07 November 2009 - 20:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 524
فونت
موسم حج کے بہانے :
.


موسم حج کے بہانے :

پیغمبر زائر قبرستان بقیع

مجتبی صداقت

قبرستان بقیع:

« بقیع» ایک وسیع جگہ کا نام ہے جہاں درخت یا اسکی جڑیں ہے ، مدینے کےمسلمانوں کے قبرستان کو «بقیع» اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں«غرقد»  کے درخت تھے جسے مسلمان مردوں کے دفن کے لئے اکھاڑکرپھینکا دیا مگر «بقیع غرقد»  کا نام رہ گیا.[1] «غرقد» کا درخت ایک جنگلی درخت جو مدینہ کے اطراف ، صحراوں میں پایا جاتا تھا . [2]

پہلی فرد جو بقیع میں دفن کی گئی عثمان بن مظعون، رسول اسلام کے صحابی تھے جب ابراھیم رسول اسلام کے بیٹے نے انتقال کیا تو ان حضورکے حکم کے مطابق اپ کو عثمان بن مظعون کے بغل میں دفن کئے گئے اسکے بعد تمام مسلمانوں نے اظھار تمایل کیا کہ ایندہ اپنے مردوں کو بھی «بقیع» میں دفن کریں اس لحاظ سے ھر قبیلہ کے لئے جگہ مخصوص کی گئ .[3]

اس میں مدفون بعض شخصیتیں مندرجہ ذیل ہے:
امام حسن مجتبی ، امام سجاد ، امام باقر ، امام صادق ـ علیهم السلام ـ ، ابراھیم رسول اسلام ـ صلی الله علیه و آله ـ‌ کے بیٹے ، رقیه، ام کلثوم ، زینب رسول اسلام ـ صلی الله علیه و آله ـ‌ وان حضورکی بیویاں ، حلیمه سعدیه مادر رضاعی رسول اسلام ـ صلی الله علیه و آله ـ‌ ، فاطمه بنت اسد، عباس بن عبد المطلب، عاتکه و صفیه دختران عبد المطلب، عقیل بن ابی طالب، عبد الله بن مسعود، مالک بن انس، مقداد بن اسود، ابو سعید خدری، سعد بن معاذ، عبدالله بن جعفر، عثمان بن عفان خلیفه سوم ، ام البنین مادر قمر بنی هاشم، اسماعیل بن جعفر الصادق، شهداء احد، شهداء حرّه.[4]

بعض رویتوں کی بناء پرحضرت زهرا ـ سلام الله علیها ـ بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں .[5]

رسول اسلام ـ صلی الله علیه و آله ـ قبرستان بقیع کے زائر:
تاریخ کے ذریعہ یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ مرسل اعظم ـ صلی الله علیه و آله ـ کوشیوہ تھا کہ بقیع کی قبروں کی زیارت کو جایا کرتےتھے ان میں سے بعض یہ ہیں : 

1.عایشہ سے منقول ہے کہ مرسل اعظم (ص )کی سنت تھی کہ وہ ھراس شب میں جب اپ انکے پاس ہوا کرتے شب کے اخری حصے میں بقیع جاتے اور کہتے : «السلام علیکم دار قوم مؤمنین وأتاکم ما توعدون غدا مؤجلون وإنا إن شاء الله بکم لاحقون اللهم اغفر لأهل بقیع الغرقد»

ترجمہ : « درود ہو تم لوگوں پر کہ مومنین کے گھروں میں ارام کررہے ہواور تم لوگوں کو جس چیز کا وعدہ دیا گیا تھا وفا کردیا گیا اورھم بھی ­إنشاءاللّه ­ جلد ہی تم لوگوں سے ملیں گے خداوندا اھل بقیع کو بخش دے ».[6]  

2.عایشہ سے اس مضمون میں روایت منقول ہےکہ انہوں مرسل اعظم (ص )نے کہا : ایک شب جب پیغمبر (ص) ھمارے پاس تھے بہت منقلب تھے ان حضور نے اپنی ردا کو زمین پر رکھا اپنی نعلین مبارک کو اتار کر دونوں کوپای مبارک کے قریب رکھا اوراپنے کرتے کوبسترپر پھلادیا  کچھ دیر گزری تھی کہ اپ نے محسوس کیا کہ میں سوگئی ہوں ، پیغمر(ص) نے بہت اھستگی سے اپنی عبا کو اٹھایا اپنے جوتے پہنے اور دروازہ کھول کر باھر نکل گئے ھم نےبھی بستر چھوڑدیا اپنا کپڑا پہنا اوراپ کے پیچھے پیچھے چل دئے یہاں تک کہ پیغمبر (ص) بقیع پہونچ گئے اپ وھاں دیرتک کھڑے رہے اسکے بعد پیغمبر نے اپنے دست مبارک کو تین مرتبہ بلند کیا اور پھر لوٹ ائے تومیں بھی لوٹ ائی اور پیغمبر (ص) سے پہلے گھر پہونچ گئی مگر اپ نے محسوس کرلیا تو ھم نے بھی انکے تعقیب کی داستان سنا دی تو اپ نے بقیع کے اس سفر کی حقیقت کو یوں بیان کیا « جبرئیل ھمارے اوپرنازل ہوئے اورانھوں نے ھمیں خطاب کرکے کہا : خداوند نے تمھیں حکم دیا ہے کہ ابھی قبرستان بقیع جاو اوروہاں کےمردوں لئے استغفار کرو عایشہ نے رسول اسلام (ص) سے کہا :  «یا رسول­الله! ھم کس طرح انکے لئے کریں » تو حضرت نے فرمایا : السلام على أهل الدیار من المؤمنین والمسلمین یرحم الله المستقدمین منا والمستأخرین وإنا إن شاء الله بکم لاحقون
ترجمہ : سلام ہومؤمنین و مسلمین و خداوند کے اھل دیار پر خداوند ھمارے درمیان سے اٹھ جانے والوں اورانے والوں پر رحمت نازل کرے اورھم بھی ­إنشاءاللّه ­ جلد ہی تم لوگوں سے ملیں گے». [7]

 

3. امام صادق ـ علیه السلام ـ فرمود: « رسول خدا صلّى اللَّه علیه و آله و سلّم در هر شب جمعه با گروهى از اصحابشان به قبرستان بقیع در مدینه تشریف مى‏برد و در آنجا سه مرتبه مى‏فرمود:

السّلام علیکم یا اهل الدّیار (سلام و درود بر شما اى اهل شهرها)

و سه مرتبه مى‏فرمود: رحمکم اللَّه (خدا شما را رحمت کند)... .»[8]

4. از ابن عباس نقل شده که: رسول خدا از قبور مدینه مى‏گذشت. رو به آنها کرد و فرمود: « السلام علیکم یا أهل القبور، یغفر اللَّه لنا و لکم، أنتم سلفنا و نحن بالأثر.

درود بر شما اى اهل قبور، خدا ما و شما را بیامرزد، شما پیشگامان ما هستید و ما به دنبالتان خواهیم آمد.»[9]

5. وقتی پیامبر اکرم ـ صلی الله علیه و آله ـ مسلمانان را برای همراهى با اسامه و حضور در لشکرش دعوت می کرد بیمارى مرگ بر وجود مبارکش عارض‏ شد. چون از بیمارى خود با خبر گردید و احساس کرد که این مرض وی را از پاى درمى‏آورد دست على ـ علیه السلام ـ را گرفت و به سوی بقیع حرکت کرد. گروهى از مردم نیز به دنبال آن حضرت رفتند. پیامبر رو به همراهان کرد و فرمود:« من مأمور شده‏ام که براى آنان که در بقیع مدفونند از خدا آمرزش بخواهم.» پس آن گروه به همراه او به بقیع رفتند. به آنجا که رسیدند حضرت رسول در میان آنان ایستاد و فرمود:

« السَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَهْلَ الْقُبُورِ لِیَهْنِئْکُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِیهِ مِمَّا فِیهِ النَّاسُ أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یَتْبَعُ أَوَّلَهَا آخِرُهَا.

درود بر شما اى اهل قبور، بر شما گوارا باد آنچه اکنون در آن هستید، از آنچه مردم (یعنى زندگان) گرفتار آنند (آسوده خاطر هستید.) فتنه‏ها مانند شب هاى تاریک یکى پس از دیگرى رو آور شده است.» ‏

سپس پیامبر براى آنها استغفارى طولانى نمود... .[10]

 

-----------------------------------------------------------------------------منبع:
[1] . أبو السعادات المبارک بن محمد الجزری؛ النهایة فی غریب الحدیث والأثر،ج1، ص380؛ تحقیق : طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحی؛ المکتبة العلمیة، بیروت ، 1399ق - 1979م.
[2] . سبحانى، جعفر؛ آیین وهابیت، ص87؛ دفتر انتشارات اسلامى، قم، 1364ش.
[3] . آیین‏وهابیت ص87 .
[4] . ر. ک : جعفریان، رسول؛ آثار اسلامی مکه و مدینه، ص334 به بعد؛ نشر مشعر، ششم، تهران، 1386ش.
[5] . همان، ص339.
[6] . مسلم بن الحجاج أبو الحسین القشیری النیسابوری؛ صحیح مسلم، ج2، ص669؛ تحقیق و تعلیق : محمد فؤاد عبد الباقی، دار إحیاء التراث العربی، بیروت، [بی تا] .
[7] . صحیح مسلم،ج2، ص669.
[8] . جعفر بن محمد بن جعفر بن موسى بن مسرور بن قولویه قمى‏؛ کامل الزیارات، ص320؛ مرتضوى ، نجف، اول، 1356ق.
[9] . محمد بن عیسى أبو عیسى الترمذی السلمی؛ الجامع الصحیح سنن الترمذی (سنن ترمذی)، ج3،ص369؛ تحقیق : أحمد محمد شاکر و دیگران، دار إحیاء التراث العربی، بیروت، [بی تا] .
[10] . شیخ مفید، ابو عبد الله محمد بن محمد بن نعمان عکبرى بغدادى؛‏ الإرشاد فی معرفة حجج الله على العباد، ج1، ص181؛ کنگره شیخ مفید، قم، اول، 1413ق. به همین مضمون ن.ک: أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشیبانی ؛ مسند أحمد بن حنبل ج3، ص489؛ مؤسسة قرطبة،‌ القاهرة ، [بی تا] .

 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬