20 October 2009 - 15:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441
فونت
اپ کا اسم مبارک فاطمہ اوراپ کا مشہور لقب معصومہ ہے. اپ ساتویں امام حضرت موسی بن جعفر (ع) بیٹی اور اپ کی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں اوراٹھویں امام اپ کے بھائی ہیں ، حضرت معصومہ (س) اور حضرت امام رضا (ع) ایک دونوں ایک ہی ماں سے ہیں.
 معصومہ


آپ کی ولادت با سعادت اول ذیقعدہ سال ۱۲۳ھجری قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

آپ اپنے بچپنے ہی میں اپنے شفیق باپ کی شفقت سے محروم ہوگئیں ۔ آپ کے والد کی شہادت، ہارون کے قید خانہٴ بغداد میں ہوئی ۔

باپ کی شہادت کے بعد آپ اپنے عزیز بھائی حضرت علی بن موسی الرضا (ع) کی زیر سایہ پروان چڑھیں ۔

200 ہجری میں مامون عباسی کے بے حداصرار اوردھمکیوں کی بناء پر سے امام (ع) سفر کرنے پر مجبور ہوئے امام (ع) نے خراسان کے اس سفر میں اپنے عزیزوں میں سے کسی ایک کو بھی اپنے ہمراہ نہ لیا ۔

امام کی ہجرت کے ایک سال بعد بھائی کے دیدار کے شوق اور رسالت زینبی اور پیام ولایت کی ادائیگی کے لئے آپ (س) نے بھی وطن کو الوداع کہااور اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ خراسان کی جانب روانہ ہوئیں۔

ہر شہر اور ہرمحلے میں آپ کا والہانہ استقبال ہورہاتھا،یہی وہ وقت تھا کہ جب آپ اپنی پھوپھی حضرت زینب (س) کی سیرت پرعمل کرکے مظلومیت کے پیغام اور اپنے بھائی کی غربت مومنین اور مسلمانوں تک پہنچارہی تھیں اور اپنی و اہلبیت کی مخالفت کا اظہار بنی عباس کی فریبی حکومت سے کررہی تھیں ،
یہی وجہ تھی کہ جب آپ کا قافلہ شہر ساوہ پہنچاتو کچھ دشمنان اہلبیت (ع) جن کے سروں پر حکومت کا ہاتھ تھا راستے میں حائل ہوگئے اور حضرت معصومہ (س) کے کاروان سے ان بد کرداروں نے جنگ شروع کردی ۔نتیجتاً کاروان کے تمام مردوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔یہاں تک کہ ایک روایت کے مطابق حضرت معصومہ (س) کو بھی زہر دیا گیا ۔

بہر کیف حضرت معصومہ (س) اس عظیم غم کے اثر سے یا زہر جفا کی وجہ سے بیمار ہوگئیں اب حالت یہ تھی کہ خراسان کے سفرکو جاری و ساری رکھنا ناممکن ہوگیالہٰذا شہر ساوہ سے شہر قم کا قصد کیااور آپ نے پوچھا اس شہر (ساوہ)سے شہر قم کتنا فاصلہ ہے ۔اس دوری کو لوگوں نے آپ کو بتایا تو اس وقت آپ نے فرمایا :مجھے قم لے چلو اس لئے کہ میں نے اپنے والد محترم سے سنا ہے کہ انھوں نے فرمایا :شہر قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے ۔

اس مسرت بخش خبر سے مطلع ہوتے ہی بزرگان قم کے در میان ایک خوشی کی لہر ،سی دوڑ گئی اور وہ سب کے سب آپ کے استقبال میں دوڑپڑے۔موسی بن خزرج جو کہ اشعری خاندان کے بزرگ تھے انھوں نے آپ کی مہار ناقہ کو آگے بڑھ کر تھام لیا ۔اور بہت سے لوگ جو سوارہ اور پیادہ تھے پروانوں کی طرح اس کاروان کے ارد گرد چلنے لگے .

۲۳ربیع الاول سال ۲۰۱ ہجری وہ عظیم الشان تاریخ تھی جب آپ کے مقدس قدم قم کی سرزمین پر آئے ۔پھر اس محلّے میں جسے آج کل میدان میر کے نام سے یاد کیاجاتاہے حضرت کی سواری موسی بن خزرج کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی نتیجتاً آپ کی میزبانی کا عظیم شرف موسی بن خزرج کو مل گیا۔

اس عظیم ہستی نے صرف سترہ(۱۷)دن اس شہر میں زندگی گزاری اور ان ایام میں آپ اپنے خدا سے راز ونیاز کی باتیں کرتیں اور اس کی عبادت میں مشغول رہیں ۔

معصومہ (س) کی جائے عبادت اور قیامگاہ مدرسہ ستیہ جو آج کل ”بیت النور “کے نام سے مشہور ہے جو ،اب حضرت (س) کے عقیدتمندوں کی زیارتگاہ بنی ہوئی ہے ۔

آخر کار روز دہم ربیع الثانی اور ایک قول کے مطابق(دوازدہم ربیع الثانی) ۲۰۱ ھ قبل اس کے آپ کی چشم مبارک برادر عزیز کے چہرہ منور کی زیارت کرتی ،غریب الوطنی میں بہت زیادہ غم اندوہ دیکھنے کے بعد بند ہوگئیں۔

قم کی سر زمین آپ کے غم میں ماتم کدہ بن گئی ۔قم کے لوگوں نے کافی عزت واحترام کے ساتھ آپ کی تشییع جنازہ باغ بابلان جو کہ اس وقت شہر سے باہر تھاوہاںآپ کی قبر اطہر آمادہ کی گئی ۔اب جو سب سے بڑی مشکل اہل قم کے لئے تھی وہ یہ کہ ایسا کون باکمال شخص ہوسکتاہے جوآپ کے جسم اطہر کو سپرد لحد کرے.

 ابھی اہل قم اس مشکل کاحل سوچ ہی رہے تھے کہ ناگاہ دوسوار جو نقاب پوش تھے قبلہ کی جانب سے نظر آنے لگے اور بہت بڑی سرعت کے ساتھ وہ مجمع کے قریب آئے نماز پڑھنے کے بعد ان میں سے ایک بزرگوار قبر میں اترے اور دوسرے بزرگوار نے جسم اطہر کو اٹھایا اور اس قبر میں اترے ہوئے بزرگوار کے حوالے کیا تا کہ اس نورانی پیکر کو سپرد خاک کریں۔

یہ دو شخصیتیں جو ابھی کچھ دیر پہلے آئیں تھیں انھوں نے تمام مراسم بنحوِ احسن انجام دے کراور کسی سے کچھ کہے بغیر واپس روانہ ہوگئیں۔ یہ دو شخصیتیں حجت پروردگار تھیں یعنی امام رضا (ع) اور حضرت امام جواد (ع) تھے کیونکہ معصومہ (س) کی تجہیز وتکفین ایک معصوم ہی انجام دیتاہے، تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں مثلاً حضرت زہرا (س) کے جسم اطہرکی تجہیز وتدفین حضرت علی (ع) کے ہاتھوں انجام پائی، اسی طرح حضرت مریم سلام اللہ علیہاکو حضرت عیسیٰ (ع) نے بنفس نفیس غسل دیا۔

حضرت معصومہ (س) کے جسم اطہر کی تدفین کے بعد موسی بن خزرج نے ایک حصیری سائبان آپ کی قبر اطہر پر ڈال دیا۔اس کے بعد حضرت زینب جو امام جواد (ع) کی اولاد میں سے تھیں انھوں نے ۲۵۶ھ میں پہلا گنبد اپنی عظیم پھوپھی کی قبر اطہر کے لئے تعمیر کروایا ۔

اسی علامت کی وجہ سے اس عظیم خاتون کی تربت پاک محبان اہلبیت (ع) کے لئے قبلہ ہوگئی جہاں نماز مودت ادا کرنے کے لئے محبان اہلبیت (ع) جوق در جوق آنے لگے ۔ عاشقان ولایت وامامت کے لئے یہ بارگاہ دار الشفاء ہوگئی جس میں مضطرب دلوں کو سکون ملنے لگا ۔ مشکل کشاء کی بیٹی ،لوگوں کی بڑی بڑی مشکلوں کی مشکل کشائی کرتی رہیں اور نا امیدوں کے لئے مرکز امید بن گئیں ۔

حضرت معصومہ (س) ائمہ معصومین (ع) کی نظر میں

  روی عن القاضی نور اللہ عن الصادق علیہ السلام : ان اللہ حرما و ہو مکہ الا ان رسول اللہ حرما و ہو المدینۃ اٴلا و ان لامیر الموٴمنین علیہ السلام حرما و ہو الکوفہ الا و ان قم الکوفۃ الصغیرۃ اٴلا ان للجنۃ ثمانیہ ابواب ثلاثہ منہا الی قم تقبض فیہا امراٴۃ من ولدی اسمہا فاطمۃ بنت موسی علیہا السلام و تدخل بشفاعتہا شیعتی الجنۃ باجمعہم ۔
امام صادق (ع) سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا:خداوند عالم حرم رکھتاہے اور اس کا حرم مکہ ہے پیغمبر (ص) حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم مدینہ ہے ،امیر المومنین (ع) حرم رکھتے ہیں اور ان کا حرم کوفہ ہے، قم  ایک کوفہ صغیر ہےجنت کے آٹھ دروازوں  میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ،پھر امام (ع) نے فرمایا :میری اولاد میں سے ایک عورت جس کی شہادت قم میں ہوگی اور اس کا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔۔ (بحار ج/۶۰، ص/۲۸۸ )

•  عن سعد عن الرضا علیہ السلام قال : یا سعد من زارہا فلہ الجنۃ ۔

•  ثواب الاٴعمال و عیون اخبار الرضا علیہ السلام : عن سعد بن سعد قال : ساٴلت ابا الحسن الرضا علیہ السلام عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر علیہ السلام فقال : من زارہا فلہ الجنۃ

سعد امام رضا (ع) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اے سعد جس نے حضرت معصومہ (س) کی زیارت کی اس پر جنت واجب ہے ۔

” ثواب الاعمال “ اور ” عیون الرضا “ میں سعد بن سعد سے نقل ہے کہ میں نے امام رضا (ع) سے معصومہ (س) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا حضرت معصومہ (س) کی زیارت کا صلہ بہشت ہے ۔ (کامل الزیارات،ص/۳۲۴)

•  کامل الزیارۃ : عن ابن الرضا علیہما السلام قال: من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنۃ

امام جواد (ع) فرماتے ہیں کہ جس نے میری پھوپھی کی زیارت قم میں کی اس کے لئے جنت ہے ۔ (کامل الزیارات،ص/۳۲۴)

•  قال الصادق علیہ السلام من زارہا عارفا بحقہا فلہ الجنۃ

امام صادق (ع) فر ماتے ہیں کہ جس نے معصومہ (س) کی زیارت اس کی شان ومنزلت سے آگاہی رکھنے کے بعد کی وہ جنت میں جا ئے گا ۔(بحار ج/۴۸،ص/۳۰۷)

•  اٴلا ان حرمی و حرم ولدی بعدی قم

امام صادق (ع) فر ماتے ہیں آگاہ ہوجاوٴ میرا اور میرے بیٹوں کا حرم میرے بعد قم ہے ۔ ( بحار الانوار ج/۶۰، ص/۲۱۶ )

حضرت معصومہ (س) کی منزلت :

اب یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ معصومہ (س) کو معصومہ کا لقب کس نے دیا؟

معصومہ کا لقب حضرت امام رضا (ع) نے اپنی بہن کو عطا کیا آپ اس طرح فرماتے ہیں:
•  ” من زار المعصومۃ بقم کمن زارنی “ جس نے معصومہ (س) کی زیارت قم میں کی وہ اس طرح ہے کہ اس نے میری زیارت کی ۔ (ناسخ التواریخ ، ج/۳ ، ص/۶۸ )

اب جب کہ یہ لقب امام معصوم (ع) نے آپ کو عطا فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ان کی ہم رتبہ ہیں ۔
امام رضا (ع) نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ وہ شخص جومیری زیارت پر نہیں آسکتا وہ میرے بھائی کی زیارت شہر ری میںاور میری بہن کی زیارت قم میں کرے تووہ میری زیارت کا ثواب حاصل کرلے گا ۔ ( زیدۃ التصانیف ، ج/۶، ص/۱۵۹ )

دوسرا لقب جو حضرت معصومہ (س) کا ہے وہ ہے کریمہ اہل بیت ،یہ لقب بھی ایک عظیم المرتبت عالم دین کے خواب کے ذریعے امام معصوم (ع) کی زبان اقدس سے معلوم ہوا۔

خواب کی تفصیل اس طرح ہے کہ مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی جو کہ آیۃ اللہ سید شھاب الدین مرعشی کے والد بزرگوار تھے ، اس عظیم ہستی کی دلی خواہش تھی کہ حضرت صدیقہ طاہرہ (س) کی قبر اطہر کاصحیح پتہ مل جائے آپ اس عظیم امر کی خاطر بہت پریشان رہاکرتے تھے ۔

لہٰذا آپ نے ایک عمل شروع کردیا اور چالیس روز تک ختم قرآن کاعمل کرتے رہے،یہاں تک کہ وہ دن بھی آگیا کہ مرحوم نے اپنے اس چالیس روزہ عمل کا اختتام کیا،آپ کافی تھک چکے تھے لہٰذا آپ نیند کی آغوش میں چلے گئے اور کافی دیر تک آپ آرام فرماتے رہے دوران استراحت آپ کی زندگی کی وہ مبارک گھڑی بھی آپہنچی جس کا انتظار ہر شیعیان علی (ع) کو رہتاہے یعنی خواب کے عالم میں امام باقر (ع) یا امام صادق (ع) تشریف لے آئے اور آپ ان کی زیارت سے مشرف ہوئے اس وقت امام (ع) نے فرمایا:
” علیک بکریمۃ اہل البیت “کریمہٴ اہل بیت (ع) کے دامن سے متمسک ہوجاوٴ۔

مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی (رح) نے سمجھا کہ منظور امام (ع) حضرت زہرا (س) ہیں مرحوم سنے عرض کیا میں آپ پر فدا ہوجاوٴں اے میرے آقا میں نے یہ ختم قرآن کا عمل اسی وجہ سے کیا ہے کہ حضرت زہرا (س) کی قبر کا دقیق پتہ معلوم ہوجائے تا کہ بہتر طریقے سے ان کی قبر اطہرکی زیارت کرسکوں ۔

اس وقت امام (ع) نے فر مایامیری مراد حضرت معصومہ (س) کی قبر شریف ہے جو کہ قم میں ہے ۔ پھر امام (ع) نے فرمایا:خدانے کسی مصلحت کی بنیاد پر جناب زہرا (س) کی قبرشریف کو مخفی رکھا ہے اور اسی وجہ سے حضرت معصومہ (س)کی قبر اطہر کو تجلی گاہ قبر حضرت زہرا (س) قرار دیاہے۔

اگرحضرت زہرا (س) کی قبر مبارک ظاہر ہوتی تو اس پر جس قدر نورانیت وجلالت دیکھنے کو ملتی اتنی ہی نورانیت وجلالت خداوند کریم نے حضرت معصومہ (س) کی قبر شریف کو عطا کی ہے۔

مرحوم مرعشی نجفی جیسے ہی خواب سے بیدار ہوئے آپ نے مصمم ارادہ کرلیا کہ جلد از جلد بارگاہ معصومہ (س) میں حاضری دیںگے اپنے اس ارادہ کی تکمیل کی خاطر آپ نے سامان سفر باندھا اور زیارت حضرت معصومہ (س) کی خاطر نجف اشرف کو ترک کردیا ۔

کرامات حضرت معصومہ (س):

مفلوج کو شفا:

حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمود علمی اراکی نقل فرماتے ہیں کہ میں نے خود بارہا ایک شخص کو دیکھا ہے کہہ جو پیر سے عاجز تھا وہ اپنے پیروںکو جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتاتھا۔اپنے بدن کے نچلے حصے کو زمین پر خط دیتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں کے سہارے چلتاتھا۔ایک دن میں نے اس کا حال دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ رو س کے ایک شہر قفقاز کا باشندہ ہے۔

اس نے بتایا کہ میرے پیر کی رگیں خشک ہوچکی ہیں لہٰذا میں چلنے سے معذور ہوں مشہد امام رضا (ع) سے شفا لینے گیا تھا لیکن شفاءسے محروم رہا۔

اب یہاں قم آیاہوں اگر خدانے چاہا تو شفا مل جائے گی۔شیخ محمود بیان کرتے ہیں کہ ایک رات کو یکایک حرم کے نقار خانے نقارہ بجنے کی آواز آئی ۔لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے بی بی نے مفلوج کو شفا دی ۔اس واقع کے چند دنوں بعد میں چند افراد کے ساتھ گاڑی (دیکہ)میں اراک کی طرف جارہاتھا۔راستے میں اراک سے چھ فرسخ کے فاصلے پر اسی مفلوج شخص کو دیکھا کہ اپنے صحیح وسالم پیر سے کربلا کی طرف عازم سفر ہے ہم نے اپنا یکہ روکا اور اس کواپنی سواری پہ سوار کرلیا پھر معلوم ہوا کہ اس دن جسے شفا ملی تھی وہ یہی مفلوج تھا وہ شخص اراک تک ہم لوگوں کے ہمراہ تھا۔


گونگی لڑکی گویا ہوئی :

حجۃالاسلام والمسلمین جناب آقائے امامی کچھ اس طرح تحریر فرماتے ہیں ۔

۱۰ رجب المرجب ۱۳۵۸ھ بروز پنجشنبہ ” آب روشن ستارہ “ کے رہنے والی ایک ۱۳ سالہ لڑکی اپنے والدین کے ہمراہ قم آئی ۔وہ لڑکی ایک مرض کی وجہ سے گونگی ہوگئی تھی ۔ ڈاکٹروں کو دکھانے کے با وجود بھی اس کا معالجہ نہ ہوسکا۔جب ڈاکٹر مایوس ہوگے تو وہ لوگ حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے حرم میں پناہ گزیں ہوئے۔ دو رات وہ لڑکی ضریح کے پاس بیٹھی رہی۔ کبھی زبان بے زبانی سے مشغول راز ونیاز تھی تو کبھی اشک بہاتی تھی کہ یک بارگی حرم کے سارے چراغ خاموش ہوگئے ۔

اسی وقت وہ لڑکی حضرت کے بے کراں عنایتوں کے سائے میں آگئی اور ایک عجیب انداز میں چیخ اٹھی جسے وہاں خدام اور زائرین نے سنا۔چیخ سنتے ہی مجمع ٹوٹ پڑاتا کہ اس کے کپڑے کے کچھ حصے بعنوان تبرک لے لےں۔ لیکن فوراً ہی خدام نے اس لڑکی کوایک حجرہ میں منتقل کردیا (جسے کشیک خانہ کہتے ہیں ) یہاں تکہ کہ مجمع کم ہوگیا لڑکی نے کہا :جس وقت چراغ حرم گل ہوا اسی وقت ایک ایسی روشنی اور نور دیکھا کہ پوری زندگی میں ویسا نور نہیں دیکھا تھا پھر حضرت معصومہ (س) کو دیکھا کہ فرمارہی ہیں :تم ٹھیک ہوگئی ہو اب بول سکتی ہو میں چیخنے لگی تو دیکھا کہ میں واقعاً بول سکتی ہوں .

مرد نصرانی کو شفا :

محدث نوری نے نقل فرمایا ہے : کہ بغداد میں ایک نصرانی بنام یعقوب مرض چکے تھے وہ اس درجہ نحیف و لاغر ہوچکا تھا کہ چلنے پھر نے سے بھی معذور تھا وہ کہتا ہے :

خدا سے میں نے بارہا موت کی تمنا کی یہاں تک کہ ۱۲۸۰ ھ میں عالم خواب میں ایک جلیل القدر نورانی سید کو دیکھا کہ میرے تخت کے پاس کھڑے ہیں اور مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ اگر شفا چاہتے ہو تو کاظمین کی زیارت کے لئے آوٴ جب میں خواب سے بیدار ہوا تو اپنی ماں سے خواب کو نقل کیا ، چونکہ میری ماں نصرانی تھی اس لئے کہنے لگی یہ شیطانی خواب ہے ۔

دوسری مرتبہ جب میں سویا تو ایک خاتون کو خواب میں دیکھا جو چادر میں ڈھکی تھیں مجھ سے کہنے لگیں : اٹھو ! صبح ہوگئی ہے ۔ کیا میرے باپ نے تم سے شرط نہ کی تھی کہ ان کی زیارت کرو گے تو وہ تم کو شفا یاب کریں گے ؟ میں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ تو فرمایا : میں معصومہ امام رضا علیہ السلام کی بہن ہوں ۔

پھر میں نے پوچھا آپ کے بابا کون ہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا : موسیٰ بن جعفر ( اسی اثناء میں ) میں خواب سے بیدار ہوگیا ...... متحیر تھا کہ کہاں جاوٴں ذہن میں آیا کہ سید راضی بغدادی کے پاس جاوٴں ۔ اسی عزم کے تحت میں بغداد گیا اور جب ان کے گھر کے دروازے پر پہنچا تو دق الباب کیا ۔

آواز آئی : کون ؟ میں نے کہا دروازہ کھولو ! جیسے ہی سید نے میری آواز سنی اپنی بیٹی سے کہا : دروازہ کھولو ایک نصرانی مسلمان ہونے کے لئے آیا ہے ۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو ان سے پوچھا : آپ کو کیسے معلوم ہوگیا کہ میں اس قصد سے آیا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا : خواب میں میرے جد نے مجھے سارے قضیہ سے آگاہ کردیا ہے ۔ پھر وہ مجھے کاظمین شیخ عبد الحسین تہرانی کے پاس لے گئے تو میں نے اپنی ساری داستان ان سے کہہ سنائی ۔

داستان سننے کے بعد انھوں نے حکم صادر فرمایا اور لوگ مجھے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حرم مطہر میں لے گئے اور مجھے ضریح کا طواف کرا یا لیکن کوئی عنایت نہ ہوئی میں حرم سے باہر نکلا ، پیاس کا غلبہ ہوا پانی پیا ، پانی پیتے ہی میری حالت متغیر ہوگئی ۔

میں زمین پر گر گیا گویا میری پیٹھ پر ایک پہاڑ تھا جس کی سنگینی سے مجھے نجات ملی ، میرے بدن کا ورم ختم ہوگیا ، میرے چھرے کی زردی سرخی میں تبدیل ہوگئی اور اس کے بعد اس مرض کا نام و نشان تک مٹ گیا ۔ شیخ بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ہاتھوں مسلمان ہو گیا ۔


  

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬