23 October 2009 - 11:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 459
فونت
حجت الاسلام دعایی :
رسا نیوز ایجنسی ـ اطلاعات اخبار کے مدیر و سربراہ سولھویں نشریاتی نمائشگاہ کا جائیزہ لیا اور رسا کے اسٹال میں حاضر ہوئے ۔
حجت الاسلام دعايي

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق ، حجت‌ الاسلام سید محمود دعایی ، اطلاعات اخبار کے مدیر و سربراہ  نے سولھویں نشریاتی نمائشگاہ میں مہمان خصوصی کے عنوان سے رسا کے اسٹال میں حاضر ہوئے اور رسا کے رپورٹر نے  ان سے انٹرویو لیا ۔


انہوں نے رسا کے رپورٹر سے میڈیا میں علماء کی ذمہ داری کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا : طالب علم اور علماء حوزہ علمیہ میں چنے جاتے ہیں اس وجہ سے ھر میدان میں خاص کر ان کے اخلاق کی زیادہ توقع کی جاتی ہے ۔


اطلاعات اخبار کے مدیر و سربراہ نے بیان کیا : رسا نیوز ایجنسی سے امید کی جاتی ہے کہ سچائی ، افراد کے کرامت کی حفاظت اور اخلاقیات کا اھتمام بلند پیمانے پر قائم رکھیں ، کیونکہ یہ میڈیا خود کو اس ادارہ سے منسوب کئے ہے جو ادارہ ایک مکتب سے منسوب ہے ۔


حجت‌الاسلام دعایی نے تاکید کی : جس طرح کہ ہیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دین مبین اسلام کو بشریت کے اخلاق کی تکمیل اور اس کے احترام کی حفاظت کے لئے لائے ، شاید رسا نیوز ایجنسی بھی تمام نیوز ایجنسی کے درمیان الهی تعالیمات و مبلغ و مروج مکتب سے منسلک رہنے کے ساتھ  بهترین میڈیائی اخلاق کو تمام نیوز ایجنسی میں رائج کرنے والا ہو ۔


انہو نے اسی طرح رسا کے رپورٹر کے ، حوزہ کی ذمہ داری اور میڈیا پر منحصر  دوسرے سوال کے جواب میں خصوصا قائد انقلاب اسلامی کا یونرسیٹیوں میں علوم انسانی کے دور حاضر کے حالات اور اسلامی انقلاب کی اھمیت کے نیاد پر اس کی تبدیلی کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا : اگر ھر جگہ ھم لوگ اعتدال کی حفاظت کرینگے تو حتما سب کے سب اس پر اعتماد کرینگے اور اس سلسلہ میں حوزہ بھی اپنا نقش قائم رکھ سکتا ہے ۔


دعائی نے تصریح کی : اگر حوزہ جامع و تمام جانبہ نگاہ سے وارد ہو ، تب وہ  وقت ہوگا کہ اس زمینہ میں اس کی بات قابل قبول ہوگی اور استفادہ کے لائق ہوگی اگر نا آگھی کے ساتھ ہوگی تو کبھی بھی استفادہ کے لائق نہی ہو سکتی ہے ۔ 


قابل ذکر ہے ایران میں ڈاخلی سولھویں نشریاتی نمائشگاہ سہ شنبہ کو عصر کے وقت اسلامی ثقافتی امور کے وزیر و اس وزارت خانہ کے نشریاتی امور کے معاون کے تقریر سے شروع ہوئی ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬