08 October 2012 - 17:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4646
فونت
بحرين کے سياسي سرگرم رکن:
رسا نيوزايجنسي - بحرين کے سياسي سرگرم رکن نے سوريہ ميں مغربي دنيا کي جمھوريت اور ڈيموکراسي کے نارے اور بحرين ميں ڈيکٹيٹرحکومت کي بقا کي کوشش کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سوريہ اور بحرينيوں کے حق ميں مغربي دنيا کي پاليسياں دورخي ہيں ?
بحرين، مقاومت مظلوم کانفرنس

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي مشھد مقدس سے رپورٹ کے مطابق، بحرين کے سياسي سرگرم رکن نے گذشتہ شب ايراني قوم کي بحرينيوں کے ساتھ ھمدردي ھفتہ کے موقع پر «بحرين، مقاومت مظلوم» کے عنوان سے منعقدہ عالم اسلام کے طلباء کي نشست ميں جو مشھد ميڈيکل يونيورسٹي ميں برگزار ہوئي، انقلاب اسلامي بحرين اور سوريہ کے فرق کو بيان کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے حالات کے ساتھ مغربي دنيا کي دورخي پاليسيوں کا تذکرہ کيا اور کہا: مغربي نظام اور ان ميں سب سے پيش پيش امريکا ايک طرف اپنے منافع کي تکميل ميں بحريني ڈيکٹيٹرز کي حکومت کي بقا کے درپہ ہيں اور دوسري جانب انساني حقوق کے دفاع اور جمھوريت کے بہانے سوريہ ميں مداخلت کررہے ہيں ?

انہوں نے مزيد کہا: سوريہ حکومت کھلم کھلا سوپر پاور ممالک سے روبرو ہے مگر بحرين ميں جمھوريت کي خواھاں خود بحريني عوام سوپر پاور ممالک سے ٹکرلے رہي ہے، سوريہ ميں اس بنياد کے تحت کہ " ھدف وسيلہ کي توجيہہ کرتا ہے " متعدد گروہوں کو اسلحہ سے ليث کرديا گيا اور مغربي دنيا ھر جہت سے ان گروہوں کي حمايت ميں مصروف ہے، بحرين ميں انقلابي تحريکيوں کا کچلا جانا اور اپوزيشن گروپ پر بڑھتے ہوئے دباو کو بحريني حکومت کا مسلمہ حق سمجھتے ہيں جسے دنيا کے تمام ممالک محکوم کررہے ہيں ?

سوريہ ميں سياسي اقدام کي ممنوعيت سے ليکر بحريني انقلابيوں کے لئے مغربي دنيا کے سياسي راہ حل تک

مشميع نے تاکيد کي : سوريہ ميں مسلح گروپ کي موجودگي لازمي ہے جبکہ خود اپني دفاع ميں بحرين ميں موجود گروپ مغربي دنيا اور بحريني حکومت کے نظريہ کے تحت نابودي کے مستحق ہيں اور اس بات کوانساني حقوق و جمھوريت کے عنوان سے بيان کيا جارہا ہے، سوريہ ميں ھرقسم کا سياسي اقدام ممنوع ہے کيوں کہ يہ حمايتيں بشار اسد کے برکنار ہونے کا سبب ہيں مگر بحرين ميں ان کي کوشش مختلف ہيں اور موجودہ مسائل کے حل کا تنہا راستہ سياسي راہ حل بيان کيا جاتا ہے ?

انہوں نے موجودہ حالات ميں سوريہ اور بحرين کي سياسي لہروں کے فرق کو بيان کرتے ہوئے کہا: سعوديہ عربيہ نے بحرين کے سلسلے ميں جس سياست کو اپنايا ہے وہ ايک جنايت کارانہ قدم ہے ، جو مسجدوں اور بحريني عوام کے خون خرابے اور ڈيکٹيٹر حکومت کي بقا کا سبب ہوگا، مگر ال سعود کے ماحول اور فطرت کا تقاضہ بھي يہي ہے، جمھوريت کے بہانے سوريہ ميں مداخلت ، سوريہ کے حوالے سے مغربي ميڈيا کي رفتار اور بحريني انقلاب کے حوالے سے مغربي ميڈيا کي خاموشي، درحقيقت بحرينيوں کے ساتھ دوگانہ پاليسيوں کي بيان گر ہے ?

بحرين ميں ڈيکٹيٹر کي بقاء فقط ايک معمولي سياسي اختلاف نہيں ہے

انہوں نے تاکيد کي: يہاں تک کہ يہ انقلاب عوامي طاقت پر استوار ہے اور اس راہ ميں فقط انساني توانائيوں کو بروکار لايا جاسکتا ہے ، اس سلسلے ميں بھي ھمارے نظريات مختلف ہيں ، مگر جو قابل توجہ اور قابل اھميت ہے وہ يہ ہے کہ کسي ايسي قوم کو نہيں ڈھونڈ سکتے ، جو اپنے ملک ميں سامراجيت اور امريت کو برداشت کرسکے و نيز کسي قوم کو نہيں پاسکتے جو متعدد زيادتيوں اور اھانت کے مقابل خاموشي سے کام لے سکے ، کيوں کہ دين ان قوموں کا محور حيات ہے اور بغير دين کے زندگي ان کے لئے بے معني ہے ?

مشيمع نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ گفتگو کا کوئي موقع نہيں کيوں کہ يہ کوئي سادہ سياسي اختلاف نہيں ہے کہا: بحرين کا انقلاب رواں دواں ہے اور ھمارا اعتقاد يہ ہے کہ پيروزي بھي نزديک ہے اور ھماري عوام کا خون بہت جلد ثمر دے گا ?


تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬