19 November 2009 - 12:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 575
فونت
برجسته شیعہ لبنانی عالم نے رسا سے گفتگو میں :
رسا نیوز ایجنسی - برجسته شیعہ لبنانی عالم نےعربستان کو یمن کےساتھ بے گناہ عوام خلاف کے جنگ میں شامل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : عربستان اس حملہ کے ذریعہ علاقہ کے دیگر رقیبوں خصوصا قطرپہ سیاسی اقتدارمیں فوقیت دیکھانا چاھتا ہے
 معين الدقيق

 

حجت الاسلام و المسلمین  معین الدقیق برجسته شیعہ لبنانی عالم نے یمن کے ان حالات پرجو بہت سارے بے گناه عوام کے زخمی اور شھید ہونا کا سبب ہوا اظھار افسوس کرتے ہوئے رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے گفتگو میں کہا : اس جنگ میں عربستان کی مداخلت اور اس سے عرب ممالک کی حمایت بدترین کام ہے .

  
انہوں نے اس جنگ میں عربستان کے مداخلت اور یمن کے مسلمانوں کے قتل عام کے اسباب کو بیان کرتے ہوئےرسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے کہا: درحقیقت عربستان نے علاقےکےایک سیاسی مقابلہ کی بناء اس جنگ میں مداخلت کی ہے ، عربستان اور قطر مدتوں سے سیاسی مقابل کررہے اور عربستان چاھتا ہے کہ علاقہ میں اپنی سیاسی برتری کو ثابت کرے وہ اگر چہ مختلف میدان میں پیچھے رہ گیا ہے اورجیسا ہونا چاھئے تھا اس طرح خود کوعرب کی دنیا کےسامنے نہی پیش کرسکا .


جناب دقیق نے مزید کہا: اھم ترین سبب جو عربستان کے مداخلت کا بنا یہ ہے کہ عربستان چاھتا ہے کہ منطقہ میں خود کو ایک مقتدر اور قوی ملک جس پر علاقہ میں اعتماد کیا جاسکے ظاھر کرے.


اس لبنانی عالم  نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حوثی کا تعلق دنیاے اسلام سے ہےاورسعودی عربیہ کے بارڈر کے قریب زندگی بسر کرتے ہیں کہا: عربستان سعودی ، جمهوری اسلامی ایران سے ایک شیعہ ملک ہونے کی بناء پر مستقل مقابلہ کے میدان میں ہےاورخود کو حقیقی مد مقابل ظاھر کرنے کےلئے اس جنگ میں اتراہے .


اس استاد نے کہا: عربستان نہی چاھتاکہ شیعت کی طاقت اسکے بارڈرکے قریب رہے جس سے اس کے ملک کو ھمیشہ خطرہ لاحق رہے لھذا اس خوف سے کہ شیعہ اس کے پڑوس میں قدرت مند نہ ہوں یمن گورمنٹ کے ساتھ شیعوں کو نابود کرنے کے لئے جنگ میں اترا.


انہوں نے اس سلسلے میں کہ عربستان دنیاے اسلام کی رھبری کا مدعی ہے اورممکن ہے یہ جنگ عربی ممالک میں اسکا حقیقی چھرہ خراب کرے کہا : عرب کی عوام اکثرا اھل سنت ہے اوراس نے ھمیشہ اپنے حکام کی اندھی تقلید کی ہے، عربستان بھی اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے یہ ظاھر کرنا چاھتا ہے کہ اس نے شیعہ بلوائیوں کو نابود کردیا ہے اور اس کام سےنہ تنھا اس کی موقعیت مضبوط ہوگی بلکہ دیگر مذاھب کے مسلمانوں کے نزدیک اسکی محبوبیت میں اضافہ بھی ہوگا.
 


تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬