23 October 2012 - 16:29
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4712
فونت
آيت الله جوادي آملي:
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : کبھي انسان ايک بيروني دشمن سے روبرو ہے اس وقت بيروني دشمن سے مقابلہ کے لئے «جزاء سيئة سيئة مثلها» ہے ليکن اندروني و اسلامي ممالک کے ساتھ ايسا نہي کرنا چاہيئے بلکہ «و يدرؤن بالحسنة السيئة» اچھائي کے ذريعہ برائي کو ختم کرنا چاہيئے ?
آيت الله جوادي آملي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله جوادي آملي نے ايران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم ميں علماء و طلاب کے درميان سورہ مبارکہ قصص کي تفسير بيان کرتے ہوئے کہا : سورہ مبارکہ کي ا?يہ ?? کے مطابق فرعون نے اپنے قوم سے خطاب کيا «يا ايها الملأ ما علمت لکم من اله غيري» ميں تمہارے لئے اپنے علاوہ کسي دوسرے خدا کو نہي جانتا ہوں ، فرعون کا دعوا يہ تھا کہ ( عدم الوجدان يدل علي عدم الوجود ) ، خداوند متعال نے سورہ يونس کے ا?يہ ?? ميں فرماتا ہے : «قل اتنبئون الله بما لايعلم في السموات و لا في‌الارض» يعني مشرکوں نے جو بات کہي خدا اس کو نہي جانتا ہے ، اگر مخلوق ايک بات کہے کہ دوسرے اسے نہ جانيں تو يہ نہ ہونے کي دليل نہي ہے ?

انہوں نے اپني گفتگو کو جاري رکھتے ہوئے کہا : فرعون کي بات سے يہ واضح نہي ہوتا ہے کہ پورے دنيا ميں وہ اپنے علاوہ کسي کو خدا نہي جانتا ہے ، فرعوں نے اس طرح کا دعوا پورے دنيا کے لئے نہي کيا ہے بلکہ اس نے اپني عوام کے لئے يہ دعوا کيا ہے اور اسي طرح موسي کے خدا کے سلسلہ ميں احتمال سے کام لے رہا ہے اور کہتا ہے «إني لأظنه من الکاذبين» ليکن ابھي تک غور کر رہا ہے ، مصر کي عوام فرعون کے خدائي کو قبول نہي کر رہي تھي بلکہ «يستضعف طائفة منهم يذبح ابناهم و يستحيي نساءهم» کے مطابق خاموشي پر مجبور تھي ، مصر کي عوام قانون کي زبردستي کي بنا پر اس کي پيروي کرتے تھے مگر وہ لوگ پت پرست بھي تھے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬