16 November 2009 - 20:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 562
فونت
رسانيوز ايجنسي- علامه فضل الله نے مسلم ممالک خصوصا ائي سي او کے ارکان اورمسلمانوں کے درميان شگاف و اختلاف کوبالفورروکنے کے خواھان ہوئے .
علامه فضل الله

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، علامه سيد محمد حسين فضل الله، لبنان کے برجستہ عالم دين اورشيعه مرجع تقليد نے گذشته روز اپنے بيانيہ ميں مسلم ممالک خصوصا ائي سي او کے ارکان بالخصوص ايران، سوريه و ترکيه کے درميان اختلاف و روابط کو چور چور ہونے اورشگاف کاايجاد ہونا سبھي کے لئے خطرہ کي گھنٹي ہےاپ نے اسے بالفورروکنے اوراس سلسلے ميں قدم اٹھائے جانے کي ھدايت کي . 

علامه فضل الله نے يھودي مذبھي رھنما (خاخام ) کے اعراب ، مسلمانوں خصوصاکم سن بچوں اورعورتوں کے قتل عام کے فتوي کے سلسلے سے فرمايا : اس فتوےکے باوجود، شرم آور ہے کہ ھم امت اسلام ميں فلاں مذھب کے ماننے والوں کےسلسلے ميں تکفيري فتوي کے شاھد ہيں .

انہوں نے ائي سي اوسے وابستہ اقتصادي ارکان کي ميٹنگ ميں غزه پٹي کي تحريم ختم کئے جانے کے سلسلے سے اقدامات نہ کئے جا نے ميں تعجب کا اظھار کرتے ہوئے کہا : ھميشہ سے زيادہ دنياےاسلام کے موجودہ حالات خطرناک ہيں اس وقت ضرورت ہے کہ  سبھي اسلامي مملک کے روابط کوبہترہونےاوراقتصادي ميدان ميں ترقي کي تلاش اور کوشش کريں

اس لبناني مرجع تقليد نے امت اسلام  کے درميان دراڑ پڑنے اور يمن کے شھرصعده ميں ايجاد شدہ مشکلات کومزيد بدتر بنانے ميں بيگانہ عناصر کي مداخلت کا تذکرہ کرتےہوئےکہا : يہ حالات اسلامي ممالک کے روابط کوبد تر کرنے کا سبب بنيں گے خصوصا اس حوالے سے کہ اس وقت سياسي مسائل نے مذبھي رنگ لے لياہے ، متعصب ميڈيا بھي اس سے سوء استفادہ کررہي ہے اوروہ اس تلاش ميں ہيں کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حالات کو اسرائيل کے حق ميں تمام کريں اوراس کے سياسي و امنيتي حالات کو بہتر کريں  

انہوں نے اس سلسلے ميں کہا : تعجب کي بات ہےکہ يھودي مذھبي رھنما عرب ، مسلمانوں خصوصا عورتوں اور بچوں کے قتل کے جواز کے سلسلے ميں کتاب لکھتے ہيں تاکہ وہ اسرائيلي فوج کي کاميابي کي بند راہيں کھول سکيں اور اس وقت سياسي پروپگنڈے اورميڈيا کے ذريعہ اسلامي ممالک پہ حملے رشد کي حالت ميں ہيں 

علامه فضل الله نے فلسطيني اورغزہ پٹي کي عوام کي نجات کے سلسلے ميں امت اسلام کے سکوت کامل سے اظهار تعجب کرتے ہوئے کہا: بدترين چيز يہ کہ اعراب اپنا منافع اورعزت، داخلي اختلافات ميں محسوس کررہے ہيں ،اعراب کي عزت کي اور اسرائيل کے لبنان و فلسطين پرروزانہ حملے کے دفاع کےسلسلے ميں کچھ بھي نہي کررہے ہيں 

انہوں نے حاليہ حالات کے سلسلے ميں ٹرکي کے مثبت نقش کا شکريہ ادا کرتے ہوئے مزيد وسيع پيمانے پر اس کشمکش کے ختم کئے جانے کي ھدايت کرتے ہوئے کہا : يہ چيز فقط ائي سي او کے ارکان کے درميان اچھے روابط اور اقتصادي رونق کو بہتر ہونے کے لئے اقتصادي پروجکٹ پر عمل درامد ہونے کي صورت ميں ممکن و ميسر ہے   

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬