13 January 2013 - 16:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4995
فونت
حوزہ علميہ قم کے استاد:
رسا نيوزايجنسي – حجت ‌الاسلام حيدري کاشاني نے بائيں جانب سے شيطان کے وار کو حرام شہوتوں کے ابھارنے کا سبب جانا اور کہا: اس حملہ ميں شيطان کو کاميابي کي بہت اميديں ہيں ، اور اس حملہ سے مقابلہ کا راستہ بھي عفت و پاکدامني اور شہوت و جنسي خواہشات کو مہار کرنا ہے ?
حجت الاسلام حيدري کاشاني

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، حوزہ علميہ قم کے نامور استاد حجت ‌الاسلام حيدري کاشاني نے " خدا کي سَمت " پروگرام ميں سوره اعراف کي 16 و17 ويں ا?يت کے ذيل ميں شيطان کے چہارگانہ حملہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: سامنے سے حملہ ، قيامت کے فراموش ہونے کا سبب ہے ، اس سے مقابلہ کا راستہ موت اور قيامت کي ياد ہے ، قران کريم کي ايک پنجم ا?يتيں بھي اسي طرح کے حملات کي بيانگر ہيں ?

انہوں نے مزيد کہا: پشت سے شيطان کا حملہ ، دنيا کے عدم ثبات سے غفلت سے اور دنيا سے دلبستگي کي بنيادوں پر استوار ہے ، اور اس سے مقابلہ کا راستہ بھي دنيا کي مکمل شناخت ہے ?

حجت‌ الاسلام حيدري کاشاني نے داہني جانب سے شيطان کے حملہ کو ديني مقدسات کي بہ نسبت شک وشبہات کا ايجاد کرنا، جھوٹے عرفان کي بنيادوں ميں استحکام لانا، مومنوں ميں کے دلوں ميں بھي ديني عقائد کے سلسلہ ميں شک پيدا کرنا، جانا اور کہا: اس حملہ سے مقابلہ کا راستہ ديني معارف اسے ا?شنائي اور ديني بصيرتوں ميں افزائش ہے ، اس مرحلہ ميں معرفتوں کے حصول اور بصيرتوں کے اضافہ کے لئے خدا سے متوسل ہونا چاھئے ?

انہوں نے بيان کيا: سوره بقره کي 200 سے ليکر 203 ا?يت تک شيطان کي شناخت ، شيطاني حربے اور اس سے مقابلہ کو خدا کي ياد اور تقوي الھي بيان کيا گيا ہے ?

حجت ‌الاسلام حيدري کاشاني نے بائيں جانب سے شيطان کے وار کو حرام شہوتوں کے ابھارنے کا سبب جانا اور کہا: اس حملہ ميں شيطان کو کاميابي کي بہت اميديں ہيں ، اور اس حملہ سے مقابلہ کا راستہ بھي عفت و پاکدامني اور شہوت و نفساني خواہشات کو مہار کرنا ہے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ نفساني خواہشات کا کنٹرول عفت و پاکدامني کا حصہ ہے کہا: ان تمام کي حقيقت انسان کا اپنے اعضا و جوارح پر تسلط ہے ?

حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ کيوں جنت کے ا?ٹھ اور جھنم کے سات دروازے ہيں تاکيد کي: اس کي ايک تفسير يہ ہے کہ جھنم کے دروازے انساني ا?عضا کي عدد کے مطابق ہيں ، ا?نکھيں ، کان ، زبان ، پيٹ، شہوت ، ہاتھ اور پير، اور احکام الھي کي مخالفت بھي انہيں ميں سے کسي ايک کے ذريعہ انجام پاتي ہے ، اس سے متعلق جھنم کا دروازہ وہ شي خود کھولتي ہے ، اور جنت کے سلسلہ ميں بھي يہي کہا جاتا ہے کہ وہ بھي انساني ا?عضا کي برابر ہے ، جب بھي کسي عضو سے خدا کي اطاعت ہوتي ہے تو بہشت کا دروازہ کھل جاتا ہے ، مگر يہاں اٹھواں دروازہ نيت سے متعلق ہے ، جس کے يہ معني ہيں کہ اگر انسان نے کسي نيک کام کا ارادہ کيا تو اس کے لئے نيکياں لکھي جائيں گي اور اس نيک کام کا ثواب اس کے لئے ثبت کرديا جائے گا، مگر گناہ کے سلسلہ ميں ايسا نہيں ہے ، يعني جب بھي بندہ گناہ کا ارادہ کرے تو اس کے نامہ اعمال ميں گناہيں نہيں لکھي جائيں گي ، جو رحمت الھي کا کھلا مصداق ہے ?

حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے انساني ھدايت کے دو مخصوص راستوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: يہ دو مخصوص راستے اوپر اور نيچے کے راستے ہيں ، سني مذھب کے معروف مفسر کبير فخر رازي اوپر کے راستہ کو دعا کا راستہ اور نيچے کے راستہ کو خدا کا سجدہ جانتے ہيں ?

روايتوں ميں ا?يا ہے کہ اگر انسان خلوص دل سے دعا مانگے يا سجدہ ميں سر رکھدے تو اس کي گناہيں بخش دي جائيں گي ، لھذا اگر کوئي شيطاني وسوسوں کي بنا پر گناہوں ميں مبتلي ہو جائے اور پھر توبہ کرلے تو اس کي گناہيں بخش دي جائيں گي ، قرا?ن کريم ميں بھي ا?يا ہے کہ خداوند متعال نے فرمايا: اي پيغمبر(ص) لوگوں سے کہدو کہ اگر تمھاري دعائيں اور استغفار نہ ہوں تو خدا تم پر کيسے عنايتيں کرے ؟

انہوں نے مزيد کہا: امام صادق(ع) سے منقول حديث ميں ا?يا ہے : بندہ کي خدا سے نزديک ترين حالت وہ ہے جب بندہ حالت سجدہ ميں خدا سے دعا کرے ، کيوں کہ يہ حالت درحقيقت دونوں راستے ( اوپر اور نيچے) کو يکجا کرنے والا ہے ?

انہوں نے بيان کيا: شيطان نے خداوند متعال سے کہا کہ جب ميں انسان کو چاروں سے سمت سے اپنے وار کا نشانہ بناوں گا تو زيادہ تر لوگوں کو اپنا شاکر نہ پائے گا، در حقيقت اوپر اور نيچے کے يہ دو راستے بندہ کي شرگزاري کي تجلي گاہ ہيں ، شيطاني وسوسوں کي پيروي الھي نعمت کا کفران ہے ، چونکہ ا?عضا و جوارح انسانوں کو شيطاني پيروي اور رحمان کے احکام کي مخالفت پر ورغلاتے ہيں ، بندہ کي بندگي، شکر کے مرحلہ ميں مورد ا?زمائش قرار پاتي ہے ?

شکر گزاري کے مراحل :

حجت الاسلام حيدري نے مزيد کہا: اس کا پہلا مرتبہ ، مقام عقل ميں شکر گزاري ہے ، يعني انسان الھي نعمتوں کو پہچانے، کيوں کہ بسا اوقات شيطاني حجاب کي بنا پر الھي نعمتيں نا قابل شناخت ہوتي ہيں ، اور اس کا دوسرا مرحلہ يہ ہے کہ دل سے ان نعمتوں کا شکر ادا کرے ، يعني خدا کي بہ نسبت خاضع اور خاشع رہے ?

انہوں نے زبان سے شکر گزاري کو شکر کا تيسرا مرحلہ بيان کيا اور کہا: امام زمان(عج) سے منقول ايک روايت ميں ا?يا ہے کہ سجدہ شکر پيغمبر اسلام (ص) کي اھم سنتوں ميں سے ہے ?

حجت الاسلام حيدري کاشاني نے اپني گفتگو ميں مقام عمل ميں شکر کو شکر کا ا?خري اور بالاترين مرحلہ ديتے ہوئے کہا: خدا کي خاص عنايتيں شکر گزار انسانوں کے شامل حال ہوتي ہيں ، اور نعمتوں سے محروميت بھي کفران نعمت کي بنا پر ہوتي ہے ، جيسا کہ خداوند متعال نے قران کريم ميں فرمايا: «لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذابِي لَشَدِيدٌ ؛ اگر تم نے ميرا شکر ادا کيا تو تمھاري نعمتوں ميں اضافہ ہوگا اور اگر کفرانہ نعمت کيا تو يقينا ميرا عذاب سخت ہے ».

انہوں نے ياد دہاني کي : خدا کي اھم ترين نعمتوں ميں رحماني رھبر ہيں جو انسانوں کو شيطاني وسوسوں سے محفوظ رہنے ميں مدد کرسکيں ، خداوند متعال اپنے بندوں کا ہاتھ ان کے ہاتھوں ميں دے کر سعادتوں تک پہونچنے کا وسيلہ فراھم کرتا ہے ?

انہوں نے تاکيد کي : الھي رھبروں کي نعمت ، عظيم نعمت ہے جس کي بہ نسبت ھميں شکر گزار رہنا چاھئے ، ھم متوجہ رہيں کہ شيطان امام زمانہ (عج) سے غافل کرنے کا وسوسہ دل ميں ڈالتا ہے ?

حوزہ علميہ قم کے اس استاد نے اپني گفتگو ا?خر ميں کہا: مدينہ کے لوگوں نے کفران نعمت کا شکار ہوکر الھي نمائندہ حضرت امام حسين (ع) کي مدد نہيں کي جس کے نتيجہ ميں سن 63 ھجري ميں واقعہ ہرہ کا شکار ہوئے ، جس ميں يزيد کي فوج کے ہاتھوں مدينہ کے ھزاروں لوگ قتل عام کئے گئے اور نواميس کي حرمتيں پائمال کي گئيں ، جيسا کہ امام صادق (ع) نے فرمايا: يہ عذاب شديد وقت کے امام کي عدم شناخت اور الھي رھبروں کي نعمت سے کفران نعمت کي بنا پر تھا ، اور وہ آيت « ولئن کفرتم اني عذاب لشديد» کا مصداق قرار پائے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬