ظالموں اور جابروں کے مقابل اولياء الھي ، مرسلين وانبياء کو جب بھي حکمراني کا موقع فراھم ہوا تو انہوں ںے الھي حکومت کي بنياد رکھںے سے گريز نہي کيا ?

يوں تو ديني اورمذھبي قيادتوں کي آڑ ميں حکومتوں کي بناء رکھںے والے مختلف اديان کا تاريخ تذکرہ کرتي ہے اور اس ميں چرچ ) کليسا ( کي حکمراني سبھي کے زير لب ہے ? چرچ نے دين ومذھب کے رعب اور طاقت کے زور پر کچھ دن تو حکومت کيا مگر انساني تقاضے پورے نہ ہونے کے سبب حکومت کي بنياديں سست ہوتي چليں گئيں اور عوام کے دلوں ميں محبت کي جگہ نفرت اور لياقت کي جگہ ناتواني نے لے لي ?

عالم ، جاھل ، پڑھے لکھے ، انپڑھ ، داناں اور نادان ، سياسي وغير سياسي ، عوام اور خواص سب بيک وقت اس نتيجے پر پہونچے کہ مذھبي قيادتيں ديني ھدايتوں کے سوا سياست اور حکومت کي صلاحيت نہي رکھتيں ، اور يہيں سے دين وسياست ميں جدائي ، دين وسياست الگ ، ديندار اور سياستمدار الگ جيسي اصطلاحوں کا رواج ہوا ?

يہ مقولہ عين حقيقت نہي کيوں کہ ابن الوقت اور موقع سے فائدہ اٹھانے والے افراد نے کليسا کي بے لياقتي سے فاِئدہ اٹھاتے ہوئے حکومت و قيادت اور سياست کو دين ومذھب سے الگ کرديا کيوں کہ وہ اسي ميں اپني بھلائي اور فائدہ محسوس کررہے تھے ?

مگر اسلام نے ھميشہ دين اور سياست کو ايک دوسرے سے جڑا ہوا سمجھا کيونکہ اگر حکمراں ديندار ہوتو ھر طرف دين کا بول بالا ہوگا اور اگر حکمراں بے دين ہو تو خواہشات اور جزبات کا دور ودورہ ہوگا اور دين ديني مراکز يا دينداروں کي چھار ديواري تک محدود ہو کر رہ جاِئے گا ? جيسا کہ مرسل اعظم صل اللہ عليہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ الناس علي دين ملوکھم ؛ يعني لوگ اپنے حکمرانوں کے دين پر ہوتے ہيں ?

مرسل اعظم ، نبي مکرم ، محمد مصطفي صل اللہ عليہ والہ وسلم نے پيغام اسلام کے عام کرنے اور خطہ عرب ميں اغاز حکومت کے بعد دين اسلام کي تبليغ کرنے والے مبلغين سے قبل فقط اس لئے حکمرانوں کو خطوط بھيجے اور انہيں دين اسلام قبول کرنے کي دعوت دي کہ قيادت جس دين کي ہوگي عوام بھي اسي دين کي ہوگي ?

مورخ شہيرذاکرحسين تاريخ اسلام ) 1 ( ميں لکھتے ہيں کہ سن 75ھ حضرت امام محمد باقرعليہ السلام کے زمانے اورعبدالملک بن مروان کے دورحکومت ميں قيصرروم نے رومي ٹريڈ مارک جو ان کي مذھبي نشاني تھي ہٹائے جانے پر ايکشن ليتے ہوئے اسلامي حکومت پردباو ڈالا اور اس کے رکھے جانے کا اصرار کيا ?

علامہ دميري اس واقعہ کي تفصيل لکھتے ہوئے تحرير کرتے ہيں کہ ايک دن علامہ کسائي سے خليفہ ہارون رشيدعباسي نے پوچھا کہ اسلام ميں درہم ودينارکے سکے، کب اورکيونکررائج ہوئے انہوں نے کہا کہ سکوں کا اجراء خليفہ عبدالملک بن مروان نے کياہے ليکن اس کي تفصيل سے ناواقف ہوں اورمجھے نہيں معلوم کہ ان کے اجراء اورايجاد کي ضرورت کيوں محسوس ہوئي، ہارون الرشيد نے کہاکہ بات يہ ہے کہ زمانہ سابق ميں جوکاغذ وغيرہ اسلامي ممالک ميں مستعمل ہوتے تھے وہ مصرميں تيارہواکرتے تھے جہاں اس وقت نصرانيوں کي حکومت تھي اوروہ تمام کے تمام بادشاہ روم کے مذہب برتھے وہاں کے کاغذ پرجوضرب يعني ٹريڈمارک ہوتا تھا،اس پر رومي زبان ميں " اب، ابن، روح القدس " لکھا ہوتا ( فلم يزل ذلک کذالک في صدرالاسلام کلہ بمعني علوما کان عليہ ،الخ)?

اوريہي چيزاسلام ميں جتنے دورگذرے تھے سب ميں رائج تھي يہاں تک کہ جب عبدالملک بن مروان کازمانہ آيا، توچونکہ وہ بڑاذہين اورہوشياربادشاہ تھا، لہذا اس نے ترجمہ کراکے گورنرمصرکولکھاکہ تم رومي ٹريڈمارک کوموقوف ومتروک کردو،يعني کاغذ کپڑے وغيرہ جواب تيارہوں ان ميں يہ نشانات نہ لگنے دوبلکہ ان پريہ لکھوادو ”شہداللہ انہ لاالہ الاہو“ چنانچہ اس حکم پرعمل درآمدکياگيا جب اس نئے مارک کے کاغذوں کاجن پرکلمہ توحيد ثبت تھا،رواج پايا توقيصرروم کوبے انتہا ناگوارگزرا اس نے تحفہ تحائف بھيج کرعبدالملک بن مروان خليفہ وقت کولکھا کہ کاغذ وغيرہ پرجو”مارک“ پہلے تھا وہي بدستورجاري کرو،عبدالملک نے ہدايا لينے سے انکارکرديا اورسفيرکو تحائف وہدايا سميت واپس بھيج ديا اوراس کے خط کاجواب تک نہ ديا قيصرروم نے تحائف کودوگنا کرکے پھربھيجا اورلکھا کہ تم نے ميرے تحائف کوکم سمجھ کرواپس کرديا اس ليے اب اضافہ کرکے بھيج رہاہوں اسے قبول کرلواورکاغذ سے نيا”مارک“ ہٹادو، عبدالملک نے پھرہدايا واپس کردئے اورمثل سابق کوئي جواب نہيں ديا اس کے بعد قيصرروم نے تيسري مرتبہ خط لکھا اورتحائف وہدايا بھيجے اورخط ميں لکھا کہ تم نے ميرے خطوط کے جوابات نہيں دئے ،اورنہ ميري بات قبول کي اب ميں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگرتم نے اب بھي رومي ٹريڈمارک کوازسرنورواج نہ ديا اورتوحيد کے جملے کاغذ سے نہ ہٹائے توميں درہم ودينار کے سکہ پرتمہارے رسول کوگالياں نقش کراکے تمام اسلامي ممالک ميں رائج کردوں گا اورتم کچھ نہ کرسکوگے ديکھواب جوميں نے تم کولکھاہے اسے پڑھ کرارفص جبينک عرقا،اپني پيشاني کا پسينہ پوچھ ڈالواورجوميں کہتا ہوں اس پرعمل کروتاکہ ہمارے اورتمہارے درميان جورشتہ محبت قائم ہے بدستورباقي رہے?

عبدالملک ابن مروان نے جس وقت اس خط کوپڑھا اس کے پاؤں تلے سے زمين نکل گئي ، ہاتھ کے طوطے اڑگئے اورنظروں ميں دنيا تاريک ہوگئي اس نے کمال اضطراب ميں علماء و افاضل ، اہل الرائے اورسياست دانوں کوفوراجمع کرکے ان سے مشورہ طلب کيا اورکہاکہ کوئي ايسي بات سوچوکہ سانپ بھي مرجائے اورلاٹھي بھي نہ ٹوٹے يا سراسراسلام کامياب ہوجائے، سب نے سرجوڑکربہت ديرتک غورکيا ليکن کوئي ايسي رائے نہ دے سکے جس پرعمل کياجاسکتا ”فلم يجد عنداحدمنہم رايايعمل بہ“ جب بادشاہ ان کي کسي رائے سے مطمئين نہ ہوسکا تواورزيادہ پريشان ہوا تو دل ميں کہنے لگا ميرے پالنے والے اب کيا کروں ابھي وہ اسي تردد ميں بيٹھاتھا کہ اس کا وزيراعظم”ابن زنباع“ بول اٹھا، بادشاہ تويقيناجانتا ہے کہ اس اہم موقع پراسلام کي مشکل کشائي کون کرسکتاہے ، ليکن عمدا اس کي طرف رخ نہيں کرتا، بادشاہ نے کہا ”ويحک من“ خداتجھ سے سمجھے، توبتاتوسہي وہ کون ہے؟ وزيراعظم نے عرض کي ”عليک بالباقرمن اہل بيت النبي (ص) “ ميں فرزند رسول امام محمدباقرعليہ السلام کي طرف اشارہ کررہاہوں اوروہي اس آڑے وقت ميں تيرے کام آسکتے ہيں ،عبدالملک بن مروان نے جونہي آپ کا نام سنا کہا " قال صدقت " کہنے لگا خداکي قسم تم نے سچ کہا اورصحيح رہبري کي ہے?

اس کے بعد اس نے وقت فورا مدينہ اپنے گورنر کو لکھا کہ اس وقت اسلام پرايک سخت مصيبت آگئي ہے اوراس کا دفع ہونا محمد بن علي الباقرکے بغيرناممکن ہے لہذا جس طرح ہوسکے انھيں راضي کرکے ميرے پاس بھيج دو، ديکھواس سلسلہ ميں جو مصارف ہوں گے وہ بذمہ حکومت ہوں گے ?

عبدالملک نے درخواست مدينہ ارسال کرنے کے بعد شاہ روم کے سفيرکونظر بندکرديا اورحکم دياکہ جب تک ميں اس مسئلہ کوحل نہ کرسکوں اسے پايہ تخت سے جانے نہ دياجائے?

حضرت امام محمدباقرعليہ السلام کي خدمت ميں عبدالملک بن مروان کاپيغام پہنچا اورآپ فوراعازم سفرہوگئے اوراہل مدينہ سے فرمايا کہ چونکہ اسلام کا کام ہے لہذا ميں تمام اپنے کاموں پراس سفرکوترجيح ديتا ہوں ? الغرض آپ وہاں سے روانہ ہوکرعبدالملک کے پاس جاپہنچے، بادشاہ چونکہ سخت پريشان تھا،اس ليے اس نے آپ کے استقبال کے فورابعدعرض مدعي کيا ،امام عليہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمايا”لايعظم ہذاعليک فانہ ليس بشئي“ اے بادشاہ سن، مجھے بعلم امامت معلوم ہے کہ خدائے قادروتوانا قيصرروم کواس فعل قبيح پرقدرت ہي نہ دے گا اورپھرايسي صورت ميں جب کہ اس نے تيرے ہاتھوں ميں اس سے عہدہ برآہونے کي طاقت دے رکھي ہے بادشاہ نے عرض کي يابن رسول اللہ وہ کونسي طاقت ہے جومجھے نصيب ہے اورجس کے ذريعہ سے ميں کاميابي حاصل کرسکتاہوں?

حضرت امام محمدباقرعليہ السلام نے فرماياکہ تم اسي وقت حکاک اور کاريگروں کوبلا اوران سے درہم ودينارکے سکے ڈھلوا اوراسلامي ممالک ميں رائج کردے ، اس نے پوچھا کہ ان کي کيا شکل وصورت ہوگي اوروہ کس طرح ڈھليں گے؟ امام عليہ السلام نے فرمايا کہ سکہ کے ايک طرف کلمہ توحيد دوسري طرف پيغمراسلام کا نام نامي اورضرب سکہ کا سن لکھاجائے اس کے بعد اس کے اوزان بتائے آپ نے کہا کہ درہم کے تين سکے اس وقت جاري ہيں ايک بغلي جودس مثقال کے دس ہوتے ہيں دوسرے سمري خفاف جوچھ مثقال کے دس ہوتے ہيں تيسرے پانچ مثقال کے دس ،يہ کل 21/ مثقال ہوئے اس کوتين پرتقسيم کرنے پرحاصل تقسيم 7/ مثقال ہوئے،اسي سات مثقال کے دس درہم بنوا،اوراسي سات مثقال کي قيمت سونے کے دينارتيارکرجس کاخوردہ دس درہم ہو،سکہ کانقش چونکہ فارسي ميں ہے اس ليے اسي فارسي ميں رہنے دياجائے ،اوردينارکاسکہ رومي حرفوں ميں ہے لہذا اسے رومي ہي حرفوں ميں کندہ کرايا جائے اورڈھالنے کي مشين (سانچہ) شيشے کا بنواياجائے تاکہ سب ہم وزن تيارہوسکيں?

عبدالملک نے آپ کے حکم کے مطابق تمام سکے ڈھلواليے اورسب کام درست کرليا اس کے بعدحضرت کي خدمت ميں حاضرہوکردريافت کيا کہ اب کياکروں؟ ”امرہ محمدبن علي“ آپ نے حکم ديا کہ ان سکوں کوتمام اسلامي ممالک ميں رائج کردے، اورساتھ ہي ايک سخت حکم نافذ کردے جس ميں يہ ہوکہ اسي سکہ کواستعمال کياجائے اوررومي سکے خلاف قانون قرارديئے گئے اب جوخلاف ورزي کرے گا اسے سخت سزادي جائے گي اوربوقت ضرورت اسے قتل بھي کياجاسکے گا?

عبدالملک بن مروان نے تعميل ارشاد کے بعد سفيرروم کورہا کرکے کہا کہ اپنے بادشاہ سے کہنا کہ ہم نے اپنے سکے ڈھلواکررائج کرديے اورتمہارے سکہ کوغيرقانوني قراردے ديا اب تم سے جوہوسکے کرلو?

سفيرروم يہاں سے رہا ہوکرجب اپنے قيصرکے پاس پہنچا اوراس سے ساري داستان بتائي تووہ حيران رہ گيا اورسرڈال کرديرتک خاموش بيٹھا سوچتارہا ، لوگوں نے کہا بادشاہ تونے جويہ کہا تھا کہ ميں مسلمانوں کے پيغمبرکوسکوں پرگالياں کنداکرادوں گا اب اس پرعمل کيوں نہيں کرتے اس نے کہاچکہ اب گالياں کندا کرکے کياکروں گا اب توان کے ممالک ميں ميراسکہ ہي نہيں چل رہا اورلين دين ہي نہيں ہورہا ہے ? 2
قيصر روم کے اس طرز عمل سے مکمل واضح و روشن ہے کہ وہ سياسي ہونے کے باوجود دين کي تبليغ اور ديني امور پر مصر تھا اور يہي وہ چيز تھي جو روميوں کو بھي اس کے دين پر قائم رکھے تھي ، ديني قيادت سے سياست وحکومت کي ھمراہي ناقابل انکار امر ہے لھذا جہاں پر جدائي پہ تاکيد کي گئي وہاں دينداروں کي نالائقي اور منفقت پرست افراد کي منفقت طلبي شامل ہے ?

??????????????????????????????????????
1 : تاريخ اسلام جلد 1 ص 42
2 : حيواة االحيوان دميري المتوفي 908 ھ جلد 1 طبع مصر 1356 ھ ?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬