16 June 2012 - 18:44
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4226
فونت
سيد حسن نصراللہ :
رسا نيوزايجنسي - حزب اللہ لبنان کے جنرل سکريٹري نے تاکيد کي : دنيا کا کوئي شخص علم، حکمت، دانائي، شجاعت اور مديريت ميں حضرت آيت اللہ سيد علي خامنہ اي کے ھم پلہ نہيں جو امت مسلمہ کي قيادت کا صلاحيت رکھتا ہو?
سيد حسن نصر اللہ

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، حزب اللہ لبنان کے جنرل سکريٹري حجت الاسلام سيد حسن نصراللہ نے اسلامي جمہوريہ ايران ٹي وي کے چوتھے چائنل کو انٹرويو ميں کہا : ہمارا عقيدہ ہے کہ اسلامي دنيا اور حتي پوري دنيا ميں کوئي ايسا شخص موجود نہيں جو علم، حکمت، دانائي، شجاعت اور مديريت ميں قائد انقلاب اسلامي ايران آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي کا ہمتا ہو اور امت مسلمہ کي قيادت کي صلاحيت رکھتا ہو?

انہوں نے مزيد کہا : ميري نظر ميں حضرت آيت اللہ سيد علي خامنہ اي ، امام خميني (رہ ) کے بعد سب سے بڑي اسلامي شخصيت ہيں ?

حزب اللہ لبنان فقط شيعوں کا نہيں بلکہ پوري قوم کا دفاع کر رہي ہے ?

حزب اللہ لبنان کے سيکرٹري جنرل نے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ ہماري تنظيم کا منشور خطے کي تمام اقوام کے دفاع پر مشتمل ہے کيونکہ حزب اللہ لبنان اپني پوري تاريخ ميں امت مسلمہ کي حامي رہي ہے? انہوں نے کہا کہ اسرائيل کي غاصب صہيونيستي رژيم ہر روز لبنان کو جنگ کي دھمکياں دے رہا ہے اور لبنان کے دريايي پاني پر اپنا حق جتاتا ہے لہذا ہميں ہميشہ اپنے دفاع کيلئے تيار رہنا چاہئے? سيد حسن نصراللہ نے تاکيد کي کہ بنت جبيل ميں امن و امان کا راز اسلامي مزاحمت ہے جسکي وجہ سے دشمن اس خطے پر حملہ کرنے کي جرات نہيں کرتا، اگرچہ آج لبنان ميں جنگ کي صورتحال نہيں ليکن حزب اللہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کي بھرپور آمادگي رکھتي ہے?

حزب اللہ لبنان کے سيکرٹري جنرل نے اس سوال کے جواب ميں کہ آيا يہ دعوي درست ہے کہ حزب اللہ لبنان تشيع کي ترويج کرنے ميں مصروف ہے؟ کہا کہ حزب اللہ لبنان ايک اسلامي تنظيم ہے جو اسلامي اصولوں کي پابند ہے? حزب اللہ لبنان ايسے افراد کا مجموعہ ہے جو مکتب اہلبيت عليھم السلام پر ايمان رکھتے ہيں اور اہل تشيع ہيں ليکن اس تنظيم کي سرگرمياں لبنان کے تمام عوام کيلئے ہيں چاہے وہ مسلمان ہوں يا عيسائي?

حزب اللہ لبنان کي فوجي طاقت کا نشانہ اسرائيل ہے:

حزب اللہ لبنان کے سيکرٹري جنرل سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ يہ تنظيم تمام لبناني عوام کي نمايندہ تنظيم ہے، حزب اللہ لبنان کي کوشش ہے کہ وہ ايک اسلامي تحريک کا اچھا اور ترقي يافتہ نمونہ پيش کرے لہذا اسکي شکل اسلامي مزاحمت اور جہاد والي ہے اور وہ اسلامي قوانين و اصول اور اسلامي اخلاقيات کي پابند تنظيم ہے? انہوں نے اس بات پر زور ديا کہ حزب اللہ لبنان کي فوجي طاقت کبھي بھي ملک کے اندر استعمال نہيں کي جائے گي اور ہم ہر گز لبنان آرمي يا سيکورٹي اداروں کے مقابلے ميں نہيں آئيں گے، آپ لوگ کبھي بھي کسي کو جنوب لبنان ميں مسلح حالت ميں نہيں ديکھيں گے کيونکہ حزب اللہ لبنان کي طاقت خفيہ ہے اور جب تک اسرائيل ہم پر حملہ آور نہيں ہوتا ہم اپني فوجي طاقت کا اظہار نہيں کرتے?

سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم نے ہميشہ قومي مفادات کو اپنے تنظيمي مفادات پر ترجيح دي ہے? انہوں نے کہا کہ 1982 ميں اپني تنظيمي فعاليت کے آغاز سے ہي ہم نے حکومت سے يہ مطالبہ کيا کہ وہ اپني ذمہ داريوں کو پورا کرتے ہوئے ملک کا دفاع کرے ليکن اس نے ايسا نہ کيا لہذا لبناني عوام کي ايک تعداد مسلح ہو گئي تاکہ يہ کام خود انجام دے سکيں?

حزب اللہ لبنان کے سيکرٹري جنرل نے کہا کہ قومي حکومت ملک ميں استحکام کا باعث ہے، موجودہ حکومت ہر قسم کے فتنے کو روکنے کا باعث بني ہے اور ملک ميں امن و امان کي فضا قائم کرنے ميں مددگار ثابت ہوئي ہے?

اسرائيل کے مقابلے ميں حزب اللہ کي فتح ايک معجزہ سے کم نہ تھي:

سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائيل نے 1982 ميں لبنان پر حملہ کيا اور دارالحکومت بيروت پر بھي قبضہ کرنے ميں کامياب ہو گيا، اسي وقت اس کے خلاف اسلامي مزاحمت کي تحريک معرض وجود ميں آئي اور اسرائيل پر کاري ضربيں لگانے ميں کامياب ہوئي، اسلامي مزاحمت نے اسے عقب نشيني پر مجبور کر ديا، اگر صرف لبنان کي فوج ہوتي تو اسرائيل لبنان ميں باقي رہتا ليکن جب اس نے ديکھا کہ يہاں حزب اللہ جيسي تنظيم بھي موجود ہے اور اسکے خلاف ملٹري آپريشنز اور گوريلا جنگ کر رہي ہے تو فورا لبنان سے بھاگنے پر مجبور ہو گيا کيونکہ اسے ہمارے آپريشنز اور بم دھماکوں سے شديد نقصان پہنچ رہا تھا?

حزب اللہ لبنان کے سيکرٹري جنرل نے اس سوال کے جواب ميں کہ آيا اسرائيل اور حزب اللہ لبنان کے درميان 33 روزہ جنگ ميں حزب اللہ کي فتح کا باعث اسرائيل کي کمزوري تھي يا حزب اللہ کي طاقت؟ کہا کہ يہ فتح خداوند کريم کي جانب سے ايک عظيم نصرت تھي اور ايک معجزہ سے کم نہيں تھي، اس ميں کوئي شک نہيں کہ اسرائيلي فوج خطے کي ايک طاقتور ترين فوج سمجھي جاتي ہے اور ہماري اصلي جنگ ہوائي مقابلے کي صورت ميں تھي?

سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ تعداد، اسلحہ اور ديگر وسائل کے اعتبار سے حزب اللہ اور اسرائيل کے درميان بالکل موازنہ نہيں کيا جا سکتا ليکن مجاہدين کے ايک گروہ نے اپنے شرعي وظيفے کا احساس کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے کي کوشش کي اور خدا نے انہيں فتح اور کاميابي عطا کي، ہم روزمرہ اور معمولي قوانين کي روشني ميں بالکل سمجھنے سے قاصر ہيں کہ ان 33 دنوں ميں کيا گزرا کيونکہ ہم اچھي طرح جانتے ہيں کہ اسرائيل کے پاس کيا ہے اور ہمارے پاس کيا ہے?

حزب اللہ لبنان کے سيکرٹري جنرل نے اس سوال کے جواب ميں کہ اسرائيل کے خلاف 33 روزہ جنگ ميں آپکي کاميابي کا راز کيا تھا؟ کہا کہ خداوند اس وقت انسانوں کي مدد کرتا ہے جب وہ امتحان کے مرحلے سے گزر چکے ہوں، لبنان ميں جو کچھ گذشتہ کئي عشروں خاص طور پر 1982 کے بعد انجام پايا وہ ان مخلص افراد کي مزاحمتي تحريک تھي جنہوں نے بڑي تعداد ميں شہيد اور زخمي پيش کئے اور اپني فداکاري اور ايثار کے ذريعے دنيا کو حيرت زدہ کر ديا? انہوں نے کہا کہ خدا پر ان افراد کا يقين ان چند سالوں کے بعد ايمان ميں تبديل ہو گيا اور انہوں نے ايثار کا عظيم مظاہرہ کيا، ان 33 دنوں ميں اسرائيل نے ہمارے مجاہدوں پر اتني مقدار ميں بم اور ميزائل گرائے جو اس نے عرب ممالک کے ساتھ اپنے تمام گذشتہ جنگوں ميں گرائے تھے ليکن ہمارے ايک مجاہد نے بھي ميدان خالي نہيں کيا اور ڈٹ کر اسرائيل کا مقابلہ کيا، يہ معنوي آمادگي گذشتہ 20 يا 30 سال کي مزاحمت کا نتيجہ تھي?

حزب اللہ کي ميزائل طاقت دنيا کے 90 ممالک کے پاس نہيں:

سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ آج اسرائيل خود يہ اعتراف کرتا ہے کہ حزب اللہ 2006 کي نسبت کئي گنا طاقتور ہو چکي ہے، حزب اللہ لبنان کي طاقت پہلے سے کہيں زيادہ ہو چکي ہے اور اسرائيل اس کو مان چکا ہے?

سيد حسن نصراللہ نے اس سوال کے جواب ميں کہ آج کي حزب اللہ اور 2006 کي حزب اللہ ميں کيا فرق ہے؟ کہا کہ حزب اللہ کي عوام ميں مقبوليت باعث بني ہے کہ وہ ماضي کي نسبت زيادہ طاقتور ہو جائے، ہمارے مجاہدين کي تعداد بھي پہلے سے زيادہ ہے اور ہمارا اسلحہ بھي زيادہ ہو چکا ہے? انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے ميزائل مقبوضہ فلسطين کے کسي بھي حصے کو نشانہ بنانے کي بھرپور صلاحيت کے حامل ہيں، حزب اللہ کي فوجي طاقت ماضي کي طاقت سے قابل موازنہ نہيں?

اسلامي جمہوريہ ايران اسلامي مزاحمت کي مضبوط تکيہ گاہ ہے:

حزب اللہ لبنان کے سيکرٹري جنرل نے کہا کہ لبنان اور خطے ميں جو بات مشہور ہے وہ يہ کہ 2006 ميں ہونے والي جنگ اسرائيل اور حزب اللہ کے درميان انجام پائي ليکن پشت پردہ بہت سي باتيں سننے ميں آتي ہيں? انہوں نے کہا کہ قائد انقلاب اسلامي ايران آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے تہران ميں نماز جمعہ کے خطبے ميں کہا تھا کہ ہم خطے ميں اسرائيل مخالف تحريکوں کي مدد اور حمايت کرتے ہيں، يہ ايک واقعيت ہے? حزب اللہ ايک لبناني تنظيم ہے اور اسکے رہنما بھي لبناني ہيں، حزب اللہ لبنان کي خاطر جنگ لڑ رہي ہے اور ايران خدا کي خاطر ہماري مدد کر رہا ہے، ہميں ايران کا شکريہ ادا کرنا چاہئے، اسلامي جمہوريہ ايران اسلامي مزاحمت کي ايک مضبوط تکيہ گاہ ہے?

سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر اسرائيل کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے يا وہ کمزور ہوتا ہے تو اس ميں لبنان، فلسطين، مصر، ايران اور تمام اسلامي ممالک کا فائدہ ہے، ہم اس مسئلے کو اس نظر سے ديکھتے ہيں، يہ ايک خالصانہ سياسي مسئلہ نہيں بلکہ اعتقادي، ديني اور سياسي مسئلہ ہے?

ايران روز بروز طاقتور ہوتا جا رہا ہے:

سيد حسن نصراللہ نے اس سوال کے جواب ميں کہ آپکي نظر ميں امريکہ اور اسرائيل کي جانب سے ايران پر حملے کا کس قدر امکان ہے کہا لبنان ميں اسرائيل کي شکست اور عراق اور افغانستان ميں امريکہ کي شکست کے پيش نظر اسکا امکان بہت کم ہے، دوسري طرف ايران روز بروز طاقتور ہوتا چلا جا رہا ہے اور خطے ميں اسکے طاقتور دوست موجود ہيں?

حزب اللہ لبنان کے سيکرٹري جنرل نے کہا کہ امريکہ اور اسرائيل اچھي طرح جانتے ہيں کہ ايران کے ساتھ کسي قسم کي جنگ ان کيلئے انتہائي مہنگي ثابت ہو سکتي ہے، جنگ کي دھمکياں صرف اور صرف ايک نفسياتي حربہ ہے جسکا مقصد ايران کے ساتھ مذاکرات ميں اپنے مطالبات منوانا ہے? انہوں نے اس سوال کے جواب ميں کہ آيا ايران خطے کيلئے ايک خطرہ ہے؟ کہا کہ ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد بعض ممالک کي جانب سے يہ منفي پروپيگنڈہ کيا گيا ليکن اس ميں کوئي حقيقت نہيں?

سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ کيونکہ ايران اسرائيل کيلئے ايک بڑا خطرہ تصور کيا جاتا ہے لہذا عالمي سطح پر ايران کے خلاف دشمني پيدا کرنے کي کوشش کي جا رہي ہے، يہ کوشش 1979 سے جاري ہے? گذشتہ کئي سالوں کے دوران جب بھي خطے ميں سروے انجام ديا گيا تو لوگوں نے امريکہ اور اسرائيل کو اپنا دشمن نمبر ون قرار ديا اور ايران کو اپنا دوست ظاہر کيا، يہ نتائج ظاہر کرتے ہيں کہ اسرائيل اپنے منصوبوں ميں بري طرح ناکامي کا شکار ہوا ہے، انہوں نے اس منصوبے پر بہت زيادہ اخراجات کئے ہيں ليکن انہيں اس ميں ناکامي کا سامنا کرنا پڑا ہے?

خطے ميں جنم لينے والي تحريکيں اسلامي بيداري کي تحريکيں ہيں:

حزب اللہ لبنان کے سيکرٹري جنرل نے کہا کہ خطے ميں پيدا ہونے والي عوامي تحريکيں ايک ناقابل انکار حقيقت ہيں جنہوں نے ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي کو اپنا رول ماڈل بنا رکھا ہے، ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد خطے ميں سياسي تبديلياں رونما ہونا شروع ہو گئيں جو بعد ميں فسلطيني انتفاضہ، 33 روزہ جنگ، 22 روزہ جنگ اور عراق ميں عوامي مزاحمت کے نتيجے ميں امريکہ کي شکست کي صورت ميں ظاہر ہوئيں? سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر قائد انقلاب اسلامي ايران آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي ان تحريکوں کو اسلامي بيداري کا نام ديتے ہيں تو يہ بالکل صحيح اقدام ہے? انہوں نے کہا کہ امريکہ اور اسکے پٹھو ان تحريکوں کو اغوا کرنا چاہتے ہيں اور انکي ان کوششوں کو ليبيا، تيونس اور مصر ميں آساني سے ديکھا جا سکتا ہے?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬