02 September 2012 - 18:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4517
فونت
نجف کے امام جمعہ :
رسا نيوزايجنسي - نجف اشرف کے امام جمعہ نے تہران ميں ہونے والے ناوابستہ تحريک کے سربراہي اجلاس کو اسرائيل اور اسلامي جمھوريہ ايران کے دشمنوں کي انکھوں ميں کھٹکتا کانٹا جانا ?
حجت الاسلام قبانچي

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، نجف اشرف کے امام جمعہ حجت الاسلام سيد صدرالدين قبانچي نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبہ ميں جو حسينيہ کبري ميں منعقد ہوا تہران ميں ہونے والے ناوابستہ تحريک کے سربراہي اجلاس کو اسرائيل اور اسلامي جمھوريہ ايران کے دشمنوں کي انکھوں ميں کھٹکتا کانٹا جانا اور کہا: اس اجلاس ميں شرکت کرنے والے ممالک، اسلامي جمھوريہ ايران ، رھبر معظم انقلاب اسلامي حضرت ايت اللہ خامنہ اي ، شيعوں اور اسلامي ممالک پر اس اجلاس کے انعقاد پر دورد بھيجتا ہوں ?

انہوں نے مزيد کہا: ناوابستہ تحريک کے سربراہوں ، ذمہ داروں اور ارکان کا يہ عظيم اجتماع سامراجي ممالک سے دوري کے لئے اھم پيغام کا حامل ہے ?

حجت الاسلام قبانچي نے بيان کيا: دنيا کي بڑي طاقتوں کے اقتدار کا خاتمہ اس اجلاس کا ديگر اساسي پيغام ہے ، قوميں ايک صدي سے بھي زيادہ سامراجي طاقتوں کے قدموں تلے کچلي جارہي ہيں اور اج ايک نيا اجتماع سامنے ايا جس نے قوموں کو اپنے اردگرد اکٹھا کرليا اور قوميں اسي زمانے کے انتظار ميں تھيں ?

نجف اشرف کے امام جمعہ نے اس اجلاس کي عظمت وشوکت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: اس اجلاس کو فلاپ کرنے کي بہت کوشش کي گئيں اور ميڈيا نے بھي انتھک کوشش کرڈالي کہ ممالک کے سربراہ اس اجلاس ميں شريک نہ ہونے پائيں مگر وہ ملک جس کي تکيہ گاہ خدا اور دين اسلام ہے اقتصادي اور سياسي پابنديوں کے باوجود 120 ممالک کے مہمانوں کا ميزبان رہا ?

انہوں نے تاکيد کي: جوہري توانائي کے سلسلے ميں ديگر قوموں کا حقدار ہونا بھي اس اجلاس کا دوسرا پيغام تھا ، اقوام متحدہ کے جنرل سکريٹري بان کي مون کا بيان بھي کافي اھميت کا حامل رہا، جو بين الاقوامي اجلاس کے نتائج ميں شمار کيا جاتا ہے ?

اس عراقي عالم دين نے ياد دہاني کي : ناوابستہ تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کي ايران کو ميزباني اس ملک کي سياسي اور اقتصادي استقلال کا بيان گر ہے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬