20 January 2013 - 12:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5020
فونت
آيت‌الله جوادي آملي :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت ‌الله جوادي آملي نے اس بيان کے ساتھ کہ خداوند تبارک و تعالي کي رحمت سے مايوسي کفر ہے کہا : کسي انسان کے خودشي کرنے کي وجہ يہ ہے کہ انسان کا يہ فطرت اغراض و غرائز ميں دفن ہو جاتا ہے اور انسان فطري ا?واز کو نہيں سنتا ہے ، انسان کبھي فطرت کو زندہ قبر ميں دفن کرتا ہے اور اس کي ا?واز بھي نہيں ا?تي ہے ?
آيت‌الله جوادي آملي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت ‎الله جوادي آملي نے ايران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم ميں سورہ مبارکہ عنکبوت کي ا?خري ا?يتوں کي تفسير بيان کرتے ہوئے کہا : ا?يت «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ? قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ بَلْ أَکْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» يہ لوگ نظري عقل اور عملي عقل کے مطابق عاقل نہيں ہيں ، خداوند عالم نے ا?يت نمبر ?? ميں باطن راہ سے مدد حاصل کرتے ہوئے فرمايا : تم اگر بيمار ہو تو اس کا علاج ہو يا بے وطني اور سفر ميں ہو تو کيا نا اميد ہو يا اس طرح کسي طاقت کي اميد رکھتے ہو ، اگر انسان ڈوبنے کي حالت ميں ہو تو نا اميد نہيں ہوتا ہے بلکہ اس کا دل کسي کي طرف اميد کر رہي ہے کہ وہ اقيانوس کو کنٹرول کر سکتا ہے جو با خبر بھي ہے اور قدرت والا بھي ، انسان چاہے وہ عبري زبان والا ہو يا عربي زبان والا جب ڈوبنے لگتا ہے تو وہ عليم مطلق اور قادر کي قدرت پر بھروسہ کرتا ہے کسي نے اس سلسلہ ميں انسان کو تعليم نہيں دي ہے ?

انہوں نے وضاحت کي : کسي انسان کے خودشي کرنے کي وجہ يہ ہے کہ انسان کا يہ فطرت اغراض و غرائز ميں دفن ہو جاتا ہے اور انسان فطري ا?واز کو نہيں سنتا ہے دلچسپ يہ ہے کہ انسان ايک چيز کو خاک کے اندر رکھتا ہے اور اس پر مٹي ڈالتا ہے ، يہي معني اگر تشديد ہو اور مبالغہ کي صورت ميں سامنے ا?ئے تو «دَسَّاهَا» ہوگا ، انسان کبھي فطرت کو زندہ قبر ميں ڈالتا ہے اور اس کي ا?واز نہي ا?تي ہے ، خدا کي رحمت سے مايوسي کفر ہے ، يہ کہ انسان کہے کہ کوئي نہيں ہے جو ميري مشکلات کو حل کرے يہ کفر ہے ، اگر انسان اپنے عمل سے مايوس ہو تو يہ کفر نہيں ہے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬