30 June 2012 - 20:21
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4292
فونت
پاکستان کي مختلف شخصيتيں :
رسا نيوزايجنسي - پاکستان کي مختلف نامورشخصيتوں نے سانحہ ہزارگنجي کي شديد مذمت کرتے ہوئے تاکيد کي : دہشتگرد امريکي اسلام کي ترويج اور مسلکي تفرقہ کا فروغ چاھتے ہيں ?
پاکستان

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، حجت الاسلام ناصر عباس جعفري نے کوئٹہ کے قريب رونما ہونے والے سانحہ ہزار گنجي کي شديد مذمت کرتے ہوئے تين روزہ سوگ کا اعلان کيا اور کہا : بلوچستان امريکہ نواز دہشتگردوں کي آماجگاہ بن چکا ہے ?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ سفاک دہشتگرد گروہ نہ تو اسلام کے حامي ہيں اور نہ ہي پاکستان کے دوست ہيں کہا : ان کا مقصد صرف امريکي اسلام کي ترويج اور مسلمانوں کے درميان تفرقہ کو فروغ دينا ہے?

پاکستان کي اس نامور شخصيت نے اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ چھ ماہ ميں کوئٹہ ميں سو سے زائد شيعوں کو دہشتگردي کا نشانہ بنايا جاچکا ہے کہا : کيا حکومت کي نگاہ ميں يہ پاکستاني شہري نہيں تھے؟ کيا پاکستان کے آئين کا اطلاق ان معصوم اور بے گناہ شہيد کيے جانے والوں پر نہيں ہوتا؟

قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے ہزار گنجي کے قريب زائرين کي بس کو دھشت گردانہ حملہ کا نشانہ بنائے جانے پرشديد ردعمل اظھار کرتے ہوئے تين روزہ سوگ کا اعلان کيا اور کہا : يہ افسوسناک واقعہ دہشت گردي ، ٹارگٹ کلنگ ، لاقانونيت اور ظلم و بربريت کے گذشتہ واقعات کا تسلسل ہے جو ايک مدت سے جاري ہيں اور ان ميں سينکڑوں معصوم اور بے گناہ انسان لقمہ اجل بن چکے ہيں مگر نہ تو ان سانحات کے مرتکب دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کيا جاسکا اور نہ ہي پس پردہ حقائق کو منظر عام پر لاکر عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کيا گيا?

انہوں نے مزيد کہا : يہ تشويشناک صورت حال ملک کو لمحہ بہ لمحہ تباہي و بربادي کي جانب ڈھکيل رہي ہے اور حکومت و رياست کے وجود کے بجائے عملاً ملک پر دہشت گردوں اور قاتلوں کي حکمراني نظر آتي ہے ?

حجت الاسلام سيد ہاشم موسوي نے زائرين کي بس پر ہونے والے خودکش حملے کي شديد الفاظ ميں مذمت کرتے ہوئے اظھار افسوس کيا اور کہا : زائرين پر انسانيت سوزحملہ، اسلام اورانسانيت دشمن امريکہ و عالمي سامراجيت ايجنڈا ہے?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ شيطان صفت دہشتگرد ، ملک دشمن عناصر کے آلہ کار ہيں ، جن کا مذموم مقصد اسلام اور مسلمانوں کو کمزور بنانا ہے کہا : عرصہ دراز سے پورا پاکستان خصوصاً کوئٹہ مسلسل دہشتگردي کا شکار ہے تاہم حکومت، خفيہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ، دہشتگردوں کے بارے ميں مکمل معلومات ہونے کے باوجود ان کے خلاف کارروائي سے گريزاں ہيں?

مجلس وحدت مسلمين قم کے جنرل سکريٹري حجت الاسلام سيد تقي شيرازي نے کوئٹہ ميں زائرين کي بس پر ہونے والےحملہ کي مذمت کرتے ہوئے اسے امريکي درندوں کا کارنامہ جانا ?

جے ايس او پاکستان کے مرکزي صدرسيد حسنين حيدر جعفري نے بھي کوئٹہ کے اس دلخراش سانحہ کي شديد مذمّت کرتے ہوئے لواحقين سے تعزيت کا اظھار کيا اور کہا : کوئٹہ کي صورتحال بدترين ہوچکي ہے آئے دن بے گناہ مسلمان دہشت گردوں کے حملوں کي زد ميں آرہے ہيں ? آئے دن زائرين کي بسوں کو ٹارگٹ بنايا جارہا ہے? کبھي زائرين کو بس سے اتار کر گوليوں سے بھون ديا جاتا ہے اور کبھي بم دھماکے کرکے انہيں موت کي نيند سلاديا جاتا ہے?

انہوں نے پاکستاني انتظاميہ اور عدليہ کو تنقيد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا : جوحکومت ہماري جان ومال کي حفاظت نہيں کرسکتي وہ آئين کي کھلم کھلا خلاف ورزي کرتي ہے? ہمارا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ آئين کي پاسداري کرے اور ہميں انصاف فراہم کرے ?

شيعہ علماء کونسل بلوچستان نے بھي اس سانحه پر شديد رد عمل کا اظھار کرتے ہوئے اسے کھلي دھشت گردي جانا اور لواحقين سے دلي تعزيت وہمدردي کرتے ہوئے زخميوں کي جلدشفايابي کي دعاکي ہے?

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجي ميں زائرين کي بس پر راکٹ حملے ميں پوليس اہلکاروں سميت 11 زائرين شہيد اور 30 سے زائد زخمي ہوگئے?

دھماکے کے وقت مسافر بس ميں 40 سے 50 افراد موجود تھے? حملے ميں جاں بحق اور زخمي ہونے والوں کو اسپتال منتقل کيا جارہا ہے اور ديگر سکيورٹي اداروں نے علاقے کو گھيرے ميں لے ليا ہے?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬