03 January 2013 - 07:09
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4961
فونت
شهيد قاضي (ره) ؛
رسا نيوز ايجنسي ـ اسلامي انقلاب کے پہلے شہيد محراب آيت اللہ قاضي نے اپني ايک کتاب حضرت امام حسين عليہ السلام کے چہلم کا جائزہ کے عنوان سے لکھي ہے اور انہوں نے ثابت کي ہے کہ امام حسين(ع) کے اهل بيت اولين چہلم کے روز کربلا ميں دوبارہ واپس آئے تھے ?
امام حسين(ع) کے اهل بيت عاشورہ کے چاليس روز بعد کربلا لوٹے تھے

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق اس وقت بعض علماء و تاريخ اسلام کے مورخوں کے درميان يہ شبہ پايا جاتا تھا کہ امام حسين(ع) کے اهل بيت واپسي ميں اولين چہلم کے روز کربلا لوٹے تھے يا نہيں ؟ اس سلسلہ ميں تين اھم نظريہ بيان کيا گيا ہے جس کو اختصار کے ساتھ آپ کي خدمت ميں پيش کي جا رہي ہے ?

بعض لوگوں کا اعتقاد اس پر ہے کہ اهل بيت امام حسين (ع) سن ?? ہجري ميں شام سے لوٹتے وقت اسي سال بيس صفر کو کربلا ميں پيغمبر اکرم (ص) کے صحابي جابر ابن عبد اللہ انصاري سے ملاقات کي اور سب لوگوں نے مل کر وہاں امام حسين عليہ السلام کي عزاداري کي کہ جس کو اولين چہلم کے عنوان سے ياد کيا جاتا ہے اور جس کي شہرت زيادہ پائي جاتي ہے ? اس قول کے طرفدار اس نظريہ پر دلائل و قرائن بھي اپنے پاس رکھتے ہيں اور مخالفين کے دلائل پر اپنے نظريہ کا جواب ديتے ہيں ?

ليکن بعض دوسرے محققين کربلا سے اهل بيت (ع) کي واپسي کے وقت جابر ابن عبد اللہ انصاري سے ملاقات کو قبول نہيں کرتے ہيں ? اس نظريہ کے مطابق چہلم کي اھميت کا رابطہ اهل بيت (ع) کي کربلا واپسي سے نہيں ہے ? استاد شہيد مرتضي مطھري بھي حماسہ حسيني کے جلد اول ميں اهل بيت (ع) کا کربلا ميں واپس آنا اور جابر ابن عبد اللہ انصاري کا ان سے ملاقات کو قبول نہيں کرتے ہيں ? اس نظريہ کے عالم دين کا کہنا يہ ہے کہ جانے اور واپس ہونے کي مدت اس طرح ہے کہ ايسا ممکن نہيں ہے کہ چاليس روز کے بعد دوبارہ کربلا واپس آئے ہوں ?

اس سلسلہ ميں بعض دوسرے لوگوں کا نظريہ يہ ہے کہ چہلم کا وجود تھا اس معني ميں کہ اهل بيت (ع) کربلا حاضر ہوئے تھے اور امام حسين عليہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار پر عزاداري بھي کي تھي ليکن اسي سال يا اس کے بعد ہوا تھا يہ معلوم نہيں ہے ?

 شہيد محراب آيت اللہ قاضي کا نظريہ 

کتاب (حضرت امام حسين عليہ السلام کے چہلم کا جائزہ) اس کے با وجود کہ اس کتاب پر علمي روح حاکم ہے يہ ايک تحقيقي کتاب ہے جس ميں اس مجاھد فقيہ نے شبہ کے جواب ميں پندرہ دليليں پيش کي ہيں کہ اسراء و خاندان مطهر حضرت سيد الشهدا (ع) اولين چہلم کے روز يعني اسي سال کربلا ميں واپس آئے تھے ?

آيت اللہ قاضي طباطبائي اس قيمتي کتاب کو لکھنے ميں کوشش کي ہے کہ تاريخي روايت پر پڑے ہوئے شبہ کے غبار کو اس سے ہٹا ديا جائے اس اعلي مقصد کے تحت خود انہوں نے بے شمار منابع و مرجع سے تمسک حاصل کيا ہے اس وجہ سے شہيد آيت‌ الله قاضي کے اس کتاب کے بعض حصہ کو علمي اور بعض دوسرے حصہ کو غير علمي کہا جا سکتا ہے ?

وہ مجاھد شہيد درايت اور علمي استحکام کے ساتھ معتبر منابع و سند پيش کرني چاہي ہے تا کہ وہ اپنا نظريہ يعني اهل بيت(ع) کي واپسي اسي سال کربلا ميں ہوئي تھي کو ثابت کريں ? شہيد آيت اللہ قاضي طباطبائي اس کتاب کے مقدمہ ميں ذکر کيا ہے کہ شيعوں کے درميان امام حسين عليہ السلام کا چہلم بيس صفر کو ہے جس کي شہرت زيادہ ہے اور عمومي طور پہ اس روز کو اهل بيت (ع) کي شام سے اسارت کي بعد کربلا ميں واپسي جانا جاتا ہے اور آئمه اهل بيت اطهار (ع) کي طرف سے اس روز مخصوص زيارت بھي بيان کي گئي ہے اور ساتويں صدي ہجري تک اماميہ علماء کي طرف سے اس موضوع پر کسي طرح کا شک يا شبہ ديکھا نہيں گيا ہے اور پہلے شخص جنہوں نے شبہ بيان کيا ہے وہ سيد اجل اعظم سيد رضي الدين علي بن طاووس حسني (قدس سره) ہيں جنہوں نے کتاب اقبال ميں بيان کيا ہے ان کے علاوہ کسي دوسروں کے سلسلہ ميں ديکھا نہيں گيا ہے ?
 
آيت الله قاضي نے وضاحت کي : جنہوں نے اواخر زمانہ ميں چہلم کے سلسلہ ميں شبہات و اشکال پر زيادہ زور ديا ہے اور اس پر ان کا اصرار بھي تھا وہ علامہ متبحر محدث حاج ميرزا حسين نوري (ره) صاحب کتاب مستدرک الوسائل ہيں کہ انہوں نے اپني کتاب «لؤلؤ مرجان» ميں جتني بھي ہو سکتي تھي اس موضوع پر کہ چہلم کے روز اسيران اھل بيت کا سن ?? ہجري ميں کربلا تشريف لانے کي نفي کي ہے ، بلکہ بہت ھمت سے کام ليا ہے اور اس کو محالات کے حد تک جانا ہے اور ان کے بعد ان کے شاگردوں نے بھي اس سلسلہ ميں اپنے استاد کي پيروي کرتے ہوئے ان امور اور اس جيسے ميں استاد سے بھي دو قدم آگے نکل گئے اور اس مسئلہ ميں شدت اختيار کر لي اور اپنے استاد و شاگردي کے تعصب ميں اپنے استاد کے نظريہ کو حقيق و واقعي ثابت کرنے کے لئے پہلے سال کے چہلم پر اسراء اھل بيت کا کربلا ميں تشريف لانے کو جھوٹا جانا ہے ?

شهيد آيت الله قاضي طباطبايي نے اپني پندرہ دليلوں کو ذکر اور شرح کرتے ہوئے اسراء اھل بيت اور امام حسين عليہ السلام کے چہلم کے سلسلہ ميں بيان کئے گئے بعض شبہات کا جواب پيش کيا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬