15 September 2012 - 16:00
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4435
فونت
سيد اشھد حسين نقوي:
رسا نيوزايجنسي -گناہان کبيرہ ميں سے ايک گناہ جوانسان کي انفرادي اور اجتماعي زندگي ميں بہت زيادہ نقصان دہ ثابت ہوتي ہے وہ تہمت ہے اگر کوئي شخص کسي دوسرے شخص پر تہمت لگاتا ہے تو وہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ خود اپنے کو بھي نقصان پہنچاتا ہے اور اپني روح کو گناہوں سے آلودہ کرتا ہے?

اب سوال يہ ہوتاہے کہ آخر تہمت ہے کيا ؟ تہمت کے معني يہ ہيں کہ انسان کسي کي طرف ايسے عيب کي نسبت دے جو اس کے اندر نہ پائے جاتے ہوں ? تہمت گناہان کبيرہ ميں سے ايک ہے اور قرآن کريم نے اس کي شديد مذمت کرتے ہوئےاس کے لئے سخت عذاب کا ذکر کيا ہے?

فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام اس سلسلے ميں فرماتے ہيں: بے گناہ پر تہمت لگانا عظيم پہاڑوں سے بھي زيادہ سنگين ہے ? 1

درحقيقت تہمت و بہتان، جھوٹ کي بدترين قسموں ميں سے ہے اور اگر يہي بہتان، انسان کي عدم موجودگي ميں اس پر لگايا جا‏ئے تو وہ غيبت شمار ہوگي در حقيقت اس نے دو گناہيں انجام ديں ہيں?

ايک دن حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام کے ايک چاہنے والے آپ کے ساتھ کہيں جارہے تھےاور اس کے غلام اس سے آگے بڑھ گئے تھے اس نے اپنے غلاموں کو آواز دي ليکن غلاموں نے کوئي جواب نہ ديااس نے تين مرتبہ انہيں آواز دي ليکن ان کي جانب سے کوئي جواب نہ ملا تو يہ شخص غصے سے چراغ پا ہوگيا اور اپنے غلام کو گالياں ديں جودر حقيقت اس کي ماں پر تہمت تھي?

راوي کا بيان ہے کہ امام صادق عليہ السلام نے جب ان غير شائستہ الفاظ کو سنا تو بہت زيادہ ناراض ہوئے اور اسے ان غير مہذب الفاظ کي جانب متوجہ کرايا ليکن اس نے غلطي کا اعتراف کرنے کے بجائے توجيہيں کرنا شروع کرديں جب امام عليہ السلام نے ديکھا کہ وہ اپني غلطي وگناہ پرنادم نہيں ہے توآپ نے اس سے کہاکہ تھجے اب اس بات کا حق نہيں کہ ميرے ساتھ رہے?

تہمت کے برے اثرات

تہمت معاشرے کي سلامتي کوجلد يا بديرنقصان پہنچاتي ہے اور اجتماعي عدالت کو ختم کرديتي ہے ، حق کو باطل اور باطل کو حق بناکر پيش کرتي ہے ، تہمت انسان کو بغير کسي جرم کے مجرم بناکر اس کي عزت و آبرو کو خاک ميں ملاديتي ہے ? اگر معاشرے ميں تہمت کا رواج عام ہوجائے اور عوام تہمت کو قبول کرليں اس پر يقين کرلے تو حق باطل کے لباس ميں اور باطل حق کے لباس ميں نظر آئے گا?

وہ معاشرہ ، جس ميں تہمت کا رواج عام ہوگا اس ميں حسن ظن کو سوء ظن کي نگاہ سے ديکھا جائے گا اورلوگوں کا ايک دوسرے سے اعتماد و بھروسہ اٹھ جائے گااور معاشرہ تباہي کے دہانے پر پہنچ جائے گا يعني پھر ہر شخص کے اندر يہ جرات پيدا ہوجائے گي کہ وہ جس کے خلاف ، جو بھي چاہے گازبان پر لائے گااوراس پر جھوٹ ، بہتان اور الزام لگا دے گا?

جس معاشرے ميں تہمت و بہتان کا بہت زيادہ رواج ہوگا اس ميں دوستي و محبت کے بجائے کينہ و عداوت زيادہ پائي جائے گي اور عوام ميں اتحاد اور ميل و محبت کم اور لوگ ايک دوسرے سے الگ زندگي بسر کريں گے?کيونکہ ان کے پاس ہر صرح اي دولت ہونے کےباوجود محبت جيسي نعمت سے محروم ہوں گے اور ہر انسان اس خوف و ہراس ميں مبتلا ہوگا کہ اچانک اس پر بھي کوئي الزام عائد نہ ہوجائے?

تہمت کے بے شمار فردي اور اجتماعي برے اثرات موجود ہيں حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں: جب بھي کوئي مومن کسي دوسرے پر الزام يا تہمت لگاتا ہے تو اس کے دل سے ايمان کي دولت بالکل اسي طرح ختم ہوجاتي ہے جس طرح نمک پاني ميں گھل کراپني اصليت کھو ديتا ہے ? 2

تہمت لگانے والے شخص کے دل سے ايمان کے رخصت ہونے کي وجہ يہ ہےکہ ايمان ہميشہ سچائي کے ساتھ رہتا ہے اورحقيقت يہ کہ تہمت دوسروں پر جھوٹا الزام عائد کرتي ہے لہذا اگر کوئي شخص دوسروں پر بہتان اور تہمت لگانے کا عادي بن جائے گا تو صداقت وحقيقت سے اس کا کوئي واسطہ نہ ہوگا اور اس طرح دھيرے دھيرے دوسروں پرتہمت و بہتان لگانے والے کا ايمان ختم ہوجائے گا اور اس کے قلب ميں ذرہ برابربھي ايمان باقي نہيں رہےگا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا?

تہمت کے سلسلے ميں پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں:

اگر کوئي شخص کسي مومن مرد يا وعورت پر بہتان لگائے يا کسي کے بارے ميں کوئي بات کہے جو اس کے اندر نہ ہو تو پرودگار عالم اسے آگ کے بھڑکتے شعلوں ميں ڈال دے گا تاکہ جو کچھ بھي کہا ہے اس کا اقرار کرلے? 3

تہمت کي دوقسميں ہيں ?کبھي کبھي تہمت لگانے والا جان بوجھ کر کسي پرگناہ يا عيب کي غلط نسبت ديتا ہے يعني اسے معلوم ہے کہ اس کے اندر يہ عيب نہيں ہے يا اس سے يہ گناہ سرزد نہيں ہوا ہے ليکن اس کے باوجود اس کي طرف اس عيب کي نسبت ديتا ہے اور کبھي کبھي تو اس سے بدتر صورتحال پيدا ہوجاتي ہے يعني وہ خود ان گناہوں کامرتکب ہوتا ہے اور مشکلات اور اس کي سزا سے اپنے کو بچانے کے لئے اس عمل کي نسبت دوسروں کي طرف دے ديتا ہے جسے اصطلاح ميں "افتراء " کہتے ہيں?

ليکن کبھي کبھي تہمت لگانے والا جہالت اور وہم و گمان کي بناء پر کسي کي طرف غلط نسبت ديديتا ہے جسے اصطلاح ميں "بہتان " کہتے ہيں اور بہتان دوسروں سے سوء ظن رکھنے اور بدبين ہونے کي بناء پرہرتا ہے?اور يہي چيز سبب بنتي ہے کہ بعض لوگ ان کاموں کو جو دوسروں سے سرزد ہوتا ہے اسے برائي پر حمل کرتے ہيں جب کہ معاشرے ميں اکثر تہمتيں سوء ظن اور جہالت کي بنياد پر لگائيں جاتي ہيں اسي لئے خداوند عالم نے قرآن مجيد ميں فرمايا : ايمان والو، اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان ،گناہ کا درجہ رکھتے ہيں? 4

البتہ يہ بات بھي واضح وروشن ہے کہ ظن وگمان يا وہم و خيال کا ذہن ميں پيدا ہونا ايک غير اختياري امر ہے اور ثواب و عذاب اختياري عمل پر ديا جائے گا نہ کہ غير اختياري عمل پر ، اس بناء پر وہ آيتيں يا روايتيں جو انسان کو سوءظن رکھنے سے نہي کرتي ہيں ان کا مقصد يہ ہے کہ اپنے وہم و گمان پر اعتبار نہ کرے اور جہالت کي بنياد پر کوئي عمل انجام نہ دے کيونکہ بہت سے ايسے افراد جو علم و آگاہي کے بغير صرف وہم وگمان کي بنياد پر عمل کرتے ہيں وہ گناہ ومعصيت کے مرتکب ہوتے ہيں?

خداوند متعال نے قرآن مجيد ميں فرمايا: جس چيز کا تمہيں علم نہيں ہے اس کے پيچھے نہ جانا ? 5 اور ايک گروہ ، جس نے سوء ظن کي بناء پر عمل کيا تھا ان پر ملامت و سرزنش کرتے ہوئے فرمايا : " تم نے بد گماني سے کام ليااوراس کي بنياد پر عمل کيااور تم ہلاک ہوجانے والي قوم ہو " ?

کبھي کبھي سوءظن کے آثار ناقابل تلافي ہوتے ہيں جيسا کہ ماہرين نے تہمت کے بارے ميں اپني متعدد رپورٹوں ميں اشارہ کيا ہے کہ بہت سے افراد نے سوء ظن کي بناء پر اپني بيوي تک کو قتل کرديا ہے يہ ايسي حالت ميں ہے کہ اکثر اوقات ان لوگوں نےاپني بيوي سے سوء ظن رکھا اور تہمت لگائي اور صحيح قضاوت و فيصلہ نہيں کياجب کہ ان کےوہم و گمان کي کوئي حقيقت نہ تھي ?ايک سچے اور مومن شخص کے لئے ضروري ہے کہ وہ اپنے بھائي اوربہن سے سوء ظن نہ رکھے بلکہ اس کے عمل کو حسن ظن سےتعبير کرے مگر يہ کہ اس کے عمل يا سوء ظن پر کوئي مستحکم دليل ہو ?

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام اس سلسلے ميں فرماتے ہيں : انسان کے لئے ضروري ہے کہ اپنے ديني بھائي کي گفتگو و کردار کو بہترين طريقے سے توجيہ کرے مگر يہ کہ اس بات پر يقين ہو کہ واقعہ کي نوعيت کچھ اورہے اور توجيہ کے لئے کوئي راستہ نہ بچے? 6

محمد بن فيضل کہتے ہيں : کہ ميں نے امام موسي کاظم عليہ السلام سے کہا کہ : بعض موثق افراد نے مجھے خبر دي ہےکہ ميرے ايک ديني بھائي نے ميرے سلسلےميں کچھ باتيں کہي ہيں جو مجھے نا پسند ہيں جب ميں نے اس بارے ميں سوال کيا تو اس نے انکار کردياہے اور کہا کہ ميں نے ايسا کچھ بھي نہيں کہا ہے اب ميرا وظيفہ کيا ہے ؟
حضرت امام موسي کاظم عليہ السلام نےفرمايا : اگر پچاس عادل تمھارے پاس آکر گواہي ديں کہ فلاں شخص نے تمھارے بارے ميں يہ ناروا باتيں کي ہيں تو تمھيں چاہي? ان کي گواہي کو رد کردو اور اپنے ديني بھائي کي تصديق و تائيد کرو اور جو چيز اس کي عزت و آبرو کے لئے خطرناک ہو اسے لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرو?

آيئے اب ديکھتے ہيں کہ اگر کوئي شخص کسي پر تہمت لگائے تو اس کے مقابلے ميں ہمارا وظيفہ کيا ہے؟

قرآن مجيد نے سورہ حجرات کي چھٹي آيت ميں اس سوال کا جواب ديتے ہوئے فرمايا ہے " ايمان والو اگر کوئي فاسق کوئي خبر لے آئے تو اس کي تحقيق کرو، ايسا نہ ہوکہ کسي قوم تک ناواقفيت ميں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے"

پس قرآن کے نظريئے کے مطابق جب بھي ہم کسي کے بارے ميں کوئي خبر يا تہمت کے متعلق سنيں توسب سے پہلے ہمارا يہ وظيفہ ہونا چاہئيے کہ اس کے بارے ميں تحقيق کريں اور اس کے صحيح يا غلط ہونے سے باخبر ہوں بہر حال اس سلسلےميں عجلت اور فوري طور پر بغير کسي دليل و گواہ کے فيصلہ کرنے سے پرہيز کريں ?

اسلام نے ايک جانب توتہمت کو حرام قرار ديا ہے اور مومنين کو حکم ديا ہےکہ ايک دوسرے کے ساتھ سوء ظن سے پيش نہ آئيں اور معتبر دليل کے بغير کسي پر بھي الزام عائد نہ کريں?اور دوسري جانب انھيں حکم ديا ہے کہ اپنے کو بھي معرض تہمت ميں نہ ڈاليں اور ايسي گفتگو اور عمل سے پرہيز کريں جو سوء ظن کا سبب بنے?

حضرت علي عليہ السلام اس بارے ميں فرماتے ہيں : وہ شخص جو اپنے کو معرض تہمت ميں قرار ديتا ہے تو پھر وہ ايسے شخص پر لعنت و ملامت نہ کرے جو اس سے بدگماني رکھتاہو? 7

اسي وجہ سے روايتوں ميں بہت زيادہ تاکيد ہوئي ہے کہ مومنين کو چاہئيے کہ گناہگاروں اورفاسقوں کي ہمنشيني سے پرہيز کريں کيونکہ ان کےساتھ نشست و برخاست کي بناء پر عوام مومنين سے بدبين ہوجائيں گے اور پھر ان پر تہمت لگائيں گے?

اگر ہم اس نکتہ پربھرپور توجہ رکھے کہ دوسروں پر تہمت لگانے سے جہاں اس کو نقصان پہنچتاہے وہيں ہماري روح بھي آلودہ ہو جاتي ہےاور بے شمار معنوي نقصانات سے دوچار ہوتے ہيں تو ہم کبھي بھي اس گناہ کے انجام دينے پر راضي نہيں ہوں گے?

???????????????????????????

حوالے :

1 : سفين? البحار، ج 1
2 : اصول کافي ج 4 ، ص 66
3 : بحارالانوار ج 75 ، ص 194
4 : سورہ حجرات آيت 12
5 : سورہ اسراء آيت 36
6 : اصول کافي ج 2 ، ص 362
7 : امالي شيخ صدوق ص 304
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬