13 October 2012 - 13:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4669
فونت
قائد ملت جعفريہ پاکستان :
رسا نيوزايجنسي - قائد ملت جعفريہ پاکستان نے بروايتي يوم شھادت امام رضا(ع) کے موقع پر ارسال کردہ پيغام ميں قرآن و اہل بيت سے تمسک دور حاضر کي مشکلات سے نجات واحد راستہ جانا ?
حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے بروايتي يوم شھادت امام رضا(ع) کے موقع پر ارسال کردہ پيغام ميں تاکيد کي : دور حاضر کي مشکلات و مصائب سے مقابلے اور امت مسلمہ کو درپيش مسائل کے حل کے لئے قرآن و اہل بيت کي جانب رجوع کيا جانا نہايت ضروري ہے?

اس پيغام کا تفصيلي متن يہ ہے :

اہل بيت(ع) جيسي مقدس ہستيوں کے سيرت و کردار کو نمونہ عمل قرار دے کر ہر قسم کي مشکلات و مصائب سے نبرد آزما ہوا جائے ، جيسا کہ سلسلہ امامت کے آٹھويں تاجدار حضرت امام علي موسي الرضا عليہ السلام نے جہاں اپني روحانيت اور تبليغ کے ذريعہ انفرادي اور ذاتي زندگي ميں انسانوں کي رہنمائي فرمائي وہاں طرز حکمراني اور مختصر اقتدار کے توسط سے اجتماعي ذمہ داريوں اور صحيح حکمراني کے انداز سے انسانيت کي رہنمائي کا سامان فراہم کيا آج بھي سيرت امام رضا عليہ السلام ہر انسان کے ليے مشعل راہ اور نمونہ عمل ہے?

حجت الاسلام ساجد نقوي نے کہا کہ حضرت امام رضا(ع) نے اپنے اجداد سے وديعت ہونے والے علم ، مرتبي، منزلت ، روحانيت اور عمل کے ذريعے اپنے وقت کے عام انسان، عام مسلمان اور حکمران کو رشد و ہدايت فراہم کي جس کے اثرات اس دور کے معاشرے اور ماحول ميں واضح انداز ميں مرتب ہوئے اسي رشد و ہدايت اور سچائي کي وجہ سے حکمران مجبور ہوئے کہ امام کو ولي عہدي کے ليے دعوت ديں کيونکہ عوام کي طرف سے امام(ع) کے حق ميں دبائو موجود تھا?

حجت الاسلام ساجد نقوي نے کہا : امام علي رضا(ع) نے حکمراني کو اسلام ، دين اور عوام کي خدمت کا ذريعہ سمجھا يہي وجہ ہے کہ جب انہوں نے ديکھا کہ حکمراني کے ذريعے يہ اہداف پورے نہيں ہوسکتے تو انہوں ايک لمحے کي تاخير اور انتظار کئے بغير حکومت سے عليحدگي اختيار کرلي تاکہ عوام اور خدا کے سامنے سرخرو رہ سکيں، اس عمل سے دنيا کے تمام حکمرانوں کو سبق ملتا ہے کہ وہ اقتدار کو فقط انسانيت اور اسلام کي خدمت کے ليے استعمال کريں اور اسي ہدف ميں خلوص کے ساتھ کام کريں اگر وہ يہ ہدف حاصل نہ کر سکيں تو انہيں حکومت اور حکمراني کرنے کا کوئي حق نہيں ?

حجت الاسلام ساجد نقوي نے کہا : آج بھي دنياکو وہي حالات درپيش ہيں جو امام علي رضا(ع) کے دور ميں موجود تھي، آج بھي مختلف انداز ميں آمريت ، بادشاہت اور ڈکٹيٹر شپ کا قبضہ موجود ہے، ظلم اور جبر جاري ہے ، استحصالي نظام باقي ہے، عدل و انصاف ناپيد ہے، ديني، اسلامي اور مذہبي اقدار پامال کي جا رہي ہيں، مظلوم اور محروم طبقات کو زير نگيں رکھنے کا سلسلہ جاري ہے، لہذا ان حالات ميں ہميں چاہئے کہ ہم سيرت امام علي رضا(ع) پر عمل کرکے انسانيت کو ان مسائل سے نجات دلائيں اور حقيقي اسلامي و جمہوري سسٹم، عدل و انصاف سے مزين اور ظلم و نا انصافي سے پاک معاشروں اور حکومتوں کي تشکيل ميں اپنا انفرادي اور اجتماعي کردار ادا کريں ?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬