05 June 2012 - 17:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4190
فونت
حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي :
رسا نيوزايجنسي - قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے باني انقلاب اسلامي رھبر کبير حضرت امام خميني (رہ) کي 23 ويں برسي کے موقع پردئے ہوئے پيغام ميں حضرت امام خميني (رہ) کو اس صدي کے عظيم مفکر اور اسلامي معاشرے کي برجستہ علمي و انقلابي شخصيت بيان کيا ?
حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامي ايران حضرت امام خميني (رہ) اس صدي کے عظيم مفکر اور اسلامي معاشرے کي برجستہ علمي و انقلابي شخصيت ہيں?

اس پيغام کا تفصيلي متن مندرجہ ذيل ہے :

رہبرکبير انقلاب اسلامي ايران حضرت امام خميني (رہ) نے علم و شعور اور عمل و کردار کے ذريعے مسلمانوں کي رہنمائي کرکے پيغمبرانہ فريضہ انجام ديا اور عوام کو اسلامي انقلاب کے ذريعہ اسلامي کي صحيح اور آئيڈيل تصوير دکھائي?

امام خميني (رہ) نے اپني ذاتي زندگي قرآن کريم کے فيضان سيرت النبي سے الہام اور اہل بيت (ع) سے وابستگي کے ساتھ بسر کي جبکہ اپني اجتماعي زندگي ميں بھي انہوں نے قرآن وسنت اور اہل بيت اطہار (ع) کي سيرت کے عملي پہلوئوں سے استفادہ کيا اور عوام کو اپنے ذاتي و اجتماعي مسائل کے حل کي طرف متوجہ کيا?

امام خميني (رہ) جيسي نابغہ روزگار شخصيات صديوں بعد پيدا ہوتي ہيں ? امام خميني (رہ) دنيائے اسلام کي ايسي معتبر اور ارفع شخصيت ہيں جو علمي اور تحقيقي ميدان ميں سرکردہ حيثيت کي حامل ہيں اور عملي ميدان ميں بھي کامل رہبري و رہنمائي کا بہترين اور مثالي عملي نمونہ ہيں? ايسي ہمہ جہت شخصيات ہي وقت کے دھارے اور عوام کي تقدير بدلتي ہيں يہي وجہ ہے کہ امام خميني (رہ) نے اپنے اعلي و ارفع کردار سے تمام ميدانوں ميں عوام کي رہنمائي کي اور انہيں اسلامي انقلاب کے ذريعے جديد اسلامي ايران عطا کيا?

امام خميني(رہ) کي شخصيت ميں بلاشبہ انبياء کے اوصاف اور آئمہ کے کردار کي جھلک نظر آتي ہي? آپ نے ذاتي و اجتماعي زندگي ميں انبياء و مرسلين اور آئمہ معصومين (ع) کي جدوجہد سے الہام ليا? يہي وجہ ہے کہ آپ کي زير قيادت رونما ہونے والے انقلاب ميں معاشرے کے تمام طبقات بلاتفريق شامل اور شريک تھي? اور جب انقلاب برپا ہوگيا تو رياست کے تمام طبقات پر ثابت ہوگيا کہ امام خميني کي شخصيت فقط مذہبي ، مکتبي، مسلکي يا جذباتي نہيں بلکہ نظرياتي ، سياسي ، اجتماعي اور عالمي حيثيت کي حامل ہے ?

امام خميني (رہ) کي اعلي اور دور انديش قيادت کا اثر ہے کہ انقلاب ايران آج تک اپني توانائي کے ساتھ موجود اور جاري ہے حالانکہ دنيا کے ديگر انقلابات اپني کمزور يا جذباتي قيادت يا عارضي ايشوز کي وجہ سے زوال کا شکار ہوتے چلے آئے ہيں? اسي صدي ميں رونما ہونے والے انقلابات اور ان کي قيادتوں کاماضي اور مستقبل ہمارے سامنے ہے?

امام خميني (رہ) اسلامي معاشروں ميں فکري و عملي بيداري کا اس کے تمام پہلوئوں کے ساتھ ايک جامع اور کامل تصور رکھتے تھے ? ہم ان کے خطابات ميں اور ان کے تحريري شہ پاروں ميں ان کے انقلابي منصوبوں کا بخوبي مطالعہ کرسکتے ہيں جس ميں انسان ايک طرف مشکلات کي گہرائيوں ميں اترنے اور دوسري طرف ان مشکلات کے حل کي راہوں کو محسوس کرتا ہي? امام خميني (رہ) نے اپنے سياسي تجربے کي روشني ميں ايسي پاليسياں تشکيل ديں جن سے ايک طرف ايراني عوام کے افکار و نظريات اور عمل پر گہرے اثرات مرتب ہوتے تھے تو دوسري طرف شہنشاہي اور استبدادي نظام بھي ان پاليسيوں سے متاثر ہوئے بغير نہيں رہ سکتا تھا? پاليسيوں کا يہ تسلسل انقلاب کے بعد بھي جاري رہا کہ جب بھي آپ کسي پاليسي کا اعلان فرماتے يا اجراء فرماتے تو اس کے اثرات جہاں ايران کے داخلي حالات پر پڑتے وہاں عالمي سطح پر بھي ايران کي عزت ، مقام اور طاقت ميں اضافے کا باعث بنتے ?

امام خميني (رہ) کا انداز قيادت شہيد کربلا حضرت امام حسين (ع) کے انداز کي طرح کا تھا? آپ نے عوام کا شعور اورعلم کے ساتھ رہنمائي کي? جبر، جذبات يا مجبوري کو آپ نے اپني کسي پاليسي يا اقدام ميں شامل نہيں کيا بلکہ اصول اور شعور کو مدنظر رکھ کر پاليسياں تشکيل ديں اور پھر جب انہي پاليسيوں کے اجراء اور منزل کے حصول کے لئے قربانياں دينے کا مرحلہ درپيش آيا تو جانثاران کربلا کي طرح قرباني کے جذبے سے سرشار ہوکر ہزاروں جانيں قربان کرديں? ليکن انقلاب کے لئے ڈالي گئي بنياد کو کمزور نہيں ہونے ديا بلکہ علماء ، شخصيات ، سياسي قائدين و کارکنان کي قربانياں انقلاب کا زينہ ثابت ہوئيں اور انقلاب کي تقويت و استحکام کا باعث بنيں ?

امام خميني (رہ) نے بظاہر صرف ايران کے عوام کي قيادت کرکے انہيں ايک عظيم اسلامي مملکت اور ايک عظيم اسلامي نظام کا تحفہ ديا ليکن دراصل آپ فقط ايران نہيں بلکہ عالم اسلام کے رہبر و رہنما تھے کيونکہ آپ نے جن خطوط پر اپني جدوجہد کي بنياد رکھي وہ مقامي سے زيادہ عالمي نوعيت کے تھي? آپ نے جن طاقتوں کو ايران کا دشمن قرار ديا وہي طاقتيں دراصل اسلام اور مسلمين کي دشمن تھيں اور ان سے مقابلہ کرنے کے لئے تيار کرنا يقينا ايک عظيم ذمہ داري تھي جو امام خميني (رہ) نے بخوبي ادا کيں ? اور پورے عالم اسلام کو استعماراور استبداد کي اسلام دشمن پاليسيوں اور اقدامات سے آگاہ کيا اور ديگر اسلامي ممالک کے باشعور اور باضمير عوام کو متوجہ کيا کہ وہ ايراني عوام کي اعلي مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے ملک ميں جدوجہد کي آغاز کريں اور پھر دنيا نے ديکھا کہ آپ کي قيادت نے بہت سارے اسلامي ممالک پر اثرات مرتب کئے اور وہاں اسلامي تحريکوں نے تقويت حاصل کي اور آج جن جن ممالک ميں اسلام اور جمہوريت پسند يا استعمار و استکبار مخالف قوتيں سرگرم ہيں وہ امام خميني (رہ) کي شخصيت اور قيادت سے رہنمائي لے کر آگے بڑھ رہي ہيں?

امام خميني (رہ) کي اجتماعي شخصيت کا سب سے طاقتوراور اہم پہلو ان کا اتحاد بين المسلمين کا نظريہ تھا يہ بات وثوق سے کہي جاسکتي ہے کہ امام خميني (رہ) سے قبل کسي شخصيت نے اس انداز ميں عالمي سطح پر مسلمانوں کو متحد ہونے اور وحدت کے ساتھ اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کي دعوت اور رغبت نہيں دي? امام خميني کو امتياز حاصل ہے کہ انہوں نے فقط لفظي نہيں بلکہ عملي طور پر وحدت کو قائم کيا اور مسلمانوں کو وحدت کے نئے انداز اور نئے جذبے ديئي? آج امام کے وحدت کے نظريے کا اثر ہے کہ دنيا بھر کے تمام اسلامي ممالک اور اسلامي تحريکيں اسلامي جمہوريہ ايران سے والہانہ عقيدت رکھتي ہيں? ہم بھي امام خميني کے اسي نظريے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان ميں اتحاد و وحدت کے لئے تصوراتي نہيں بلکہ عملي ميدان ميں سرگرم عمل ہيں? ملي يکجہتي کونسل سے لے کر متحدہ مجلس عمل تک کا وجود ہم نے امام خميني (رہ) کے نظريات اورتصورات کي روشني ميں تشکيل ديا? جس کے اثرات يقينا مثبت اور تعميري انداز ميں مرتب ہوئے ہيں?

امام خميني (رہ) کي شخصيت فقط اسلام کے ايک جيد عالم دين‘ مجتہد يا مذہبي و روحاني قائد کي نہيں اور نہ ہي آپ کي نظر يا مشاہدہ و مطالعہ علوم اسلامي تک محدود تھا بلکہ آپ اپنے وقت کے تمام سياسي نظاموں‘ نظام ہائے حکومت و مملکت اور عالمي سطح پر رونما ہونے والے انقلابات اور تبديليوں سے آگاہ و باخبر تھي?حتي کہ ان ميں موجود نقائص و نقصانات اور انداز نفاذ پر گہري نظر رکھ کر اس کي نشاندہي فرماتے تھي?

يہي وجہ ہے کہ آپ نے سوشلزم ، کميونزم ، بادشاہت، آمريت اور نام نہاد جمہوريت کو متعدد بار چيلنج کيا اوران نظاموں کي ناکاميوں کي طرف متوجہ کرتے ہوئے اسلام کے اعلي سياسي و ديني نظام حکومت و نظام زندگي کي برتري اور فضيلت و اہميت کو ثابت کيا? روس کے صدر کے نام آپ کا معروف زمانہ خط تو آج تاريخ کا ايک يادگار حصہ بن چکا ہے کہ جس ميں آپ نے کميونزم کي ديوار گرنے کي سچي پيشن گوئي فرمائي اور پھر دنيا نے ديکھا کہ روس کي شکست و ريخت اسي نظام کي وجہ سے ہوئي?

عراق کي آمر قيادت کے بارے ميں بھي امام خميني (رہ) کے ارشادات سماعتوں ميں ابھي تک گونج رہے ہيں? اس آمريت کا حشر بھي آج سب کے سامنے ہے ?

امام خميني (رہ) کو ايک اور امتياز يہ بھي حاصل ہے کہ انہوں نے اقتدار اعلي کا محور و مرکز صرف خدا تعالي کي ذات کو قرار دينے کا نظريہ متعارف کرايا اور دنيا بھر ميں سپر پاور ز کي دعويدار طاقتوں اور ملکوں کے نظريے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ’’ سپر طاقت ہے خدا…لاالہ الا اللہ ‘‘ کا ايسا نظريہ عطا کيا جو اس سے قبل عالمي سطح پر نہيں ديا گياتھا?امام کي رحلت کے بعد بھي نام نہاد سپر طاقتوں کے مقابل صف آراء ہونے والي تمام مسلمان طاقتوں نے اس نظريے اور نعرے سے حوصلے لے کر اپني جدوجہد کي ?
امام امت کي ہمہ گير شخصيت کے اتنے پہلو ہيں کہ ان پر مختصر گفتگو يا تبصرہ کرنے کے لئے ايک دفتر درکار ہے ? کسي شخصيت کے کردار پر روشني ڈالنے کا مقصد محض اس شخصيت کے فضائل و مناقب بيان کرنا نہيں ہوتا بلکہ اس شخصيت کے عمل و کردار کو ياد کرکے اپنے وقت اور معاشرے کي تعمير اور اپني انفرادي و اجتماعي زندگي کو منظم کرنا ہوتا ہے?

لہذا امام خميني (رہ) کے ساتھ عقيدت اور وابستگي کا حقيقي اور عملي تقاضا يہي ہے کہ ہم ان کي عظيم اور آفاقي تعليمات پر خصوصي توجہ ديں? اپني ذات سے لے کر اپنے معاشرے تک انقلاب برپا کرنے کے لئے امام خميني کي ذات سے استفادہ کريں?

امام خميني (رہ) کي خدمات کا بہترين صلہ يہي ہوگا کہ ان کے علمي اور نظرياتي افکار کي ترويج کے ساتھ ان کے سب سے بڑے اثاثے يعني ‘‘اسلامي انقلاب ’’کو اصل حالت ميں محفوظ رکھ کر آگے بڑھايا جائے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬