11 October 2012 - 14:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4663
فونت
آيت الله جوادي آملي :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : حس اور تجربہ کے ذريعہ حاصل کي گئي معرفت علم کي ابتدائي سطح ہے ، حسي اور تجربي علم و دانش سے حاصل ہوئي معرفت سے ضعيف و ابتدائي معرفت کوئي بھي نہي ہے ، جنبہ نيم تجربي ، جنبہ خلاصہ فلسفہ و کلام ، جنبہ خلاصہ عرفان اور اس کے بعد بھي شھودي علم ہے ، علم تجربي کے ذريعہ يقين کے حصول کا امکان بہت ہي کم ہو پاتا ہے ?
آيت الله جوادي آملي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے ايران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم ميں علماء و طلاب کے درميان سورہ مبارکہ قصص کي سلسلہ وار درس ميں کہا : خدا کا کلام جيسا کہ سورہ مبارکہ شوري کے ا?خر ميں بيان کيا گيا ہے يا وحي کے ذريعہ ہے يا وراي حجاب ہے يا رسول کو بھيج کر ہے اور حضرت موسي عليہ السلام کے سلسلہ ميں يہ ہے کہ انہوں نے درخت سے ا?واز سني ہے ، اس کا ظاھر يہ ہے کہ وراي حجاب سے تھا يعني درخت حجاب کي صورت ميں تھا ?

حوزہ علميہ قم ايران ميں تفسير کے معروف استاد نے کہا : خدا کے نور يا نار کا مشاھدہ اور کلام الھي کا سننا خدا کے فعل کي طرف پلٹتا ہے ، ليکن حضرت موسي عليہ السلام اربعين اور اس کے مثل کے ذريعہ سے جو چيز طلب کرتے تھے وہ اعلي مقام تھا کہ ا?واز ا?ئي «لن تراني» ، ليکن حضرت موسي عليہ السلام کي قداست و احترام تجلي کا سبب ہوا اور اس تجلي کي برکت کي وجہ سے حضرت موسي بے ہوش ہوئے ?

قرا?ن کريم کے مشہور مفسر نے بيان کيا : خوف کي دو قسم ہے ايک خدا کي طرف سے وعدہ ہے جس کي وجہ سے اس کے اولياء قيامت سے نہي ڈرتے اور دنيا ميں کامياب ہيں ، ليکن دوسرا قسم ولي خدا کي ذمہ داري ہے کہ جس کي وجہ سے وہ ھميشہ خوف و رجا ميں زندگي بسر کرتے ہيں ، «لا خوف عليهم و لا ھم يحزنون» خبر نہي ہے بلکہ جملہ خبريہ ہے کہ جو کہ داعيہ انشاء کے لئے بيان کيا گيا ہے ، اس ميں ضميمہ کرنا بھي پر سکون کي دوسري عبارت ہے لہذا حضرت جرات و سکون کے ساتھ خدا کي بارگاہ ميں جاتے ہيں کہ «يذبحون ابنائهم» ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬