08 October 2012 - 17:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4649
فونت
قائد ملت جعفريہ پاکستان:
رسا نيوزايجنسي - قائد ملت جعفريہ پاکستان سيد ساجدعلي نقوي نے اسلام کي نگاہ ميں عورت کے اکرام واحترام کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلام نے عورت کو قدر ومنزلت، عزت و تکريم عطا کي کسي اور مذھب نے نہيں دي ?
حجت الاسلام سيد ساجدعلي نقوي

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجدعلي نقوي نے کل رات پاکستان کے علاقہ ملہووالي ميں مومنين سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مشترکہ خانداني نظام دين اسلام کي اساس اور بنياد ہے جس پر اس کے ضروري تقاضوں کے مطابق عمل پيرا ہوکر ايک آئيڈيل انساني معاشرہ کي تشکيل کي جاسکتي ہے?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ دنيائے عالم کے تمام مذاہب ميں سلسلہ ازدواج لازم و ناگزير ہے تاہم دين اسلام ميں اسے منفرد و ممتاز مقام حاصل ہے کہا: تاريخ شاہد ہے کہ جو قدرومنزلت ، عزت و تکريم اور مقام عورت کو اسلام عطا کرتا ہے وہ شايد ہي کسي مذہب ميں فراہم ہو، يہي وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح ميں عورت کي رضامندي کو مقدم رکھا گويا عورت کے حقوق کو اوليت دي?

انہوں نے مزيد کہا: احاديث کے مطابق، نکاح ميں غير ضروري تاخير کي ممانعت کي گئي اور مردوں کو تاکيد کي گئي ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق ميں کوتاہي نہ برتيں اور اپنے فرائض کو پورے طور پر ادا کريں? عورت چاہے بيٹي، بيوي يا ماں ہو ہر حال ميں اس کے حقوق کا خيال رکھنا ضروري قرارديا گيا ہے ?

ملي يکجہتي کونسل پاکستان کے سينئر نائب صدر نے فلسفہ ازدواج کا تجزيہ کرتے ہوئے امير المومنين حضرت علي ابن ابي طالب عليہ السلام نے نکاح اور ازدواج کو نصف ايمان کي تکميل کا سبب قرار ديا ہے اور بقيہ نصف ايمان انسان اپنے عمل و کردار کے ذريعہ بہتر بناسکتا ہے کہا: دور جديد ميں مختلف مذاہب اور گروہ اس سوشل کنٹريکٹ کو اپني فکر اور نظريات کے مطابق ديکھتے ہيں اور آزاد معاشروں کا تصور پيش کرتے ہيں جو بے راہ روي اور مادرپدر آزاد ماحول ميں ڈھل کر تباہي و بربادي پر منتج ہوتے ہيں ليکن ہر دور ميں يہ ناقابل انکار حقيقت سامنے آئي ہے کہ مکتب اسلام ميں رائج سلسلہ ازدواج اور مشترکہ خانداني نظام ہي درحقيقت انسان اور انسانيت کي ترقي اور فلاح کي ضمانت فراہم کرتا ہے اور اس نظام کے ذريعہ انسانوں کے سماجي، معاشي اور معاشرتي مسائل کا حل پيش کرتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬