14 October 2012 - 12:46
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4674
فونت
قائد ملت جعفريہ پاکستان :
رسا نيوز ايجنسي ـ قائد ملت جعفريہ پاکستان و ملي يکجہتي کونسل پاکستان کے سينئر نائب صدر نے درہ آدم خيل ميں ہونے والے خود کش بم دھماکے کے نتيجے ميں چودہ سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے اور متعدد کے زخمي ہونے کي شديد الفاظ ميں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردي کے تازہ لہر نے ايک مرتبہ پھر عوام کو اضطراب ميں مبتلا کردياہے ?
قائد ملت جعفريہ پاکستان

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفريہ پاکستان و ملي يکجہتي کونسل پاکستان کے سينئر نائب صدر علامہ سيد ساجد علي نقوي نے درہ آدم خيل ميں ہونے والے خود کش بم دھماکے کے نتيجے ميں چودہ سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے اور متعدد کے زخمي ہونے کي شديد الفاظ ميں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشتگردي کے تازہ لہر نے ايک مرتبہ پھر عوام کو اضطراب ميں مبتلا کرديا ہے?

سکول کي معصوم بچيوں سميت کسي بھي پاکستاني کي جان محفوظ نہيں ہے? حصول علم کي خاطر جانے والے طالب علموں، بے يارو مدد گار مسافروں اور بازاروں ميں خريد وفروخت و مساجد ميں عبادت کيلئے آنے والے سميت ہر شخص عدم تحفظ کا شکار ہے?

انہوں نے کہا : دہشتگرد سر عام دندناتے پھر رہے ہيں مگر ان کو گرفتار نہيں کيا جاتا جبکہ جن دہشتگردوں کو سپريم کورٹ نے سزا ئيں سنا دي ہيں اس پر عمل درآمد ميں بھي تاخيري حربے استعمال کيے جا رہے ہيں?

سيد ساجد علي نقوي نے تاکيد کرتے ہوئے کہا : جب تک ان سانحات کے عوام کے سامنے حقائق سے پردہ نہيں اٹھايا جاتا اور ان کي روشني ميں ٹھوس اور سنجيدہ اقدامات نہيں کئے جاتے نيز دہشتگردوں کے سرپرستوں کو بے نقاب کر کے کيفر کردار تک نہيں پہنچايا جاتا اسوقت تک ملک ميں امن و امان قائم نہيں ہو سکتا?

اس موقع پر انہوں نے درہ آدم خيل ميں خود کش حملے ميں جاں بحق ہونے والے افراد کيلئے دعائے مغفرت کي جبکہ لواحقين کيلئے صبر جميل کي بھي دعا کي جبکہ زخمي افراد کي جلد صحت يابي کيلئے بھي دعا کي?

دوسري جانب شيعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزي سيکرٹري جنرل علامہ عارف حسين واحدي نے بھي واقعہ کي شديد الفاظ ميں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کياہے کہ وہ واقعہ ميں ملوث دہشت گردوں کو فوري طور پر گرفتار کرکے انہيں کيفر کردار تک پہنچائے ?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬