10 October 2012 - 09:12
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4658
فونت
قائد ملت جعفريہ پاکستان :
رسا نيوز ايجنسي ـ قائد ملت جعفريہ پاکستان اور ملي يکجہتي کونسل پاکستان کے مرکزي سينئر نائب صدر نے کہا ہے : ملک کي معتبر ديني و سياسي جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کي بحالي کے حوالے سے ايم ايم اے کي قيادت ميں اتفاق رائے ہوچکا ہے اور جلد ہي متحدہ مجلس عمل دوبارہ سياسي ميدان ميں قوم کي بہتر رہنمائي ميں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گي?
سيد ساجد علي نقوي

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفريہ پاکستان اور ملي يکجہتي کونسل پاکستان کے مرکزي سينئر نائب صدر علامہ سيد ساجد علي نقوي نے کہا ہے کہ ملک کي معتبر ديني و سياسي جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کي بحالي کے حوالے سے ايم ايم اے کي قيادت ميں اتفاق رائے ہوچکا ہے اور جلد ہي متحدہ مجلس عمل دوبارہ سياسي ميدان ميں قوم کي بہتر رہنمائي ميں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گي?

ان خيالات کا اظہار انہوں نے شيعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزي سيکريٹريٹ ميں مرکزي عہديداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کيا جس ميں مرکزي سينئر نائب صدر سيد وزارت حسين نقوي ايڈووکيٹ‘ سيکريٹري جنرل علامہ عارف حسين واحدي‘ ايڈيشنل سيکريٹري جنرل معظم علي بلوچ‘ مرکزي سيکريٹري ماليات علامہ مشتاق حسين ہمداني‘ مرکزي سيکريٹري اطلاعات زاہد علي اخونزادہ‘ شيعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے صدر علامہ محمد باقر نجفي‘ پنجاب کے صوبائي جنرل سيکريٹري علامہ عظمت علي‘ خيبرپختونخواہ کے صوبائي جنرل سيکريٹري وسيم اظہر ترابي بھي موجود تھے ?

علامہ ساجد نقوي نے مزيد بيان کيا : متحدہ مجلس عمل کي بحالي کے لئے اس ميں شامل سربراہان نے فيصلہ کيا ہے کہ ايم ايم اے کو بحال کر کے ايک بار پھر ملک کي اکثريتي عوام کي نمائندگي کو موثر بنايا جائے اور موجودہ سياسي بحران سے ملک کو نکالنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کيا جائے لہذا عنقريب ايم ايم اے ملک کي مذہبي و سياسي صورت حال ميں اپنا جاندار اور بھرپور رول ادا کرے گے?

علامہ ساجد نقوي نے اجلاس ميں صوبوں کي جانب سے پيش کي جانے والي رپورٹس اور تنظيمي صورت حال کا بغور جائزہ ليتے ہوئے مرکز اور صوبوں کو ہدايت کي کہ وہ تنظيمي امور کے ساتھ ساتھ سياسي سطح پر بھي عوامي رابطوں کو موثر بنائيں تاکہ آئندہ انتخابات ميں بھرپور سياسي عمل ميں اپنا فيصلہ کن کردار ادا کيا جاسکے?

اجلاس ميں دو مختلف قراردادوں کے ذريعہ امريکہ ميں بنائي جانے والي گستاخانہ فلم کو امريکہ کي واضح اسلام دشمني قرار ديتے ہوئے امريکي حکومت سے عالم اسلام سے معافي مانگنے اور فلم کے پروڈيوسر کو قرار واقعي سزا دينے کا مطالبہ کيا جبکہ وطن عزيز پاکستان ميں بڑھتي ہوئي دہشت گردي ‘ قتل و غارت اور کوئٹہ‘ کراچي اور گلگت بلتستان سميت ملک کے مختلف حصوں ميں جاري ٹارگٹ کلنگ کي بھي مذمت کي گئي اور حکومت سے في الفور دہشت گرد گروہوں کے خلاف ايکشن لينے اور سپريم کورٹ سے بھي از خود نوٹس لينے کا مطالبہ کيا گيا?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬