
دہلی کی تاریخی فتح پوری مسجد کے شاہی امام مفتی محمد مکرم احمد نقشبندی مجددی نے رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے گفت و گو میں روز گذشته صوبہ سیستان و بلوچستان میں ہوئے ٹرورسٹی حادثہ ، جس میں علماء اور عوام کے ساتھ ساتھ شیعه و سنی قبائل کے سردار اور اسلامی انقلاب ایران کے سپاہ و پاسداران کے فرناندار بھی مارے گئے ہیں انہوں نے اس عمل کو شدت کے ساتھ محکوم کیا اور کہا : وہ طاقتیں جو نہی چاہتے ہیں کہ مسلمان آپس میں متحد رہیں اور ساتھ ساتھ فکر تقریب مذاھب کی مخالفت کرتے ہیں وہ لوگ اس طرح کے برے حادثہ کو انجام دیتے ہیں ۔
انہوں نے کہا : اس طرح کا افراطی تکفیری گروہ اپنے عمل سے شیعه و سنی کے درمیان اختلاف کا باعث ہوتے ہیں مسلمانوں کو اس طرح کے انحرافی فکر سے ہوشیار رہنا چاہیئے ۔
اھل سنت کے اس نمایا عالم نے اظھار خیال کیا : یہ افراطی گروہ مختلف عنوان سے اپنے کام کو انجام دیتے ہیں ، بعض ملک میں طالبان کے نام سے تو کسی جگہ جند اللہ کے نام سے تو کسی علاقہ میں سیف الاسلام ، یہ تمام کے تمام ایک ہی فکر کی پیروی کرنے والے ہیں ۔
انہوں نے اس گروہ کے مسلمان ہونے پر شک کرتے ہوئے کہا : جب قرآن مجید اور سنت نبی اکرم میں واضح طور سے تاکید کیا گیا ہے کہ مسلمان بھائیوں اور بے گناہوں کو قتل کرنا حرام ہے کس طرح سے اس ظاھر مسلمانوں کا عمل جس نے اپنے بھائیوں کو قتل کر دیا صحیح سمجھا جائے بلکہ ان کے ایمان اور دین میں شک کیا جائے ۔
مفتی مکرم نے وضاحت کی : اس گروہ کا عمل باطل محض ہے اور خدا کے مدد سے باطل نابود ہونے والا ہے اور حق ھر جگہ مسلط اور کامیاب ہو گا ۔
انہوں نے کہا : حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح کے وحشیانہ عمل کی مخالفت کی ہے اور اس طرح کے جارھانہ اور ظالمانہ اقدام سے کبھی خوش نہی ہو سکتے ، یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ تکفیری گروہ نبوی سنت کے مخالف کام انجام دے رہے ہیں ۔